سہولتیں اور آسانیاں فراہم کرنے کی طرف آئیے!

25

موجودہ نظام حیات سے عوام پریشان تو ہیں مگر فی الحال اسے بدلنے کی پوزیشن میں نہیں اس نظام نے انہیں وہ خوشیاں خوشحالیاں اور آسودگیاں نہیں دیں جس کے خواب انہیں قیام کے وقت دکھلائے گئے تھے جنہیں انہوں نے اپنی آنکھوں میں بسا لیا تھا مگر گزرتے لمحات کے ساتھ ان کے خواب بکھرتے گئے۔
جو بھی حکمران آیا اس نے اپنی ذات کی ہی فکر کی۔ اس کے باوجود لوگ آس کا دامن تھامے رہے کہ کوئی تو آئے گا جو ان کے خواہشوں کے چراغ روشن کرے گا مگر ایسا نہیں ہوا ایک نسل کے بعد دوسری اور تیسری نسل آگئی پھر بھی اسے اپنی منزل نہ مل سکی۔ حالیہ انتخابات میں عوام نے یہ سمجھ کر حصہ لیا کہ اب شاید ان کے دن پھر جائیں گے کہ ان کی حکومت وجود میں آئے گی جو ان کے دکھوں اور تکلیفوں کو دور کرنے کے لئے انقلابی اقدامات کرے گی مگر یہ دیکھ کر انہیں افسوس ہوا کہ ان کے حقیقی نمائندے اتنی تعداد میں کامیاب نہیں ہو سکے جو حکومت بنا سکتے۔
لہٰذا ہمیں لگ رہا ہے کہ اس نظام کو تبدیل کرنے والے اقدامات نہیں ہو سکیں گے کیونکہ جو حکومت آئی ہے وہ سٹیٹس کو کو برقرار رکھنا چاہتی ہے اسے توڑنا نہیں چاہتی وجہ اس کی یہی ہے کہ اگر عوامی حکومت جو اس نظام سے نالاں ہے آتی ہے تو دولت کے ڈھیروں پر بیٹھے لوگ اس کی تقسیم پر مجبور ہو جاتے ہیں لہذا جو سیاسی منظر نامہ ابھرا ہے وہ روایتی ہے عوام کا اس سے کوئی سروکار نہیں اگر ہوتا تو یہ جو الجھنیں اور چالاکیاں نظر آرہی ہیں نہ دکھائی دیتیں۔
بہرحال ایسے تیسے حکومتیں بن چکی ہیں ایک تگڑی حزب اختلاف ایوانوں میں موجود ہے لہٰذا اگر حزب اقتدار چاہتی ہے کہ عوام کی خدمت کی جائے تو اسے حزب اختلاف کو اپنے ہمراہ کرنا ہو گا تنہا وہ کچھ نہیں بصورت دیگر شور شرابا ہی ہو گا اور قانون سازی نہیں ہو سکے گی ویسے قانون پر عمل بھی کہاں ہوتا ہے۔ خیر موجودہ بحرانی کیفیت سے مل جل کر ہی نجات حاصل کی جا سکتی ہے اس کے لئے فریقین کو ٹھنڈے دماغ سے کام لینا ہوگا انتقامی پالیسی سے اجتناب برتتے ہوئے مفاہمت کی راہ
اختیار کرنا ہو گی۔ حکومت کو پورے خلوص سے عوامی خواہشات کو دیکھنا ہو گا اس کے ڈیرھ برس کے دور میں جو لوگوں کے ساتھ ہوا اسے وہ بھول نہیں پائے مگر اب پھر گیس اور پٹرول کو مہنگا کر دیا گیا ہے اس سے اسے پذیرائی نہیں ملے گی اگر وہ یہ جواز پیش کرتی ہے کہ نگران حکومت نے یہ کیا ہے جس کی وہ ذمہ دار نہیں تو عرض ہے کہ اسے بھی عوام آپ کی حکومت سمجھتے ہیں چلئے اس نے جو کیا سو کیا وہ تو عوام کو ریلیف دینے کے لئے آئی ہے لہٰذا نگران حکومت کا کیا دھرا ریورس کرے؟
اب اس کی یہ دلیل ہو گی کہ جس کسی چیز کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے وہ آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے ہوتا ہے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اقتدار میں آئی کس لئے ہے جو لوگوں سے وعدے کیے گئے وہ سب انتخابی تھے؟ پھر یہ سوال بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ جب آئی ایم ایف ہی کی ہر بات ماننی ہے تو یہ انتخابات کا تکلف کیوں کیا گیا ہے؟
