ایچی سن بچانے کا احد طریقہ

25

ہمارے’’بڑے بڑے بونوں‘‘ کا روز ایک نیا کٹا کھل جاتا ہے، ایک تازہ کٹا بلکہ ہٹا کٹا اب حال ہی میں منتخب بلکہ ’’مقرر‘‘ کئے جانے والے سینیٹر احد چیمے کا کھل گیا ہے، جس پر مجھے حیرت اس لئے ہوئی ہے ہمارے کچھ سیاسی بیوروکریٹ حتی کہ ریٹائرڈ سیاسی بیوروکریٹ اپنا کٹا اپنے کلے سے اتنی مضبوطی سے باندھ کر رکھتے ہیں کھلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ان کے کئی سکینڈلز ہوتے ہیں مگر سامنے نہیں آتے، میں اکثر یہ عرض کرتا ہوں پاکستان میں’’کمیشن‘‘ کی لالچ سے بے نیاز کوئی کمیشن بنے اور وہ یہ تحقیقات کرے سیاستدانوں اور افسروں میں کس نے کرپشن زیادہ کی ؟ نااہلیاں زیادہ دیکھائیں ؟ یقین کریں سیاستدان اس معاملے میں بہت پیچھے کھڑے دیکھائی دیں گے، یہ توہم نے انہیں آگے لگایا ہوا ہے کیونکہ گالیاں دینے اور تنقید کرنے کے لئے وہ ہمارا ’’سافٹ ٹارگٹ‘‘ ہیں، ہمارے سیاستدانوں کی نااہلی یہ ہے ان کی کرپشن سامنے آجاتی ہے اور ہمارے بیوروکریٹس کی’’اہلیت‘‘ یہ ہے ان کی کرپشن اکثر سامنے نہیں آتی، کیونکہ ان کا ’’ ایکا‘‘ اور ’’پیکا‘‘ بڑا مضبوط ہوتا ہے، یہ کوؤں کی ایک ایسی ’’فیملی‘‘ ہے جس میں ایک کوے کو کچھ ہو جائے بیسیوں کوے کاں کاں کرکے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، احد چیمہ بیوروکریسی کی صف سے نکل کر اب سیاستدانوں کی صف میں کھڑے ہو گئے ہیں، چنانچہ وہ بہی اب’’سافٹ ٹارگٹ‘‘ ہیں، ان پر بھی اب ویسے ہی کھلے عام تنقید ہو رہی ہے جیسے سیاستدانوں پر ہوتی ہے، وہ اگر اب بھی ایک بیوروکریٹ ہوتے ایچی سن کالج میں ان کے بچوں کی فیس والا کٹا کچھ عرصہ شاید اور نہ کھلتا، اب ہر جانب سے انہیں لعن طعن کیا جا رہا ہے، وہ اس کا اثر شاید اس لئے قبول نہیں کر رہے یہ شرم و حیا والے لوگوں کا کام ہوتا ہے، گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے جو خط اس معاملے میں انہوں نے گورنر کو لکھا ہے وہ بھی ان کے حق میں کارگر ثابت نہیں ہوا، ہمارا خیال تھا ایچی سن کالج والا کٹا کھلنے کے بعد انہیں سینیٹر نہیں بنایا جائے گا ، شہباز شریف اب پہلے والے شہباز شریف نہیں رہے جو کسی دوسرے کی کرپشن یا اس کے اختیارات کے ناجائز استعمال کو کسی صورت میں برداشت نہیں کرتے تھے، ان کا باقاعدہ ایک رعب اور دبدبا ہوتا تھا، ان کی شخصیت کا یہ پہلو اگر برقرار رہتا احد چیمہ کا ایچی سن کالج والا کٹا کھلنے کے بعد وہ انہیں سینیٹر بنانے سے انکار کر دیتے، جتنی اس واقعے سے دنیا بھر میں پاکستان