دبئی میں پاکستانی لڑکی اور ایشیائی باشندوں پر مشتمل جسم فروشی کا نیٹ ورک پکڑا گیا

31

دبئی : یواے ای میں پاکستانی لڑکی سمیت 3 ایشیائی باشندوں کو جسم فروشی اور انسانی سمگلنگ  کے جرم میں قید کی سزا سنادی گئی ۔ ملزمان کو تین سال کی سزا مکمل ہونے پر ملک بد ر کردیا جائے گا ۔ 

دبئی پولیس حکام کے مطابق دبئی میں مقیم ملزمہ  خاتون سترہ سالہ پاکستانی لڑکی کو نوکری کے لئے دبئی لے کر آئی تھی ۔ لڑکی کو بتایا گیا تھا کہ وہ گھریلو خادمہ کے طورپر نوکری کرے گی لیکن جب وہ دبئی پہنچی تو اس کو البرشا کے علاقے میں موجود ایک اپارٹمنٹ میں ایک اور  خاتون کے حوالے کردیا گیا ۔ 

حکام کا کہنا ہے کہ یہ خاتون اس اپارٹمنٹ میں ایک  مرد کے ساتھ مل کر جسم فروشی کا دھندہ چلا رہے تھے ۔ 

نوعمر پاکستانی لڑکی نے حکام کو بتایا کہ اس کو ہر روز  اس اپارٹمنٹ سے لے کر کسی ہوٹل میں لے جایا جاتا  اور پھر اس کو وہاں سے واپس اسی اپارٹمنٹ میں لے آتے   اس کو روزانہ ایک ہزار درہم ملتے تھے ۔ 

پولیس حکام نے ایک روز مخبری پر اپارٹمنٹ  کے آس پاس جاکر معلومات حاصل کیں جس کے بعد ایک ہوٹل میں چھاپہ مار کر دو افراد  کو  گرفتار کرلیا گیا جبکہ پاکستانی لڑکی اور خاتون کو اپارٹمنٹ سے گرفتار کیا گیا ۔ 

بتایا گیا ہے کہ تینوں ملزمان نے نوعمروں کی اسمگلنگ اور بدکاری کا دھندہ چلانے سے انکار کیا لیکن عدالت نے انہیں مجرم ٹھہرایا  اور 3 سال قید کی سزا سنائی۔

دبئی حکام کا کہنا ہے کہ سز اپوری ہونے پر  انہیں جلاوطن کردیا جائے گا جب کہ خاتون  کو طوائف کے طور پر کام کرنے پر مزید 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

تبصرے بند ہیں.