9 مئی سانحے کا ذمہ دار انتشاری ٹولہ اور قومی سلامتی

20

9 مئی 2024 گزر گیا، یہ ایک سیاہ دن تھا۔ سانحہ 2023 کی یاد کا دن تھا، گزر گیا۔ مَیں اس سانحہ عظیم کے ایک پارٹ کا عینی شاہد ہوں، میں نے اس گھنائونی سازش کے ایک اہم ایکٹ کو رونما ہوتے دیکھا جناح ہائوس جو ہمارے بابائے قوم کے نام سے ہی منسوب نہیں ہے بلکہ ان کی جائیداد ہے جسے انہوں نے اپنی ذاتی کمائی سے خریدا تھا جناح ہائوس ہماری سرحدوں کے پاسبان، کور کمانڈر کی سرکاری رہائش گاہ تھی یہ کسی سرکاری دفتر کے بابو یا بابے کی رہائش گاہ نہیں بلکہ دشمن پر لرزہ طاری کرنے والے ہمارے بہادر سپوتوں کے سربراہ کور کمانڈر کا سرکاری گھر تھا۔ ہمارے ملک کی حفاظت کرنے والے دشمنوں کو کھٹکنے والے فوجی کمانڈر کا گھر تھا۔ ہماری طاقت و عظمت کا رہائشی نشان جسے 9 مئی 2023 کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق اسے ذلیل و خوار کیا گیا، اس پر حملہ آور ہوا گیا، اسے نذرآتش کر دیا گیا اسے جلا کر راکھ بنا دیا گیا۔ اس پر ایسے حملہ کیا گیا جیسے یہ کسی دشمن کی رہائش گاہ ہو، اس پر ایسے دھاوا بولا گیا جیسے کسی دشمن کی پوسٹ کو فتح کیا جا رہا ہو۔ میں نے اول تا آخر اس سانحہ عظیم کو دیکھا۔ ایک صحافی کے طور پر، ایک پاکستانی کے طور پر، ایک شہری کے طور پر چار ساڑھے چار گھنٹوں تک جاری اس ڈرامہ قبیح کو دیکھا۔ کور کمانڈر ہائوس کے مین گیٹ والے چوک میں سٹیج لگایا گیا تھا۔ اشرار گرجا چوک کی طرف سے، صدر گول چکر والی روڈ کی طرف سے، راحت بیکری کی طرف سے بڑے منظم انداز میں آگے بڑھتے دیکھے، گروہ در گروہ آنے والوں میں ٹین ایجر نوجوان لڑکے لڑکیوں سمیت جوان اور ادھیڑ عمر انکلز اور آنٹیاں بھی شامل دیکھیں۔ دیندار قسم کی برقع پوش لڑکیاں اور آنٹیاں بھی مصروف کار دیکھیں۔ کئی خاندان بھی دیکھے جس میں امی، ابو، دادا، دادی اور بیٹے بیٹیاں وغیرہم بھی شامل تھے۔ وہ ایک طے کردہ منظم انداز میں متحرک تھے۔ نوجوان بڑے منظم انداز میںٹھنڈے پانی کی بوتلیں تقسیم کرتے نظر آئے۔ میں شرکا کے ساتھ چل پھر کر گفتگو کر رہا تھا۔ میں انہیں حلیے سے ان کا ہم خیال نظر آ رہا تھا۔ دراصل میں ایک نجی ٹی وی چینل پر اپنا ہفتہ وار ٹاک شو ریکارڈ کرانے کے بعد اپنے گھر عسکری 9 واپس جا رہا تھا کہ ان لوگوں سے مڈبھیڑ ہو گئی کیونکہ میں ریکارڈنگ کرا کے آ رہا تھا اس لئے لباس ذرا انکلز والا ہی تھا انہیں لگا کہ میں بھی ان کا ہم جماعت ہوں اس لئے وہ مجھ سے انتہائی شفقت سے، کھل کھلا کر گفتگو کرتے رہے۔ برقع پوش خواتین کو دیکھ کر لگتا تھا کہ یہ باپردہ بچیاں اور خواتین تحریکی نہیں ہیں جماعت اسلامی کی خواتین ہیں اور نوجوانوں کو مصروف کار دیکھ کر لگتا تھا کہ یہ نوجوان شاید جمعیت کے نوجوان ہیں جو اس قدر تحریکی جذبے کے ساتھ شرکا جلوس کی معاونت اور رہنمائی کر رہے ہیں۔ ویسے عمران خان کے شیدائی، انصافی یوتھیے جب یہ کہتے ہیں کہ ’’خان نہیں تو پاکستان نہیں‘‘ تو ان کے اس مشن کی حرکیات سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آتی ہے عمران خان ایک فتنہ ہے داعش کے ابوبکر البغدادی کی طرح فتنہ عظیم ہے جو عربوں میں جنگ و جدل اور قتل و غارت گری کے لئے امریکی سی آئی اے نے تخلیق کیا بالکل اسی طرح عمران خان ایک فتنہ ہے جسے یہود نے تخلیق کیا ہے عمران خان اور اس کی تحریک انصاف کے بارے میں یہ بات اہل نظر کو روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ یہ فتنہ عظیم ہے جو پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کے لئے میدان عمل میں اتارا گیا ہے پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے ففتھ جنریشن وار دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری ہے جس کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے مملکت کے تمام شعبوں کو افراتفری کا شکار کر دیا گیا ہے اب دشمنوں کا اصل ہدف پاکستان کی مسلح افواج ہیں کیونکہ ہمارے ہاں اب یہی ایک ادارہ بچا ہوا ہے جو مملکت کی فکری، نظری اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے دشمن کو پتا ہے کہ جب تک یہ ادارہ قائم ہے، مضبوط ہے، موثر ہے اس وقت تک پاکستان کو کمزور نہیں کیا جا سکتا ہے پاکستان کو ہندوستان کی سپرمیسی ماننے پر آمادہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خطے میں بھارت کی چودھراہٹ قائم نہیں ہو سکتی ہے، چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکا نہیں جا سکتا ہے۔ باقی جہاں تک سیاسی اداروں اور دیگر ریاستی اداروں کا تعلق ہے انہیں زیرمنقار لانا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے عمرانی فتنہ ان اداروں تک سرایت کر چکا ہے معاشرے میں انتشار اور افتراق کے صرف بیج ہی نہیں بوئے گئے ہیں بلکہ وہ اب تناور درخت بن چکے ہیں۔ آخری ہدف کے طور پر فوج کو نشانے پر لیا جا چکا ہے 9 مئی 2023 اسی سازش کی حکمت عملی کا نتیجہ تھی اور یہ حکمت عملی ابھی تک بروئے کار اور بروئے عمل ہے۔ عمران خان ابھی تک ایک بپھرے ہوئے، شکست خوردہ رہنما کے طور پر جھوٹ در جھوٹ کے سہارے اپنے عقیدت مندوں کو یقین دلا رہا ہے کہ اس کے مقابلے فوج کمزور ہو چکی ہے اور وہ وقت دور نہیں ہے جب وہ ایک بار پھر اقتدار میں ہو گا۔ ویسے 9 مئی 23 سے 9 مئی 24 تک جو کچھ کیا گیا ہے اس سے عمرانی سازشی حرکیات کو طاقت ملی ہے۔ انتشاری ٹولہ دندناتا پھر رہا ہے وہ ڈر خوف کی فضا سے باہر آ چکا ہے سانحہ عظیم کی تپش کم ہو گئی ہے اس کی حیثیت ایک عام احتجاجی مظاہرے کی نظر آنے لگی ہے جس میں کچھ لوگوں نے جذبات میں آ کر توڑپھوڑ کی تھی۔ یعنی یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ 9 مئی سانحہ نہیں ایک احتجاجی مظاہرہ تھا جس نے تشدد کا رخ اختیار کر لیا تھا۔ احتجاج مظاہرین کا حق تھا جسے انہوں نے استعمال کیا۔ باقی جو کچھ ہوا اس کی تحقیقات ہونی چاہئے، جوڈیشل کمیشن بننا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ ایک سال کے دوران ہمارے حکمرانوں اور دیگر اداروں نے اس سانحے کے ذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچانے میں جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے اس سے تو عمرانی ٹولے کے بیانات درست لگتے ہیں، اگر یہ سازش تھی اور اس کے ثبوت موجود ہیں تو پھر ذمہ داران کو کیفرکردار تک کیوں نہیں پہنچایا گیا، اگر عمران خان اس سازش کا سرغنہ تھا تو اس پر قدغن کیوں نہیں لگائی گئی، اس کی پارٹی کو الیکشن لڑنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیوں نہیں کیا جا سکا کہ عمرانی فتنے کے ساتھ کیا سلوک کیا جانا ہے۔ وہ جیل میں کسی ڈان کی طرح زندگی گزار رہا ہے، 6 کمروں پر مشتمل جیل میں اسے ہر سہولت میسر ہے اب تو پنکی پیرنی بھی جیل میں پہنچائی جا چکی ہے۔ وہ جیل میں بیٹھ کر پارٹی چلا رہا ہے، افتراق و انتشار پھیلا رہا ہے پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف نہ صرف ہرزہ سرائی کر رہا ہے بلکہ مضامین غیرملکی اخبارات میں بھی چھپوا رہا ہے۔ ہماری ریاست کہاں ہے، ہماری حکومت کہاں ہے، ہماری عدلیہ کیا کر رہی ہے۔ عمران خان اور اس کی جماعت اگر انتشاری ٹولہ ہے تو سب کچھ ختم کیوں نہیں کر دیا جاتا ہے اسے کیفرکردار تک کیوں نہیں پہنچایا جا رہا ہے؟۔ ذرا سوچیں۔

تبصرے بند ہیں.