دعائیہ تقریب کے دوران درج مقدمے: علیمہ خان کی درخواست پر عبوری ضمانت کنفرم

51

اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کے خلاف لیاقت باغ میں دعائیہ تقریب منعقد کروانے کے مقدمے میں عبوری ضمانت کنفرم کردی۔

 

علیمہ خان کے خلاف مقدمہ عمران خان کی رہائی کیلئے دعائیہ تقریب کے دوران شاہراہ عام بند کرنے، لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف مزاحمت پر مبنی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

 

علیمہ خان کی ضمانت ایڈیشنل سیشن جج نادیہ اکرام نے منظور کی، علیمہ خان لیاقت باغ دعائیہ تقریب منعقد کرنے کے خلاف تھانہ سٹی میں درج مقدمے میں ضمانت کے لیے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔

 

دوران سماعت علیمہ خان نے عدالت میں بیان دیا کہ یہ مقدمہ تھانہ سٹی پولیس نے درج کیا تھا، ہم دعا کر رہے تھے کہ مقدمہ درج کرلیا گیا۔

 

بعد ازاں عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کی عبوری ضمانت کنفرم کردی۔

 

عدالت نے علیمہ خان کو 25 ہزار کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم بھی دے دیا۔

واضح رہے کہ ضمانتیں کنفرم یا ضمانت میں توثیق کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کیس میں اب مستقل بنیادوں پر ان کی ضمانت ہو چکی ہے اور انہیں اب اس کیس میں گرفتار نہیں کیا جاسکتا، تاہم پراسیکیوشن اس فیصلے کو چیلنج کر سکتی ہے، جس کے بعد عدالت چاہے تو ضمانت مسترد کرسکتی ہے۔

 

سماعت کے بعد جوڈیشل کمپلیکس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ جب تک ظلم سہتے رہیں گے ظلم جاری رہے گا، بانی پی ٹی آئی کے خلاف تمام کیسز زندہ لاشیں ہیں، سب ایک ایک کر کے ختم ہو جائیں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کسی قسم کی ڈیل نہیں کریں گے، تمام کیسز کا سامنا کریں گے، القادر یونیورسٹی کیس کے فیصلے تک بشریٰ بی بی کو کیسوں میں گھسیٹا جاتا رہے گا۔علیمہ خان نے مزید کہا ہے کہ عدت کیس بھی بے ہودہ ہے، سائفر کیس بھی ان سے نہیں سنبھل رہا، اسے بھی ختم کرنا پڑے گا، تمام کیسز میں ججز پر دباؤ ہے کہ انہیں کیسے جاری رکھا جائے۔

تبصرے بند ہیں.