اور خود ان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے اس کے پیش نظر وہ ان سے کہتے ’’مجھے مزید آپ کی خدمات نہیں چاہئیں ، آپ اب آرام کریں اور اس مال پر گزارا کریں جو بطور ایک بیوروکریٹ حد سے زیادہ آپ نے بنا لیا ہے‘‘ ، یوں محسوس ہوتا ہے جناب شہباز شریف کی کوئی نہ کوئی’’کمزوری‘‘ ضرور احد چیمہ کے ہاتھ میں ہے جو وہ ان سے اپنی جان چْھڑوانے کی جْرأت نہیں کر رہے، ویسے جب سے ایچی سن کالج والا یہ کٹا کھلا ہے میں یہ سوچ رہا ہوں بیگم احد چیمہ نے اپنے بچوں کے معاملے میں ایچی سن کالج کے گورے پرنسپل پر جو دباؤ خود ڈالا اور بعد میں گورنر پنجاب سے ڈلوایا ، ممکن ہے احد چیمے کو اس کی خبر ہی نہ ہو کیونکہ کچھ بیگمات اپنے اور اپنے بچوں کے اکثر معاملات کی اپنے شوہروں کو خبر ہی نہیں ہونے دیتیں ، یہ بھی ایک المیہ ہے خواجہ سعد رفیق اور رانا ثناء اللہ جیسے مخلص پارٹی راہنماؤں کے بجائے اس احد چیمے کو سینیٹر بنا دیا گیا ہے پارٹی کے لئے جس کی خدمات کا سراغ کوئی ’’تاحیات‘‘ نہیں لگا سکتا ، ’’واہیات‘‘ البتہ لگا سکتا ہے ، ایک کوئی ناصر بٹ بھی ہے جسے نون لیگ کا سینیٹر بنایا گیا ہے ، اس کا نام بہی پہلی بار ہم نے سْنا ہے اور سر دھنا ہے ، نون لیگ کے لئے اس کی خدمات بھی نامعلوم ہیں ، بعض لوگوں کا خیال ہے ’’احد چیمے نے بہت مشکلات اٹھائی ہیں‘‘، بھئی مزے بھی تو انہوں نے ہی کئے ہیں ناں ، ان کے مزوں کے مقابلے میں ان کی مشکلات بہت کم ہیں ، جب شہباز شریف کی نظر ان پر پڑی وہ ایک جونیئر افسر تھے ، پھر ان کی نامعلوم اور کچھ کچھ’’معلوم خدمات‘‘ کے عوض انہیں بڑے بڑے عہدوں سے نوازا اور شہبازا گیا ، اس کے بعد اپنی وفاداریوں کے ایسے ایسے جوہر انہوں نے دکھائے اپنے اکثر بیج میٹوں یا کولیگز کے لئے پریشانیاں پیدا کر دیں کہ وفاداری کے ایسے جوہر دکھانے کی وہ بیچارے اہلیت ہی نہیں رکھتے تھے ، چنانچہ وہ تمام ’’نااہل‘‘ اپنے گریڈوں سے بڑے بڑے اہم عہدے حاصل کرنے میں ناکام رہے ، وہ اپنے لئے ایک گھر تک نہیں بنا سکے ، احد چیمہ چونکہ مالی لحاظ سے اب بہت مضبوط ہیں ، انہیں چاہئے اپنے ان تمام محروم بیج میٹوں کو اپنے پلے سے کم از کم چھوٹا چھوٹا ایک مکان ہی بنا کے دے دیں تاکہ ان کا ضمیر اگر جاگ پڑے تو وہ انہیں اس بات پر تو ملامت نہ کرے کہ وفاداری کا جو معیار اْنہوں نے قائم کر دیا تھا ان کے بیشمار بیج میٹ اس معیار تک نہ پہنچ کے بے شمار عہدوں ، سہولتوں اور آسائشوں سے محروم رہ گئے ، ویسے مجھے حیرت ہو رہی ہے جو شخص ہر لحاظ سے اتنا نوازا و شہبازا گیا ہو اسے یا اس کی سرکاری افسر بیگم کو ایک تعلیمی ادارے سے اپنے بچوں کے لئے اتنی معمولی رعایت لینے کی ضرورت کیا تھی ؟ جتنی اْن کی طاقت ہے ان کا حق تو یہ بنتا تھا ایچی سن کالج کا آدھا رقبہ اپنے نام لگوا لیتے ، باقی بیگم کے نام لگوا کر کرایے پر دے دیتے ، بجائے اس کے وہ کوئی ’’وڈا ہتھ‘‘ مار کے بدنام ہوتے بچوں کی فیس معافی کا چھوٹا ہتھ مار کے بدنام ہوگئے ، اور اس گورنر کو بھی آزمائش میں ڈال دیا جس کی آپ تقریریں سنیں وہ کسی فرشتے یا ولی سے کم دکھائی نہیں دیتا ، میرے دل میں ان کے لئے بڑی عزت تھی ، یہ عزت ہمیشہ برقرار رہتی اگر احد چیمے کے بچوں کو خصوصی رعایتیں دلوانے سے وہ انکار کر دیتے ، میرے خیال میں ایسے ہی منہ چک کے رعایتیں دلوانے کے بجائے یہ معاملہ وہ شہباز شریف کے نوٹس میں لے آتے تو ایسی بے عزتی یا جگ ہنسائی کی شاید نوبت نہ آتی ، کچھ عرصہ پہلے ایک آڈیو لیک ہوئی تھی جس میں ایک بیوروکریٹ شاید ڈاکٹر توقیر علی شاہ اس وقت کے وزیراعظم شہباز شریف کو یہ بتا رہے تھے’’سر آپ کے فلاں قریبی عزیز ، فلاں کام کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں ،ہم نے یہ کام کیا تو ہماری بدنامی ہوگی“ ، شہباز شریف نے فرمایا ”ڈاکٹر صاحب آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں مگر ہمارا چونکہ ان کے ساتھ عزت و احترام کا ایک رشتہ ہے تو آپ ذرا طریقے سے انہیں سمجھا دیں کہ یہ کام نہیں ہو سکتا‘‘، گورنر پنجاب اگر احد چیمے کی اندھا دھند طاقت سے مرعوب نہ ہوتے اور یہ معاملہ وہ شہباز شریف کے نوٹس میں لے آتے مجھے شک پڑتا ہے شہباز شریف گورنر کو منع کر دیتے کہ یہ کام وہ نہ کریں ، شہباز شریف جتنا احد چیمے سے پیار کرتے ہیں ممکن ہے ان کے بچوں کو وہ اپنے بچے سمجھ کر ان کی فیسیں وہ اپنی جیب سے ادا کر دیتے ، میں اب بھی یہی توقع کر رہا ہوں وہ اس معاملے میں بڑے پن کا مظاہرہ کریں گے ، ایچی سن کالج کے آسٹریلوی پرنسپل سے معذرت کریں گے ، ان کی خدمت میں گزارش کریں گے وہ اپنا کام جاری رکھیں آئندہ کوئی اْنہیں تنگ نہیں کرے گا ، شہباز شریف اگر یہ نہیں کر سکتے پھر یہ کریں کہ ایچی سن کالج کے پرنسپل کا اضافی چارج بھی احد چیمے کو دے دیں تاکہ وہ ایسی ’’حکمت عملی‘‘ اپنائیں کہ اس عظیم ادارے میں بے شمار بے ضابطگیاں اگر ہوں بھی وہ منظر عام پر نہ آئیں ، اس ادارے کو اپنے لئے بچانے کا یہ واحد حل حکمرانوں کے پاس ہے جو میں نے بطور ایک مفید مشورے کے ان کی خدمت میں پیش کر دیا ہے۔

 

تبصرے بند ہیں.