گوہر نایاب اور صنعتی ترقی

33

دیکھی ہیں جن کا تعلق نیوز اینکرنگ ڈیپارٹمنٹ یا پھر پروگرامنگ ڈیپارٹمنٹ سے ہوتا ہے اور وہ اسکرین پر انے کے لئے وہگ کا استعمال کرتی ہیں، وہگ(نقلی بال) کا استعمال کرنا کوئی بری بات نہیں کیونکہ اگر اس کا استعمال نہ کیا گیا تو اس کے بعد کی صورتحال ناقابل بیان ہو جاتی ہے۔ جس حساب سے ٹی وی پر انے والی خواتین کو میکپ اور سجنے سنورنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔اس حساب سے چند ایک سال میں ان کی جلد مرجھا جاتی ہے اور بال سر سے جھڑ کر ختم ہونے لگتے ہیں۔ میری ایک دوست جب بھی میرے ساتھ میرے دفتر آتی تو ان خواتین سے ملاقات کرکے ان کو ضرور یہ بات کہتی کہ آپ نے کمال مہارت سے وہگ کا استعمال کیا ہے، بالکل پتہ نہیں چلتا کہ بال اپنے ہیں یا پرائے۔

خیر آج تو اس کالم میں، میں بات کرنے جا رہی ہوں اس ناممکن کام کی جسے صرف 8 ماہ کی انتھک کاوشوں میں ممکن کر دکھایا ہے گوہر نایاب نے، یہ گوہر وہ ہے جس نے خد کو تراش کر اس ملک کی معیشت کو سنوارا ہے۔ عمومی طور پر زمین کی کئی تہوں میں جا کر کانکن سونا چاندی ہیرے جواہرات تلاش کرتے ہیں جسے بعد میں تراش خراش کر ایک اثاثے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، مگر کیا کبھی کسی نے ایسا ہوتے دیکھا ہے ایک گوہر خود کو تراش کر ملک کی تقدیر سنوارے؟یقینا گوہر اعجاز اپنے آپ میں ہی ایک منفرد اور اعلیٰ مثال ہیں ایسا میں نہیں کہہ رہی بلکہ اعداد و شمار کہہ رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق ملکی برآمدات میں مسلسل تیسرے ماہ اضافہ ہو رہا ہے، فروری میں سالانہ بنیادوں پر بر آمدات میں 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، اگر جنوری کی بات کریں تو 27%، دسمبر 2023 میں برآمدات میں 28 فیصد اضافہ ہوا۔ کچھ شعبوں میں بھی ہوش ربا بہتری دیکھنے میں آئی جن میں مینیوفیکچرنگ اور انجینئرنگ کی برآمدات میں 15 %، فوڈ اینڈ ایگریکلچر کی برآمدات میں 70 % کا اضافہ ہوا۔ اس ناقابل یقین پیشرفت سے تجارتی خسارا کم ہوا ہے اور جولائی سے فروری 2024 کے لیے برآمدات میں 14.2 % کا اضافہ ہوا۔ مزید یہ کہ، درآمدات میں 14.1% کی کمی واقع ہوئی، جس سے تجارتی توازن میں مزید بہتری آئی اورہماری برآمدات بھی حوصلہ افزا رہی۔

یہ وہ نتائج نہیں ہیں جیسے کہ 8 فروری کو پوری قوم نے مل کر ووٹ ڈالے اور الیکشن کمیشن نے کئی دن لگا کر اس کے نتائج ظاہر کیے، جس کے بعد بھی لوگ راضی نہ ہو سکے۔ 25 کروڑ لوگ جن میں سے تقریبا ساڑھے پانچ کروڑ لوگوں نے ووٹ کاسٹ کیا مگر نتائج پر اطمینان کا اظہار نہ کیا۔ شعبہ صنعت و تجارت نے جو نتائج دیئے اس نے نہ صرف مارکیٹ اور انڈسٹری میں ایک نئی روح پھونکی بلکہ ملک کو ایک نئی کامیابی اور ترقی کی سمت پر بھی گامزن کردیا۔

بین الاقوامی تجارت میں اگر پاکستان اپنا حصہ بڑھائے تو اس سے پاکستان کا مستقبل سنور سکتا ہے، اسی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جتنے بھی دورے ہوئے، ملاقاتیں ہوئیں، معاہدے ہوئے اور منصوبے طے پائے ان کے نتائج وقتاً فوقتا ًسامنے ا ٓرہے ہیں جن میں بہترین مثال چین کے ساتھ دو طرفہ تجارتی حجم کی ہے جس میں 46 % کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ 8 ماہ میں 544 ملین ڈالر کا یہ اضافہ ایک اہم کامیابی ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ چین کے ساتھ ہمارے اقتصادی تعلقات کامیاب ہیں۔

جس دن آپ نے منسٹری کا چارج سنبھالا تھا اس وقت ملکی برآمدات منفی 9% پر موجود تھیں جنہیں 8 ماہ میں 30 % پر لانا جوئے شیر لانا کے مترادف ہے۔ یہ رجحان کچھ اس طرح سے رہا کہ اگست میں 5%، ستمبر میں 3 %، اکتوبر میں 22 %، نومبر میں 12%، دسمبر میں 28 %، جنوری میں 27 %، 8 فروری میں 30 % رہا۔ایسا تبھی ممکن ہے اگر نوکری کو نوکری نہیں بالکل فرض سمجھ کر ادا کیا جائے۔

اس طرح ملکی صنعت و تجارت کو تباہی کے دہانے سے بچانے کی صلاحیت صرف ایک شخصیت میں نظر آنا بھی فکر مندی کی بات ہے۔ کیا نئی حکومت بننے کے بعد جو ٹریڈ مارک گوہر اعجاز نے سیٹ کیا ہے، کوئی اور وزیر اس معیار کا کام کر پائے گا؟ جس قرض کی دلدل میں ہمارا پیارا ملک موجود ہے، اس کو نکالنے کی صلاحیت کسی میں موجود ہے؟؟ کیا ہم پاکستان کو خود مختار ریاست بنتا دیکھیں گے؟؟ کیا ہر وہ شخص جو جھنڈے والی گاڑی میں سفر کرتا ہے وہ اس جھنڈے کا قرض ادا کرنے کی قابلیت رکھتا ہے؟؟ ان سوالوں کے جواب تو ناکامی کب موصول ہوں گے لیکن جس مہارت سے گوہر نایاب نے ملکی صنعت و تجارت کا پہیہ رواں کیا ہے مجھے تو میری سہیلی کی یاد تازہ ہوگئی جو کہا کرتی تھی ،بہت مہارت سے وہگ کا استعمال کیا ہے بالکل پتہ نہیں لگتا کہ بال اپنے ہیں یا پرائے۔ اسی طرح بالکل یقین نہیں آتا کہ یہ رپورٹ کا ڈیٹا پاکستان کی برآمدات کا ہے یا کسی اور ملک کا۔

آپ کے احباب فرماتے ہیں ملک سے محبت جنونی ہے آپ کی اور اس کی فلاح کیلئے آپ نے دن دگنی رات چگنی محنت کی ہے جس کا ثمر ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ اس ہمت و عزم پر مجھے کچھ اشعار یوں ہی یاد آگئے کہ
جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقیں ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا

تبصرے بند ہیں.