سانحہ نو مئی:ذمہ داروں کو سزا کب ملے گی؟

21

گزشتہ برس ایک سیاسی جماعت کی جانب سے فوجی تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں پر ہونے والے المناک حملوں نے نہ صرف قوم کی روح کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ ایک ایسی سیاسی بحث کو بھی جنم دے دیا ہے کہ جس میں اداروں کے احترام کے معاملات کو دوبارہ سے تشکیل دیئے جانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

ہم نے اس ملک میں ہر طرح کے سیاسی بحران اور حتیٰ کہ فوجی آمریت کے ادوار بھی دیکھے ہیں۔ اگر لاھور شہر کی بات کی جائے توفوجی آمریتوں کے خلاف احتجاج کے دوران بھی، کبھی یہ تصور نہ تھا کہ مظاہرین گورنر ہاؤس سے آگے تک جائیں گے۔ اب اس کو بے شرمی کہیں یا اقتدار کے لالچ میں اندھا پن کہ ایک سیاسی جماعت کی کال پر مظاہرین نہ صرف کینٹ کے علاقہ میں داخل ہو ئے بلکہ کور کمانڈر ہاؤس تک بھی پہنچ گئے اور احتجاج کے ساتھ ساتھ شہیدوں کی یادگاروں کی تذلیل کی اور ہر قسم کی تخریبی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ چوریاں بھی کیں۔یہ علیحدہ بات ہے کہ بعد ازاں اس قسم کی کال دینے اور کارکنان کے جذبات کو بھڑکانے والے قائدین نے مظاہرین سے بالکل ہی لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔

ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس تمام تخریب کاری کا حصہ بننے والوں اور اس کی منصوبہ بندی کرنے والوں تک پہنچ تو چکے ہیں۔ ان کے ٹرائل فوجی عدالتوں میں چلانے کا فیصلہ بھی ہو گیا ہے۔ اس طرح بات کچھ آگے بڑھی بھی سہی لیکن افسوس کہ ہمارے جوڈیشل سسٹم کی سست روی کی وجہ سے ملزمان کو ابھی تک سزائیں دینے کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس قسم کا گھناؤنا کھیل کھیلنے والے جانے کس بنیاد پر آج بھی جیل میں مطمئن بیٹھے ہیں اور ان کے ایما پر کبھی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل، کبھی فوری طور پر ضمانتیں مل جانے اور کبھی موجودہ حکومت کی چھٹی ہو جانے جیسی افواہیں روزانہ کی بنیاد پر پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہیں لوگوں نے ریاست کو کمزور اور بدنام کرنے اور معاشی طور پر نقصان پہنچانے کے لیے غیر ملکی فرموں کی خدمات بھی حاصل کر رکھی ہیں اور انہیں بڑی بڑی فیسیں بھی ادا کی جا رہی ہیں۔

ایک طرف تو یہ صورتحال ہے تو دوسری طرف اچھی بات یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے نو مئی کو سرکاری سطح پر پاک فوج کے شہدا کے ساتھ یکجہتی اور عقیدت کا اظہار کرنے کے لیے سیمینار، ریلیاں اور تقاریب منعقد کی ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ دنوں انٹر سروسز پبلک ریلشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی ایک دھواں دھار پریس بریفنگ سے خطاب کیا ہے۔ اپنے خطاب میں انہو ں نے واضح الفاظ میں کہا کہ سانحہ 9 مئی کی حقیقت یہ ہے کہ اس دن ایک سیاسی ٹولہ اپنی ہی فوج پر حملہ آور ہواتھا۔ صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی پارٹی کی جانب سے فوج، ایجنسیوں، ان کے سربراہوں کے خلاف ذہن سازی کی گئی، اس پارٹی کے قائدین نے اپنے کارکنان کو چُن چُن کر اہداف دیئے اور انہیں دہشت گردی پر اکسایا۔

انہوں نے بالکل واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت، لیڈر یا ٹولہ اپنی ہی فوج پر حملہ کرے گا، دھمکیاں دے گا یا پروپیگنڈا کرے گا اس سے کسی بھی قسم کی کوئی بات نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، سیاسی انتشاری ٹولے کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ صدقِ دل سے معافی مانگے اورنفرت کی سیاست چھوڑ کر تعمیری سیاست کرے۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی کوئی سیاسی بات چیت سیاسی جماعتوں کو ہی زیب دیتی ہے اداروں کو نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات صرف پاک فوج کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مقدمہ ہے۔ اگر ذمہ دار کیفر کردار تک نہیں پہنچیں کے تو یقینا نظامِ انصاف پر سوال تو اٹھے گا۔

سانحہ نو مئی کے حوالہ سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کے مطالبہ کے حوالہ سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس قسم کا مطالبہ صرف کنفیوژن پیدا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ جوڈیشل کمیشن وہاں بنتا ہے جہاں معاملات میں کوئی ابہام ہو لیکن نو مئی کے واقعات کو تو سب نے دیکھا اور کیمروں نے عکس بند کیا ہے۔ جب سچ سامنے آ گیا تو فالس فلیگ کا پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان تمام حقائق کے باوجود اگر اصرار کیا جائے گا تو ہم جوڈیشل کمیشن بنانے پر بھی راضی ہیں لیکن اگر کوئی کمشن تشکیل دیا ہی جانا ہے تو پھر اسے یہ احاطہ بھی کرنا چاہیے کہ 2014ء میں دھرنا کیسے ہوا؟ پارلیمنٹ پر حملہ کیسے ہوا؟ آئی ایم ایف کو خطوط کس نے اور کیوں لکھے، کس طرح صوبہ خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل کے ساتھ وفاق چڑھائی کی گئی۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں جھوٹ اور سچ کی تخصیص کیے بغیر بیانیے کی سیاست کامیاب ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ سانحہ نو مئی کی ذمہ دار جماعت آج بھی مناسب تعداد میں نشستیں حاصل کرنے کے بعد اسمبلیوں میں موجود ہے اور بدستور کسی بھی مثبت اور مفاہمتی سیاست کا حصہ بننے سے انکاری ہے۔

سوشل سائنسٹس کا خیال ہے کہ جب کوئی سیاسی جماعت اپنے ہی ملک کو مالی اور سیاسی نقصان پہنچانے کا عزم کر لیتی ہے، تو اس کے ساتھ ڈیلنگ کے لیے ایک کثیر جہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے پہلے تو جمہوری اصولوں، ادارہ جاتی لچک، اور اسٹریٹجک دور اندیشی کے تحت معاملات کو چلانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن بات اگر خطرناک حدود میں داخل ہونے لگے اور معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہونے لگے تو پھر یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ اس قسم کی سوچ رکھنے والی جماعت کے اثرات کو کم کرنے کرنے کے لیے تمام تر قانونی راستوں کو بروئے کار لایا جائے۔ اسی فارمولا کے تحت ان یہ انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ نہ صرف سانحہ نو مئی کے تمام تر ذمہ داران (چاہے وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں) کو قانون کے مطابق فوری طور پر سزائیں دی جائیں بلکہ ایسی جماعت کی اسمبلی میں نمائندگی پر بھی قدغن لگائی جائے۔

تبصرے بند ہیں.