مثبت تنقید بھی ضروری ہے

41

 

مہذب معاشروں میں عدلیہ، حکمرانی کے اہم ستون کے طور پر کام کرتی ہے، یہ قوانین کے اطلاق، انصاف کی فراہمی اور اسے برقرار رکھنے کو یقینی بناتی ہے۔ تاہم، کسی بھی اور ادارے کی طرح، یہ بھی تنقید سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اعلیٰ عدلیہ پر تنقید نہ صرف ایک حق ہے بلکہ احتساب اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے شہریوں کی ذمہ داری بھی ہے۔ بہر حال، تنقید کو جس بھی انداز میں پیش کیا جاتا ہے اس سے اس کی تاثیر اور پذیرائی نمایاں ہوتی ہے۔ لہذا ہمیں ایک بات طے کر لینی چاہیے کہ اعلیٰ عدلیہ اور دیگر اداروں کے رویوں اور فیصلوں پر تنقید تو ضرور کی جائے گی لیکن اس کا انداز شائستہ اور تعمیری ہو گا۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ماضی میں کچھ معاملات میں دیگر اداروں کی طرح ہماری اعلیٰ عدلیہ کے کردار اور رویوں پر کئی سوالیہ نشان موجود ہیں جن میں آمریت کے ادوار میں ایک خاص صورتحال سے سمجھوتا کرنا اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیا جانا یا پھر ایک خاص شخص کی سیاست کو تقویت دینے کے لیے ایک منتخب وزیر اعظم کو ناصرف نااہل کر دینا بلکہ اسے جیل بھی بھجوا نا، ایسے واقعات ہیں کہ جن میں رہ جانے والے سقم کو خود اعلیٰ عدلیہ کے معزز جج صاحبان نے بھی تسلیم بھی کیا ہے۔
ویسے تو عدلیہ سے متعلق جس معاملہ نے اس وقت ایک بحران کی سی صورتحال اختیار کر لی ہے اس کا آغاز اسلام آباد ہائیکورٹ کے کچھ جج صاحبان کی جانب انٹیلیجنس اداروں کے خلاف چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے گئے ایک خط سے ہوا لیکن اس نے بعد ازاں ایسی صورتحال اختیار کر لی کہ کچھ سیاستدان بھی اس معاملہ میں کود پڑے۔ اور اب بات سیاسی بیانات، وضاحتوں اور از خود نوٹس تک جا پہنچی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں اور رویوں پر تنقید کرنے پر تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن ایسا کرنے سے پہلے ہمیں ان کے کردار اور ذمہ داریوں کو بھی سمجھنا چاہیے۔ یہ لوگ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے آئین اور قوانین کی تشریح کرتے ہیں، آئینی اصولوں کی حفاظت کرتے ہے، اور ایگزیکٹو اور قانون سازی کے معاملات پر ایک چیک کے طور پر کام کرتے ہے۔ ان کے فیصلے اکثر مثالیں قائم کرتے ہیں۔
تنقید، جب شائستگی سے کی جاتی ہے، تو عدلیہ اور عوام کے درمیان ایک صحت مند مکالمے کو فروغ دیتی ہے۔ تنقید میں شائستگی بامعنی گفتگو کی راہیں کھولتی ہے، جس سے عدلیہ کے اندر خود شناسی اور بہتری کی گنجائش پیدا ہو نے کے امکانات بھی روشن ہوتے ہیں۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہمارا یہ عمل احترام کی حدود سے باہر نہ نکل جائے۔ اس کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ پر تنقید کرتے وقت ہمیں اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ ہمارے اس عمل سے عدلیہ کے اندر بیٹھے ہوئے افراد کے بجائے فیصلوں، پالیسیوں یا طریقہ کار کو نشانہ بنایا جائے۔ ذاتی حملے مسائل کرسکتے ہیں اور اصل بات سے توجہ ہٹا سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں ہم نے دیکھا کہ عدلیہ پر تنقید کرنے والے تقریباً تمام ہی افراد (جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کے علاوہ) پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ انہیں چاہیے کہ پریس کانفرنسیں کرنے کے بجائے ان معاملات جن پر انہیں اعتراض ہے قانون سازی کی کوشش کریں یا تنقید کے ساتھ کم از کم کچھ تجاویز یا متبادل طریقہ کار تو ضرور پیش کریں۔بات جب بھی معزز عدلیہ یا ملک کے کسی بھی اہم ادارے کی ہو تو اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ احترام والی زبان اور دشمنی سے خالی لہجہ استعمال کیا جائے اور اشتعال انگیز بیان بازی سے پرہیز کیا جائے۔ ماضی میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح ایک سیاسی جماعت اپنے لیڈر کے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ملک کے اہم دفاعی ادارے پر حملہ آور ہو گئی۔ اس کے نتیجہ میں نہ صرف مذکورہ جماعت کو سیاسی طور پر بہت نقصان ہوا بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی بالخصوص ایسے ممالک جو پاکستان کے لیے اچھے جذبات نہیں رکھتے میں اسی صورتحال کی باقاعدہ خوشی منائی گئیں۔
اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے کئے گئے تمام ہی فیصلے ہمیں پسند آنا یا ان کا ہمارے ذہن اور سوچ سے مطابقت رکھنا ضروری نہیں۔ ایسی صورتحال میں کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنے اعتراضات اور شکایات کے اظہار کے لیے قانونی راستے تلاش کریں۔ درخواستیں، اپیلیں، یا مفاد عامہ کی قانونی چارہ جوئی ایسے طریقے ہیں کہ جن کے ذریعے کوئی بھی شہری عدلیہ کے ساتھ تعمیری طور پر منسلک رہ سکتا ہے۔
ہمارامیڈیا اور سول سوسائٹی بھی عدلیہ کے ارد گرد ہونے والی عوامی گفتگو کو کنٹرول میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تو چونکہ کسی نہ کسی حد تک ایک ضابطہ اخلاق کے پابند ہیں ان لیے ان سے امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی تمام تر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں سنسنی خیزی یا تعصب سے پاک ہو کر منصفانہ طریقے سے ادا کریں گے۔لیکن شائد مادر پدر آزاد سوشل میڈیا معاشرے میں بے چینی، غلط فہمیاں اور نفرتیں پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اسے ریگولیٹ کرنے کے لیے موثر انداز میں کوئی بھی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ ہاں البتہ سول سوسائٹی کی تنظیمیں آگاہی مہموں، عوامی فورمز اور وکالت کے اقدامات کے ذریعے شہریوں اور عدلیہ کے درمیان تعمیری رابطے کو آسان بنا نے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اعلیٰ عدلیہ سمیت کسی بھی اہم ادارے کے کام کاج پر تنقید کوئی ایسی بری بات نہیں۔ تاہم تنقید کو جس انداز میں بیان کیا جاتا ہے وہ اس کے اثرات، افادیت اور اس کے پیچھے کارفرما ذہنیت کا تعین کرتا ہے۔ بلا شبہ مثبت تنقید عدلیہ اور دیگر اداروں کے اندر احتساب، شفافیت اور مسلسل بہتری کے کلچر کو فروغ دے سکتی ہے۔ اسی لیے میڈیا اور سول سوسائٹی پر لازم ہے کہ وہ اصل ایشوز پر توجہ مرکوز رکھیں، تعمیری آراء فراہم کریں اور کسی بھی قسم کے مقالمہ میں احترام کے عنصر کو ہر گز نظر انداز نہ کریں تاکہ وہ ایک مضبوط اور جوابدہ عدالتی نظام کے ارتقا میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

تبصرے بند ہیں.