10 سٹک والے سگریٹ کے پیک کی تیاری کے لیے منظوری حاصل کرنے کی کوششوں پر اظہار تشویش

59

اسلام آباد: سماجی کارکنان  نے تمباکو کی صنعت کی طرف سے بیرون ملک ایکسپورٹ کرنے کے بہانے سے 10 سٹک والے سگریٹ کے پیک کی تیاری کے لیے منظوری حاصل کرنے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) کی طرف سے مشترکہ پریس ریلیز میں، سماجی کارکنان نے ملک بھر میں بچوں اور کم آمدنی والے گروہوں پر اس کے ممکنہ اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ملک عمران احمد، کنٹری ہیڈ آف کمپین فار ٹوبیکو فری کڈز  نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو کی صنعت برسوں سے سنگل سٹکس کی فروخت پر پابندیکی خلاف ورزی کر رہی ہے، جو نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے اور کمزور آبادی کے تحفظ کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔ . تمباکو کمپنیوں کی جانب سے ایکسپورٹ کی آڑ میں 10 سٹک پیک تیار کرنے کے لیے کی جانے والی حالیہ کوششیں، صحت عامہ اور پاکستانی نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم خطرہ ہیں کیونکہ تمباکو کمپنیوں کا اصل مقصد ان کو نوجوانوں کو بیچنا ہے جو زائدہ اسٹک والی پیکٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمباکو کی صنعت  نے ماضی میں بھی ایسی ہی کوششیں کی تھیں لیکن وزارت صحت نے این او سی جاری نہیں کیا۔ تمباکو کی صنعت کی طرف سے 10 سٹک پیک کے لیے درخواست انتہائی پریشان کن ہے۔ اس سے نہ صرف تمباکو کے کنٹرول میں ہونے والی پیش رفت کو نقصان پہنچے گا بلکہ ان بچوں اور کم آمدنی والے افراد کو بھی براہ راست نشانہ بنایا جائے گا جو تمباکو کے استعمال کے مضر اثرات کا سب سے زیادہ خطرہ ہیں۔
ملک عمران کا مزید کہنا تھا کہ فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کی خلاف ورزی ہے  میں ملوث ملٹی نیشنل سگریٹ کمپنیوں کی جانب سے ایک ہی برانڈ کے نئے ورژن نمایاں طور پر کم قیمتوں پر متعارف کرائے گئے ہیں جو ایک پریشان کن بات ہے ۔قوانین کے مطابق، سگریٹ کا کوئی بھی مینوفیکچرر یا درآمد کنندہ سگریٹ برانڈ کا کوئی بھی ایسا نیا ورژن متعارف یا فروخت نہیں کر سکتا ہے جس کی قیمت اسی برانڈ فیملی میں موجود سگریٹ برانڈ سے کم رکھی گئی ہو۔اس کے باوجود، پاکستان ٹوبیکو کمپنی نے ایک نیا برانڈ کپسٹن انٹرنیشنل لانچ کیا ہے، جس کی قیمت 164 روپے ہے، جو اس کے موجودہ فیملی برانڈ جس کی قیمت 212 روپے ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ سگریٹ کو مزید سستا بنانے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔
سپارک  کے پروگرام منیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدام کے پاکستان میں صحت عامہ کی کوششوں پر مضر اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی مارکیٹ میں 10 سٹک پیک کی فروخت کی اجازت دینے سے تمباکو کے استعمال کے پھیلاؤ کو کم کرنے اور اس کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں آگاہی بڑھانے میں کی گئی پیشرفت رک جائے گی۔ یہ قدام ٹیکس اور ریگولیشن کے ذریعے تمباکو کے استعمال کو روکنے کی حکومتی کوششوں سے براہ راست متصادم ہے۔
کارکنوں نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ 10 سٹک پیک کی تیاری یا فروخت کی اجازت نہ دے اور تمباکو کی صنعت کے ذریعے بچوں اور کم آمدنی والے گروہوں کے استحصال کو روکے۔ انہوں نے موجودہ ضوابط کو سختی سے نافذ کرنے اور صحت عامہ کے تحفظ کے عزم پر زور دیا۔

تبصرے بند ہیں.