گھڑمس

82

”اوور مائی ڈیڈ باڈی“ ملک ریاض نے عمران خان کے خلاف گواہی دینے سے انکار کرتے ہوئے جو بیان جاری کیا ہے وہ کسی کاروباری شخصیت یا پراپرٹی ٹائیکون کا نہیں بلکہ مراد سعید یا شاندانہ گلزار کا لگتا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے یوں تو اب تک کئی غیر متوقع مزاحمتی واقعات رونما ہوچکے اور آج بھی جاری ہیں لیکن چند ایک ضرورت سے زیادہ حیران کن ہیں۔ جیسے عام انتخابات کے فوری بعد سندھ میں پیر پگارا کا بڑا جلسہ جس میں ملٹری لیڈر شپ کو خوب لتاڑا گیا۔ فنکشنل لیگ کی ایک خاتون رہنما سائرہ بانو جو زبان و بیان اور عمل سے پی ٹی آئی کی بہت شدید حامی ہیں، نے اس جلسے میں اسٹیبلشمنٹ کو ایسٹ انڈیا کمپنی سرکار سے زیادہ بے غیرت قرار دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ پیر پگارا اور ان کی پارٹی کی شناخت ہی فوج کے ساتھ مکمل فرمانبرداری کے چلنا ہے۔ عدلیہ اور فوج کے اندر سے مزاحمت ہونا زیادہ حیرت انگیز اس لئے نہیں کہ پراجیکٹ عمران ہے ہی اتنا گہرا، طویل اور بڑا کہ اسے واپس لپیٹنے کی کوشش کسی صورت آسان کام نہیں۔ بندیال دورکے کئی جج کھل کر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان میں سے بعض کے ریمارکس بالکل ویسے ہی ہوتے ہیں جیسا بیانیہ پی ٹی آئی نے اختیار کر رکھا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کے خط کو اس گریٹ گیم سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ایسے ججوں کو بلا روک ٹوک دھڑلے سے یکطرفہ ”انصاف“ بانٹتے دیکھ کر بعض غیر جانبدار جج بھی پاپولر جوڈیشل ایکٹو ازم کی طرف چل پڑے ہیں۔ پچھلے دنوں چیف جسٹس لاہور ہائی کے چیف جسٹس نے ایک تقریب میں اصل موضوع سے ہٹ کر کہا کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بج سکتی۔ حکومت ہماری عزت نہیں کرے گی تو پھر ہم سے بھی توقع نہ رکھے۔ ہم کسی ایجنسی کی بی ٹیم نہیں انہوں  نے یہاں تک کہہ دیا کہ آزاد عدلیہ کیلئے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا کردار قابل تحسین ہے۔ اس بات سے کئی لوگوں کو جھٹکا لگا کیونکہ ججز بحالی تحریک کے بعد جوڈیشل ایکٹوازم کے نام پر جو فتنہ پاکستان پر مسلط ہوا وہ سب کچھ لے کر ڈوب رہا ہے۔ افتخار چودھری کے بیٹے ارسلان کے متعلق کئی داستانیں ہیں۔ اسی افتخار چودھری نے اپنی بیٹی ایسی ہاؤسنگ سکیم کے مالک کے بیٹے سے بیاہ دی جو لوگوں کے اربوں روپے لوٹ کر مر گیا۔ افتخار چودھری نے بطور چیف جسٹس نہ صرف جمہوری نظام بلکہ ریاست کے بین الاقومی کمپنیوں سے کئے گئے معاہدوں سے متعلق الٹ پلٹ فیصلے دے کر پاکستان کو سخت نقصان پہنچایا۔ یہ افتخار چودھری ہی ہیں جو آج کسی محفل میں چلے جائیں تو لوگ فاصلہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی جوڈیشل ایکٹو ازم کے سبب آج حالات اس نہج پر آگئے ہیں کہ فوج اور عدلیہ سے ہر صورت بنا کر رکھنے والے وزیر اعظم شہباز شریف بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ججوں میں شامل چند کالی بھیڑیں عمران خان کو تمام جرائم سے بچا کر رہا کرانے پر تلی ہوئی ہیں۔ یہ بھی مذاق ہی تو ہے کہ ایک طرف ججوں سے گلہ کیا جارہا ہے دوسری جانب جیل میں عمران خان کو کھابوں، ملاقاتوں، سہولتوں سے نوازا جارہا ہے۔ یہ تو ہوگیا واقعات کا ایک حصہ، اب ذرا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ”کارناموں“ کا بھی کچھ ذکر ہوجائے۔ اگر ملک میں واقعی کوئی پائیدار نظام قائم کرنا مقصود تھا تو بلاول بھٹو اور خورشید شاہ کو یہ ڈیوٹی کس نے سونپی کہ وہ پالیسی کے طور پر ڈٹ کر اعلان کردیں کہ نواز شریف کو کسی صورت چوتھی مرتبہ وزیر اعظم نہیں بننے دیں گے۔ وہ کون سی جادو کی چھڑی تھی کہ عام انتخابات سے پہلے ایک موقع پر واضح طور پر نظر آرہا تھا کہ پیپلز پارٹی کو سائیڈ لائن کیا جا رہا ہے پھر ایسا کیا چمتکار ہوا کہ سندھ کے ساتھ بلوچستان کو انکے حوالے کرکے ایوان صدر بھی سونپ دیا گیا۔ جے یو آئی ف، باجوہ اور فیض کے بدترین جبر والے دور میں بھی پی ٹی آئی کے خلاف میدانوں، سڑکوں پر موجود رہی۔ پھر اچانک پتہ چلا کہ اسٹیبلشمنٹ کی موجودہ قیادت نے دورہ امریکہ کے بعد جے یو آئی سے رابطے ہی کاٹ لیے۔ آج اگر مولانا فضل الرحمن سخت غصے میں ہیں تو بے وجہ نہیں۔اب ایک طرف تو ان کو منانے کی کوششیں کی جارہی ہے جو فوری طور پر کامیاب نہیں ہو پا رہیں لیکن یہ بھی سنا ہے کہ مولانا کی کسی ممکنہ تحریک کو روکنے کے لیے دباؤ میں لانے کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے۔ کسی ”احمق مشیر“ کے کہنے پر مولانا کے صاحبزادے اسعد الرحمن کے خلاف نیب کوئی ریفرنس تیار کر رہا ہے۔ مولانا کے اپنے خلاف ایسی ہی حرکت اس وقت کرنے کی کوشش کی گئی جب باجوہ، فیض اور عمران کے اقتدار کا سورج سوا نیزے پر تھا۔ جے یوآئی کے کارکنوں نے اعلان کیا کہ یہ نیب کا کام نہیں اسکے پیچھے جرنیل ہیں۔ فوری طور پر کور کمانڈر ہاؤس کے سامنے دھرنے کی کال دی گئی تو نوٹس بیچ راستے میں ہی گم ہوگیا۔ اس مرحلے پر جے یو آئی کے ساتھ نیب وغیرہ کی چھیڑ چھاڑ کتنی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اسکا پتہ ایسی حرکت کرتے ہی چل جائے گا۔ایک اور لطیفہ سن لیں، وزرات اطلاعات کی ایک اہم شخصیت کچھ لوگوں سے رابطے کرکے کہہ رہی ہے کہ اگر دو یوتھیائی میڈیا ارکان کے ساتھ سیٹنگ ہو جائے تو ”آل از ویل“ ہو جائے گا۔یہ حکو متی شخصیت جن کی خدمات حاصل کرنے کے لیے مری جارہی ہے ان میں ایک پی ٹی آئی کا وہ یو ٹیوبر ہے جو نو مئی کے بعد غائب کیا گیا اور خوب دھلائی کراکے لوٹا اور اب پھر پرانا کام ہی کر رہا ہے۔ دوسرا وہ ہے جو سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والے چینل پر تھڑا ٹائپ تجزیہ کار بن کر بیٹھتا ہے۔ ایک سے زائد مرتبہ نوکری سے نکالا گیا لیکن مقتدر حلقوں سفارش کراکے پھر واپس آجاتا ہے۔ آخر وہ کون ہے جو چاہتا ہے کہ ملک سے اس گھڑمس حالات کا خاتمہ نہ ہو۔ بظاہر اسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نواز شریف نے مسلم لیگ ن کی صدارت پھر سنبھال لی۔ دیکھتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں کچھ کر پاتے ہیں یا پھر خود بھی گھڑمس کی نذر ہو جائیں گے۔

تبصرے بند ہیں.