رانا احسان افضال خان سے ملاقات!

11

کچھ دن قبل کوآرڈی نیٹر ٹو پرائم منسٹر کامرس اینڈ ٹریڈ سے ایک ملاقات کا اہتمام ہوا، ملاقات کیا تھی، اُن سے انٹرویو کر کے ملکی صورتحال پر گفتگو کرنا تھی، اُن سے باتیں کر کے ملکی حالات کے حوالے سے خاصی معلوماتی اور حوصلہ افزا باتیں بھی سننے کو ملیں، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے اُن کے مستقبل کے ارادوں کے بارے میں بھی جانا کہ کیا وہ جس پارٹی میں ہیں یعنی ن لیگ بھی نوجوانوں کی پسندیدہ جماعت بن سکے گی یا نہیں۔ اس پر اُنہوں نے کیا کہا اس پر تو بعد میں بات کریں گے لیکن میں اُن کا مختصر سا تعارف پیش کرتی چلوں کہ رانا احسان افضل خان سابق وفاقی وزیر رانا افضل خاں مرحوم کے صاحبزادے ہیں، اس کے علاوہ ان کی والدہ نجمہ افضل بھی ایم پی اے رہی ہیں، ان کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ یہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر بھی رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن یوتھ ونگ کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں، اس کے علاوہ آپ مسلم لیگ ن کی منشور کمیٹی کا بھی حصہ رہے ہیں، جبکہ آپ مسلم لیگ ن کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی اور ریسرچ ونگ کے ممبر بھی ہیں۔ اگر میں بات کروں رانا صاحب کے والد گرامی جناب رانا افضل خان (مرحوم) کے متعلق تو وہ سابق وزیر خزانہ رہے ہیں، وہ ایک عظیم شخصیت تھے، اُن کے وزارت خزانہ میں ہونے کے باوجود اُن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ایک دیانتدار، ثابت قدم، ترقی پسند، مثبت، منظم، محنتی، نگہداشت اور مدد کرنے والے شریف آدمی تھے۔ انہوں نے اپنی جائے پیدائش فیصل آباد کی خدمت کی، انہوں نے پاکستان کی بہتری اور ترقی کے لیے کردار ادا کیا۔ انہوں نے 30 سال تک پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حمایت اور جمہوری پاکستان کے لیے ان کے اعتقاد کو سنہری الفاظ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان سے ان کی
محبت اور اپنی مادر وطن کی خدمت کے جذبے نے انہیں 10 سال تک بیرون ملک مقیم پاکستانی رہنے کے بعد فیصل آباد واپس لائی۔ بہرحال اُن کے فرزند رانا احسان افضل خان یقینا اُنہی کے نقش قدم پر چل کر ن لیگ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، اُن سے بات کر کے یوں لگا کہ جیسے ملک کے تمام کاروباری مسائل وہ انگلیوں پر گن سکتے ہیں، اُنہیں اس بات کا بھی ادراک ہے کہ پاکستان کی معیشت کا آدھے سے زائد حصہ آئی ایم ایف چلا رہی ہے، وہ یقینا اس حوالے سے معیشت کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہے۔ آئی ایم ایف نے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ تمام ترقی پذیر ممالک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ موجودہ عالمی معاشی صورتحال میں بظاہر آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکلنا اتنا آسان نہیں۔ تبھی وہ اپنی حکومت کو بھی متبادل ذرائع سے ملک کو خود مختار بنانے کی بات کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلے تو ہمیں اپنی زراعت کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے زیرِکاشت رقبے میں اضافہ کرنے کیساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری بنانا ہو گا۔ وہ کہتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنی حکومت کو تجاویز دی ہیں کہ زرعی اشیا پر ٹیکس ریٹ سب سے کم کرے اور برآمدات بڑھانے کے لیے خصوصی مراعات دی جائیں تاکہ ہمارے کسان دوبارہ اس طرف راغب ہو سکیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم چائنہ پاک اقتصادی راہداری (سی پیک) پر کام کی رفتار کو تیز کر رہے ہیں اور دوست ملک چین کے تحفظات کو فوری طورپر دور کر رہے ہیں تاکہ اس اہم ترین منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹیں قومی مفاد کی خاطر فی الفور دور ہو سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میاں شہباز شریف اس بات کو سمجھتے ہیں کہ سی پیک منصوبہ جتنا جلدی مکمل ہو گا، پاکستان کے پاس ایک اور متبادل ذریعہ آمدن اتنی ہی جلدی شروع ہو جائے گا جس کے بعد ہمارا غیر ملکی قرضوں پر انحصار خودبخود کم ہوتا چلا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہمیں اپنی مقامی صنعت کو فروغ دینا ہو گا تاکہ لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور درآمدات میں بھی کمی آ سکے۔ بہرحال رانا احسان مجھے ن لیگ کا دمکتا ہوا چہرہ لگے، وہ نوجوان ہونے کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے ہیں اور نوجوانوں کی قیادت بھی احسن انداز میں کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ویژن کو بھی سمجھتے ہیں اور اُن کے انقلابی اقدامات کو ڈیفنڈ بھی کرتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ن لیگ ہی تھی جس نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، ورنہ مخالفین تو کب کا پاکستان کو ڈیفالٹ قرار دے چکے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے تاجروں کو دی جانے والی سہولیات کے بارے میں بتایا کہ وہ انہیں آن لائن کرنے جا رہے ہیں جس سے ٹیکس چوری میں واقعی کمی واقع ہو گی۔ یہی اُن کی حکومت کا سب سے بڑا مشن ہے، وہ کہتے ہیں کہ حکومت چاہتی ہے کہ تاجر بھی ناراض نہ ہو اور ہم اُس سے ٹیکس لینے میں کامیاب بھی ہو جائیں، ملک اُسی وقت ترقی کرے گا، جب یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلیں گی۔ بہرکیف اُمید ہے کہ جیسی اُنہوں نے اُمیدیں بندھائی ہیں ویسی ہی ہوں اور یہ ملک انہی کی قیادت میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی بھی کرے۔ کیوں کہ یہ ٹیکنالوجی ہی ہے جس کی بدولت یہ ملک آگے بڑھ سکتا ہے، اور اہم بات یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو نوجوان قیادت ہی زیادہ سمجھتی ہے، تبھی حکومتی جماعتوں کو ایسے لوگوں کو ضرور اوپر لانا چاہیے تا کہ وہ احسن انداز میں پارٹی قیادت کو وہ سب کچھ بتا اور سمجھا سکیں کہ عوام اب کیا چاہتے ہیں؟ ورنہ میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے ایسا نہ کیا اور قیادت کسی اور کو دیتے رہے جو میرٹ پر بھی نہ ہوں تو اس سے ملک کا نقصان تو ہو گا ہی پارٹی خود بھی بڑے نقصان سے دو چار ہو گی!

تبصرے بند ہیں.