عوام دوست پولیس

17

عوام دوست پولیس کسی بھی مہذب اور فلاحی ریاست کے ماتھے کا جھومر ہوتی ہے۔ عوام اور پولیس ایک دوسرے سے دوستانہ طور پر منسلک ہوتے ہیں۔لوگ چھوٹے سے چھوٹے معاملہ میں پولیس کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں جو احساس، ہمدردی اور خلوص کے ساتھ ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش بروئے کا ر لاتی ہے۔ عوام الناس جب اپنے روزمرہ مسائل کے قانونی حل اور مدد کے لیے پولیس سے رجوع کرتے ہیںتو ایسے میں پولیس کا رویہ، انداز، طریقہ کار، پیشہ ورانہ اہلیت اور معاملات سے عہدہ بر آ ہونے صلاحیت بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔تاہم اسلامی ریاست ہونے کے باوجود ہمارے ملک میں ایسانہیں ہے۔ تاریخ پاکستان کا کوئی دور بھی ایسا نظر نہیں آتا کہ جس میں عوام اور پولیس ایک صفحے پر موجود ہوں۔انگریز کے وضع کردہ نظام انصاف و انصرام میں پولیس کا روائتی کردار ہی سامنے آتا ہے جس میں عوام اور پولیس کے درمیان ہمیشہ سے ایک فاصلہ، اجنبیت، بداعتمادی اور خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے۔ حالانکہ محکمہ پولیس اور تفتیشی افسران کا مقدمات اور ان کی تفتیش کامقصد مظلوموں کے حق میں،ان کے ساتھ کھڑا ہونا اور مجرموں اور ظالموں کے خلاف صف آرا ہونا شامل ہے لیکن عملاً اس سفر میں بہت کچھ تشنہ ہے۔ عمومی طور پر عوام کو ہمیشہ سے پولیس سے: 1۔ حکمرانہ انداز، 2۔ آمرانہ سوچ، 3۔ مقدما ت کے اندراج میں تاخیر، 4۔ درخواست برائے اندراج مقدمہ کی وصولی میں تاخیر /انکار /فرضی وصولی پسند نا پسند پر مبنی دفعات لگانا، 5۔ اپنی مرضی سے تحریر استغاثہ لکھنا/لکھوانا، 6۔ کانسٹیبل سے لے کر محرر اور محرر سے لے کر ایس ایچ او کا رویہ، 7۔ عدم تعاون، 8۔ خراب رویہ، 9۔ اندراج مقدمہ کے سلسلہ میں پیسے طلب کرنا اور خواہ مخواہ کی تاخیر عمل میں لانا، 10۔ اعلیٰ پولیس افسران سے شنوائی نہ ہونا، 11۔ لوگوں کو مقدمات میںبے گناہ ملوث کرنا، 12۔ مجرموں اور جرائم کی سرپرستی کرنا، 13۔ مدعی اور ملزم دونوں سے پیسے لینا، 14۔ پیسے لے کر ملزمان کو چھوڑ دینا، 15۔ ریکوری کا مال اور پیسے غبن کر جانا ، 16۔پیسے لے کر ناجائز کاموں اور قبضہ مافیا کی سرپرستی کرنا، 17۔ ملزمان پر بہت زیادہ تشدد کرنا، 18۔ دفعہ 54کے تحت لوگوں کو بلاوجہ تنگ کرنا، 19۔ بغیر گرفتاری ڈالے لوگوں کو تھانہ میں محبوس رکھنا، 20۔ بعض پولیس افسران کے نجی ٹارچر سیل ہونا، 21۔ ظالموں کے بجائے مظلوموں پر رعب جمانا، 22۔ پولیس کے روبرو گناہ گاری اور بے گناہی کا کوئی معیار نہ ہونا، 23۔ بعض پولیس ملازمین کاچورو ں، ڈاکوئوں، رسہ گیروں اور مجرموں کا ساتھ دینا، 24۔ ناکوں پر عوام کو خواہ مخواہ تنگ کرنا اور پیسے بٹورنا، 25۔ بے گناہوں /غریبوں کو پکڑ کر ”اپنی فگر اور کارکردگی“ ظاہر کرنے کے لیے ان پر منشیات اور چوری و ڈکیتی وغیرہ جیسے مقدمات درج کرنا، 26۔ جھوٹے پولیس مقابلے کرنا، 27۔ خود قانون شکنی کرنا ، 28۔چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر نا، 29۔تفتیش میں جانبداری برتنا، 30۔ اختیارات کا ناجائز استعمال کرنا، 31۔ لوگوں کے ساتھ گفتگو میں بدکلامی کرنا ، 32۔ پولیس کے رویہ سے مجرم اور جرائم کا پیدا ہونا، 33۔ پولیس کے خوف کی وجہ سے لوگوں کاتھانوں کا رخ نہ کرنا اور 34۔ دوسروں کی عزت نفس کو مجروح کرنا جیسی بہت سی شکایات شامل ہیں۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اکیلا تفتیشی آفیسر اس ساری صورت حال کا ذمہ دار ہے، کیا عوام اپنی ذمہ داری پوری طرح سے ادا کر رہے ہیں۔۔؟کیا پراسیکیوشن کی طرف سے اسے سدا ہی راستہ صاف اور ہموار ملتاہے ۔۔؟کیا عدالتی تناظر میں اسے مشکلات کا سامنا نہیں ہے۔۔؟ کیا اپنے ہی ڈیپارٹمنٹ میں اسے ہر شے آئیڈیل ملتی ہے۔۔ ؟کیا معاشرتی طورپر جملہ عناصر اپنا اپنا کام مناسب طور پر کر رہے ہیں۔۔؟ کیا اسے کبھی ،کسی بھی طور ،کسی بھی جگہ پر دلی طور پر ویلکم کیا جاتاہے۔۔؟ ان سب کے علاوہ کیااپنے ہی تھانہ میں اس کو ہرشے مثالی ملتی ہے۔۔؟ اس کا جواب یقینا نہیں ہے ۔۔۔! اپنی اپنی جگہ سب قصور وار ہیں ۔ عوام کی طرف سے جھوٹے مقدمات کے اندراج اور ان میں بے گناہ لوگوں کو ملوث کرنے کے جائز و ناجائز ہتھکنڈوں سے لے کر، اس خرابی میں بہت سے سیاسی، انتظامی، انصرامی، معاشی، معاشرتی اور تعلیمی عوامل بھی شامل ہیں مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم بہتری کا عمل ہی شروع نہ کر یں، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں، ایک دن محکمہ سے ریٹائر ہوجائیں یا زندگی ہمیں ریٹائر کر دے اور خاک میں مل کر خاک ہوجائیں۔ اگر زیر ہے تو زبر بھی ہے،زبر ہے تو پیش بھی ہے علاوہ ازیںہمزہ ،جزم ،مد اور شد وغیرہ بھی ہیں، یہی فطرت کا حسن ہے۔ اسی طرح سے ہر طرح اور مزاج کے لوگ، ہر جگہ موجود ہیں ۔روشنی اور تاریکی کے سفر میں ہمیں بہرحال تطہیر کے عمل کو پورا کر نا ہے اور ہر صورت اپنا کر دار ادا کرنا ہے۔ ان سب عوامل کی کھوج لگا کر ان کو دور کر نا ہے اور بہتری کا عمل شروع کر نا ہے۔ کیونکہ علم والے اور بے علم کبھی برابر نہیں ہوسکتے ۔عمل والے اور بے عمل کبھی ہم سر نہیں ہو سکتے۔ ایمان دار اور بے ایمان کبھی ترازوکے ایک پلڑے میں نہیں تولے جا سکتے۔ پیشہ ورانہ اہلیت کے حامل افراد اور غیر تربیت یافتہ اور ڈنگ ٹپائو پالیسی کے حامل افراد کے درمیان ایک حد فاصل ہمیشہ قائم رہتی ہے ۔جیسا کہ علامہ اقبال کا فرمان ہے:
پرواز ہے دونوں کی ا سی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

