وزیر اعلیٰ سے پولیس کانسٹیبل تک

35

عوام نے وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب کیا تاہم انسانی خواہشات کا کیا کہنا، خواہشیں اگر ناتمام رہیں تو کبھی نہ کبھی اپنے گل کھلا کر ہی رہتی ہیں۔ ایسے ہی تو نہیں کہا گیا کہ
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

ویسے اچھا خاصے نابغہ روزگار انسان سے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر بسا اوقات ایسی حرکات و سکنات سرزد ہو جاتی ہیں جو جہاں اپنوں کے لیے محظوظ ہونے کا باعث بنتی ہیں تو وہاں غیروں کے لیے بغلیں بجانے کا بھرپور موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

ویسے یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ مخالفین حرف تنقید بنانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ تو بھلا پھر انسان دوسروں کو اپنے اوپر ہنسنے کا موقع ہی کیوں فراہم کرے۔ ویسے مملکت خداداد پاکستان میں جس انداز میں یونیفارم نے نظام کو بُری طرح سے جکڑ رکھا ہے وہاں ہر کسی کو وردی پہننے کا شوق رہتا ہے۔ ایسے ہی تو نہیں کہا جاتا کہ پاکستان عملاً ایک پولیس سٹیٹ ہے جہاں ہر خاص و عام ڈنڈے سے ہانکا جاتا ہے۔ کئی دھائیوں سے اس نظام میں پسنے اور ظلم و جبر سہنے کے باوجود عام پاکستانی میں وردی پہننے کے بعد دوسروں کو ہانکنے کی خواہش برقرار رہتی ہے۔ ویسے وردی کا رنگ کوئی بھی ہو، اس کی مانگ عوام میں آج بھی کم نہیں۔

سوشل میڈیا پر خود نمائی کے شوقین آئی جی پنجاب بھی خاصے ذہین و فطین ہیں۔ بھلا ٹک ٹاک بنانے اور دوسروں کو اس کام پر لگانے کا فن ان سے زیادہ کون جانے۔ بتانے والے یہی بتاتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو کانسٹیبل کی وردی پہنے کے لیے انہوں نے ہی شیشہ میں اتارا تھا۔ رہی سہی کسر وزیر اعلیٰ کے مشیروں نے ہاں میں ہاں ملا کر نکال دی۔ ڈاکٹر عثما ن انور نے سوشل میڈیا کے سہارے گزشتہ ایک سال میں جس طرح اپنے عہدے پر وقت گزارا ہے اس کی بھی نظیر نہیں ملتی۔ غالباً وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی وہ یہی گُر سکھانے میں مصروف عمل نظر آتے ہیں۔ آنے والوں کے لیے سبق ہے کہ کام کی ہرگز بھی ضرورت نہیں اگر آپ بہتر ٹک ٹاک بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔ رہا محکمہ پولیس تو عوام کے خزانے سے 18 ارب روپے کی خطیر رقم اُڑانے کے باوجود اس کی جو دگرگوں حالت ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ حال ہی میں بہاولنگر میں رونما ہونے والا واقعہ اور شیخوپورہ میں باریش باپ کو نوجوان کے سامنے مرغا بنانے اور اس پر طیش میں آ کر دو پولیس اہلکاروں کے قتل کا افسوسناک واقعہ اس کی زندہ مثال ہے۔ تھانے آج بھی عوام کے لیے عقوبت خانے ہیں۔ تھانوں کی عمارتوں کو خوبصورت بنانے پر تو اربوں روپے اُڑا دیے گئے ہیں۔ تاہم پولیس کا عام آدمی پر جبر و ستم کم ہوا ہے اور نہ ہی اس کا فرعونی رویہ تبدیل ہوا ہے۔

تھانے آج بھی سوختہ جاں عوام کے لیے عقوبت خانے ہیں۔ پولیس کی جانب سے طاقت کے بہیمانہ استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ پولیس کا تفتیشی نظام لا قانونیت اور ناانصافی کا مرقع نظر آتا ہے۔

اس کی تازہ مثال جس نے عوام اور ارباب ِ اختیار کی آنکھیں کھول کر رکھ دی ہیں وہ پنجاب ہی میں رونما ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تین سال قبل اغوا کے بعد قتل ہونے والی بچی زندہ مل گئی۔ پاکپتن میں تین سال قبل اغوا ہونے والی پانچ سالہ بچی عدن فاطمہ کے کیس نے پنجاب پولیس کے تفتیشی نظام کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ ڈھ پئی کی رہائشی عدن فاطمہ بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے گھر سے نکلی اور بعد ازاں واپس نہ آئی۔ ورثا بچی کو گھر گھر جا کر ڈھونڈتے رہے لیکن ناکام رہے۔ ورثا نے نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرا دیا۔ عدن فاطمہ کے چچا نے محلے کے ایک نوجوان مزمل پر شک کا اظہار کیا۔ پولیس نے پہلے ملزم کو حراست میں لیا تاہم بعد ازاں چھوڑ دیا۔ بچی کے ورثا نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دی۔ چنانچہ مزمل کو دوبار ہ گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے مزمل سے اعترافی بیان لیا کہ اس نے بچی کو قتل کر کے لاش نہر میں بہا دی ہے۔ پولیس نے ملزم سے بچی کے جوتے تک برآمد کر لیے۔ واقعہ کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب ایک شخص نے تین سال کے بعد بچی کو ورثا کے حوالے کیا۔

اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دورِ حکومت میں لاہور میں بھی رونما ہوا تھا۔ دو بچیاں گھر سے ٹیوشن پر آئیں اور پھر واپس گھر نہ پہنچیں۔ اخبارات کی شہ سرخیوں میں جب یہ خبر آئی تو اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نے یہ کیس سی آئی اے کو سونپ دیا اور 48گھنٹوں میں اسے حل کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹیوشن پڑھانے والی استانی کے بھائی اور اسکے دوستوں کو حراست میں لے کر اعتراف جرم کرایا کہ انہوں نے دونوں بچیوں کو ریپ کے بعد قتل کر کے انکی لاشیں دریائے راوی میں بہا دی ہیں۔ یوں پولیس نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور عوام کو کیس کے حل ہونے کی نوید سنا دی۔ کیس دہشت گردی کی عدالت میں چلنے لگا تاہم چھ ماہ کے بعد وہ بچیاں پنجاب کے ایک اور شہر سے برآمد ہو گئیں۔ یوں گرفتار نوجوان پھانسی کے پھندے پر جھولنے سے بچ گئے۔ آج بھی صوبہ پنجاب بالخصوص لاہور میں مقدمات کی تفتیش کا یہی حال ہے۔ جہاں انصاف حاصل کرنے کے لیے سائل کو تفتیشی افسران سے لے کر اوپر تک افسران کی جیب گرم کرنا پڑتی ہے تاہم اس کے بعد بھی اسے انصاف ملے گا یا نہیں اسکی کوئی گارنٹی نہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صوبے کے عوام کے حالات کو بہتر بنانے میں نہ صرف سنجیدہ بلکہ اس ضمن میں شب و روز مصروف عمل بھی نظر آتی ہیں۔ تاہم پولیس نظام میں حقیقی اصلاحات لانے اور عوام کو عملاً ریلیف پہنچانے کے لیے انہیں بہت کچھ کرنا ہے۔ ایسے میں ان کے لیے یہی مشورہ ہے کہ وہ ٹک ٹاکر افسران اور بیوروکریسی سے بچیںجو ان کے کانوں میں سب اچھا کی رپورٹ دے کر نہ صرف رس گھولتے ہیں بلکہ اپنی نوکریاں بھی خوب پکی کرتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.