اس تناظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب بھی خواب غریبوں کے ادھورے رہیں گے کیونکہ انہیں پچھلے قرضوں کو اتارنا ہے جس کے لئے نئے قرضے لینے ہیں نئے ٹیکس لگنے ہیں ہر چیز کی قیمت بڑھنی ہے تاکہ قومی خزانہ بھرا جا سکے کاش یہ قرضے متعلقہ مدات میں لگائے گئے ہوتے تو مشکلات کم بڑھتیں مگر ان کا استعمال غیر پیداواری و غیر متعلقہ منصوبوں پر ہوا جس کی بنا پر آج پچیس کروڑ عوام ان کے بوجھ تلے کراہ رہے ہیں اب مزید ان کی آہوں میں اضافہ کردیا گیا ہے کہ وہ گیس مہنگی ہونے سے تڑپ اٹھے ہیں۔ بل سینکڑوں میں نہیں ہزاروں میں بھیجے جا رہے ہیں۔
دیہاڑی دار چھوٹے سرکاری وغیر سرکاری ملازمین سب چیخ رہے ہیں سرکاری ملازمین کے ساتھ ایک یہ بھی زیادتی ہو رہی ہے کہ انہیں کہا گیا ہے وہ کرونا کے دنوں میں جو تنخواہ لیتے رہے ہیں ان میں جو ایک دو الاؤنس شامل تھے انہیں واپس کیا جائے اور وہ ”روندے کرلاندے“ انہیں واپس کر رہے ہیں۔کیا کہنے جی کیا کہنے۔ ایک ہمارا قومی ایوان ہے چار صوبائی ایوان ہیں جن میں عوامی نمائندوں نے عوام کے مفاد بارے فیصلے کرنے ہوتے ہیں مگر نہیں ہوتے جو ہوتے ہیں وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ برابر۔
اوپر عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب تک ہمارے حکمران طبقات مخلص نہیں ہوتے جمہوریت کا علم بلند نہیں کرتے ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے عوامی توقعات پوری نہیں ہوسکتیں۔
جاوید خیالوی ہمارا دوست تو کہتا ہے کہ حکمرانوں کے اقتدار و اختیار سے والہانہ لگاؤ نے عوامی مفاد کو پس پشت ڈال دیا ہے وہ اپنی تجوریاں بھرتے بھرتے اپنے فرائض بھلا بیٹھے ہیں لہٰذا عوام کو اتنا ہی ملتا ہے جس سے وہ اپنی سانسیں بحال رکھ سکیں اور محنت مشقت کرکے ان کے شاہانہ رہن سہن پر خرچ ہونے والے قرضے اتار سکیں لہٰذا اگر ایسے طرز عمل پر قابو نہیں پایا جاتا اور حقیقی جمہوریت و حکومت نہیں آتی خوشحالی کی طرف جانے والے راستے اجڑے ویران اور تاریک رہیں گے۔
جاوید خیالوی کا خیال بڑی حد تک درست ہے حکمران طبقات شروع دن سے ذاتیات کے حصار میں ہیں انہیں یہ احساس ہی نہیں کہ کروڑوں لوگ انہیں ایوانوں میں اس لئے بھجواتے ہیں تاکہ وہ ان کو سہولتیں اور آسانیاں فراہم کرنے سے متعلق سوچ بچار کریں مگر ایسا نہیں ہوتا قوانین نہیں بنائے جاتے جو بنائے جاتے ہیں محض خانہ پری کے لئے مغربی ممالک کو دکھانے کے لئے جو تیسری دنیا کے لوگوں کو تھوڑے بہت بنیادی حقوق دینے کی بات کرتے ہیں جس کا مقصد ہوتا ہے کہ ان کے سرمایہ داری نظام پر کوئی زد نہ پڑے اور کوئی عوامی جمہوری انقلاب برپا نہ ہو سکے۔ اب جو حکومت بنی ہے اس کے پیچھے بھی یہی سوچ ہو سکتی ہے کیونکہ سٹیٹس کو کا خاتمہ اسے ہرگز قبول نہیں کہ ان کی بڑی بڑی جائیدادیں اور دولت کے انبار ہاتھ سے نکل سکتے ہیں مگر ایسا ایک نہ ایک روز ہونا ہی ہے کیونکہ ارتقائی عمل کو روکنا ممکن نہیں پوری دنیا میں تبدیلیاں آرہی ہیں اصلاحات ہو رہی ہیں وقت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے آگے بڑھا جا رہا ہے مگر ہمارے ہاں وہی روایتی انداز زیست ہے جس نے سیاسی وسماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اس کو مستحکم و مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے حرف آخر یہ کہ جس طرح پی ٹی آئی نے نئی سوچ کے حامل پڑھے لکھے نئے لوگ ایوانوں میں پہنچائے ہیں لگتا ہے آئندہ عام انتخابات میں یہ اقتدار میں بھی آسکتے ہیں لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ پھر ہر خواب پورا ہو جائیگا۔

تبصرے بند ہیں.