اس میں کچھ شک نہیں کہ ایک تفتیشی افسرلاتعداد طریقوں سے آنے والے غیر معمولی دبائو کو برداشت کرتا ہے اوراپنی اپنی جگہ پر سب کو ڈیل کرتا ہے تاہم اپنے فرائض منصبی خلوص نیت سے ادا کرنے والوں کی جسمانی حرکات ،چہر ے کی رونق ،جسم کی پھرتی ،انداز و اطوار میں شائستگی،آنکھوں میں ذہانت کی چمک اور مزاج میں گرمجوشی کا حسین امتزاج بذات خود ان کے عمال کا گواہ ہوتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ”رویہ بدلنے سے زندگی بدل جاتی ہے“، ”ایک کیس کسی کو ممتاز کر سکتا ہے‘‘، ’’ایک اچھامشورہ کسی کی زندگی میں بہار لاسکتا ہے ‘‘ ، ’’ایک پاکیزہ جذبہ کسی کو محترم کر سکتا ہے“، ”فقط ایک قدم انسانیت کا ترجمان بن سکتاہے“، ”ایک نرم بول سرفرازی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے“۔۔۔

عقل اور صلاحیت کی کوئی حد نہیں، خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے، ایک سے دوسرا تقویت پاتا ہے، ہر اینٹ دوسری اینٹ کو سہارا دیتی ہے تب کہیں جا کر دیوار بنتی ہے۔ اصولی طورپر ماحول ایسا ہونا چاہیے کہ بے ایمان ڈھونڈنے چلے تو اسے اپنی بے ایمانی کے فروغ کے لیے تفتیشی، نہ پراسیکیوٹر، جج نہ وکیل، مشیر نہ وزیر اور نہ کوئی اور ملے۔ نتیجتاً اس کا جرم اپنی موت آپ مر جائے ۔! جب چور سے چوری کا مال خریدنے والا ہی کوئی نہ ہوگا تو چور چوری کا مال لے کر کہاں جائے گا۔سب نے اپنا اپنا کام کر نا ہے اور اپنے حصے کی شمع روشن کر نا ہے تو ہی بات بنے گی۔عوام کے ساتھ پولیس افسران اور دوسرے تمام انتظامی افسران و اہلکاران کو اپنا اپنا محاسبہ کرنے اور اپنی اپنی خود کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ انجام کے اعتبار سے جب سب اپنے اپنے دوست بنیں گے تو عوام دوست پولیس خود بخود وجود میں آ جائے گی۔

تبصرے بند ہیں.