افغانستان میں ملاعبدالغنی برادر اور کابینہ کے رکن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

52

کابل :افغانستان میں عبوری نائب وزیراعظم ملاعبدالغنی برادر اور کابینہ کے رکن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے ۔ دونوں رہنماؤں میں تلخ گفتگو حکومت سازی کے معاملے پر مشاورت کے دوران ہوئی ۔

تفصیلات کے مطابق  افغانستان میں حکومت سازی کے معاملے پر طالبان کے دو سینیئر رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔طالبان ذرائع نے برطانوی نشریاتی ادارے کی پشتو سروس کو بتایا کہ طالبان کے شریک بانی اور عبوری نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر اور کابینہ کے ایک رکن کے درمیان صدارتی محل میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں ملا برادر کے منظر عام سے غائب ہوجانے کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں کہ تنظیم میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں تاہم ان کی طالبان کی جانب سے تردید کردی گئی تھی۔

تاہم اب ایک طالبان ذرائع نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ نائب وزیر اعظم ملا برادر اور وزیر برائے مہاجرین خلیل الرحمان حقانی، جو حقانی نیٹ ورک کے سرکردہ رہنما بھی ہیں، کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جب کہ صدارتی محل میں موجود دونوں رہنماؤں کے پیروکاروں نے بھی ایک دوسرے سے تکرار کی۔
قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے رکن اور جھگڑے میں ملوث رہنماؤں میں سے ایک کے قریبی شخص نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ جھگڑا گذشتہ ہفتے ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بحث طالبان کی نئی حکومت کے ڈھانچے سے متعلق شروع ہوئی کیوں کہ ملا برادر عبوری حکومت کے اسٹرکچر سے خوش نہیں تھے۔
 

 

تبصرے بند ہیں.