ریلیف مل سکتا ہے معافی نہیں

66

میرے خیال میں دشمنی یا مخالفت کو نبھانے کے تین طریقے ہو سکتے ہیں۔ پہلا اور ایک نامناسب طریقہ تو یہ ہے کہ اپنے مخالف سے موقع ملتے ہی بدلہ لیا جائے۔ یہ طریقہ کار زیادہ تر ان جگہوں پر استعمال ہوتا ہے جہاں آپ کی حیثیت اپنے مخالف کے برابر ہو یا اس سے برتر ہو۔ اس کے علاوہ تنگ آمد بجنگ آمد کی صورتحال میں بھی یہ فارمولہ قابل عمل ہو سکتا ہے۔ دوسری صورت میں آپ فی سبیل اللہ یا کسی مفاد کے پیش نظر اپنے مخالف کو معاف کر دیتے ہیں۔ یہ صورتحال زیادہ تر اس وقت درپیش ہوتی ہے جب آپ یا تو اپنے مخالفین سے کمزور ہوں، سماجی دباو میں ہوں اور یا پھر ضرورت سے زیادہ خوف خدا آپ کے دل میں بسا ہوا ہو۔

تیسری صورتحال خاصی دلچسپ ہوتی ہے۔ یہ صورتحال آپ کی سماجی حیثیت کو جاننے کی متقاضی نہیں۔ اس کے تحت آپ اپنے دشمن یا مخالف سے بدلہ لینے کی پوزیشن میں ہونے کے باوجود ایسا نہیں کرتے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ اسے معاف بھی نہیں کرتے۔

ہماری اسٹیبلشمنٹ جس پر ملکی سیاست میں براہ راست اور بالواسطہ ملوث ہونے کا الزام لگتا رہتا ہے زیادہ تر پہلے اور تیسر ے فارمولہ پر عمل پیرا نظر آتی ہے۔ اگر اس وقت کے حالات کو دیکھا جائے تو شائد زیادہ تر تیسری بات پر ہی عملدرآمد ہو رہا ہے۔ نواز شریف جلاوطنی کاٹ کر وطن واپس آ چکے ہیں اور تمام تر خواہش اور پراپیگنڈہ کے باوجود انہیں چوتھی بار وزیر اعظم بننے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ویسے تو اس کی وجوہات سیاسی بیان کی جاتی ہیں لیکن بعض تجزیہ کار اس صورتحال کو کسی اور زاویے سے بھی دیکھتے ہیں۔

اسی طرح مولانا فضل الرحمن جتنی مرضی سخت گفتگو کریں یا رویہ اپنائیں وہ زیرعتاب نہیں آتے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ایک انڈرسٹینڈنگ کے باوجود انہیں صدر مملکت نہیں بنایا جاتا یا پھر اسمبلی میں ان کی پارٹی کو ملنے والی سیٹوں کا تناسب ان کی امیدوں کے مطابق نہیں رہتا۔

اس سلسلہ کی تیسری اور اہم ترین مثال عمران خان اور اس کی پارٹی کے دیگر راہنماؤں کی ہے۔
عمران خان اور اس کی پارٹی کے دیگر راہنماؤں کے بارے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے بھر پور انداز میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ ان کے ساتھ بہت زیادتی ہو رہی ہے اور ان کا بہت استحصال ہو رہا ہے۔ ممکن ہے کسی حد تک کوئی ایسی بات ہو بھی لیکن جتنا شور و غوغا کیا جا رہا ہے معاملہ اتنا بھی سنگین یا پیچیدہ نہیں ہے۔ یعنی یہ تاثر کہ پاکستان تحریک انصاف کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے یا اس کے راہنماؤں کے خلاف کوئی انتہا درجے کی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے بالکل ہی غلط ہے۔ اس کی بڑی مثال یہ ہے کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے قائدین کے سانحہ نو مئی جیسی سنگین واردات میں براہ راست ملوث ہونے کے باوجود انہیں جیل میں انہیں تمام تر سہولیات اور آسائشیں میسر ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ ضمانتیں بھی حاصل کرتے جا رہے ہیں۔ مسٹر عمران خان کی ہی مثال لے لی جائے تو گزشتہ روز ہی ایک انتہائی اہم مقدمہ میں ان کی ضمانت منظور کی گئی ہے اور ایک میں تو انہیں بری ہی کر دیا گیا ہے۔ اس صورتحال سے اس تاثر کو تو ضرور تقویت ملتی ہی کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین اگر کسی مشکل صورتحال کا شکار تھے بھی تو انہیں ریلیف ملنا شروع ہو گیا ہے۔ اگر بات کچھ ریلیف اور ضمانتوں کی ہے تب تو ان کے پارٹی کارکنان اور ساتھی اس بات پر خوشیاں منانے میں حق بجانب ہیں، لیکن اگر ان کی سوچ اس سے آگے یعنی حکومت وغیرہ کا حصہ بننے تک جا رہی ہے تو انہیں فوری طور پر بریکوں کا استعمال کر لینا چاہیے۔ کیونکہ انہیں معلوم ہو یا نہ ہو کہ طاقت ور حلقوں کی ایک عادت اور روائت بہت پکی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ لوگ کسی کے خلاف کارروائی بے شک کریں یا نہ کریں اور اگر کریں بھی تو نرمی کے ساتھ، لیکن ان کی کتاب میں اتنی جلدی معافی کاورقہ سرے سے ہے ہی نہیں۔

جمعیت علما اسلام کے راہنماحافظ حمد اللہ صاحب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی والوں کو کسی نہ کسی حد تک معافی مل چکی ہے (اس سے زیادہ شائد فی الحال ممکن بھی نہ ہو)۔ گزشتہ روز ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی سیاست سے مکمل طور پر مائنس نہیں ہوئے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو ایک ایسا شخص جس پر درجن بھر سنگین نوعیت کے مقدمات ہیں وہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بن کر نہ بیٹھا ہوتا اور عدالتیں اسے ضمانتیں اور حاضری سے استثنیٰ نہ دے رہی ہوتیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں کے لیے کچھ نرم گوشے اور مثبت اشارے موجود تو ضرور ہیں لیکن ان کو سامنے آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ جہاں تک حافظ حمد اللہ صاحب کی نرم گوشے اور مثبت اشارے والی بات ہے تو اس سے تو سو فیصد اتفاق کیا جا سکتا ہے لیکن اگر ان کا اشارہ یہ ہے کہ ان کو کسی بھی طور حکومت کا حصہ بنا دیا جائے گا تو شائد پی ٹی آئی کی حد تک تو یہ ممکن ہو جائے لیکن عمران خان کے لیے تو ایسا کسی بھی طور ممکن نہیں۔ یعنی عمران خان کو ریلیف تو ملنا شروع ہو گیا ہے ممکن ہے کل کو اسے جیل سے رہائی بھی حاصل ہو جائے لیکن جو خواب اسکی سیاست کا محور رہا ہے یعنی حکومت کا حصول وہ شائد اب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔

تبصرے بند ہیں.