موسموں کی طرح بدل گئے موسم

33

پاکستان، جسے ایک وقت میں چاروں موسم نصیب ہوتے ہیں اور ہر موسم کے لیے اپنے اپنے علاقے بھی مخصوص ہیں۔ ہمیشہ میدانی علاقوں میں جب گرمی کی شدت سے ریلوے لائنوں کی پٹڑیاں پگھلنے لگتی ہیں تو عین اسی وقت برزل پاس، بابو سر ٹاپ، درہ در کوٹ اور بیال کیمپ پر درجہ حرارت منفی سے بھی گر جاتا ہے۔ جب دھول اڑاتی آندھیاں گرم علاقوں کا مقدر بنتی ہیں تو انہی دنوں گلگت اور سکردو کے باغات میں طیور نغمہ بہار گنگناتے ہیں۔ پاکستان میں دسمبر سردی کی شدت اور برف باری کے حوالے سے مشہور ہے جبکہ جون گرمی اور دھوپ کا زمانہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
نہ جانے پوری دنیا کیلنڈر کی ترتیب بھول گئی ہے یا موسموں نے اپنا وقت اور مقامات بدل لیے۔ دسمبر میں ہمیشہ پہاڑوں پر برف روئی کے گالے بن کر اترتی تھی اور ہر طرف چاندی کا لیپ چڑھ جاتا تھا جبکہ میدانی علاقے دسمبر کے آخری عشرے اور جنوری کے پہلے ہفتے تک دھند کی لپیٹ میں رہتے تھے۔ دسمبر کے ہی دن ہوا کرتے تھے جب پہاڑی سیر گاہیں سیاحوں سے کھچا کھچ بھری ہوتی تھیں۔ مری اور ناران کے ہل سٹیشن گرمی کے سیزن کی طرح برف باری کے موسموں میں بھی شاداب رہتے تھے مگر اب صورت حال مختلف ہے، دسمبر کا آخری عشرہ تو کجا ماہ جنوری بھی اپنے آخری عشرے تک پہنچ گیا مگر گلگت، سکردو، ناران، نتھیا گلی، ایوبیہ اور مری ویران پڑے ہیں۔ ناران کے تاجر ہر سال کی طرح امسال بھی اکتوبر میں اپنا کاروبار سمیٹ کر بالا کوٹ، ایبٹ آباد اور مانسہرہ پہنچ گئے تھے مگر وہ بھی حیران ہیں کہ برف باری نے کیوں اپنے نزول کا شیڈول بدل ڈالا۔ جن دنوں مری، نتھیا گلی، ایوبیہ اور ناران برف سے ڈھک جایا کرتے تھے اور لوگ گاڑیوں کے ٹائروں پر باندھنے کے لیے زنجیر تلاش کرتے پھرتے تھے، اب انہی تاریخوں میں سڑکوں کی عریانی اور ویرانی منہ چڑاتی ہے۔
حیران کن بات ہے کہ جنوری کے آخری عشرے میں مری کا درجہ حرارت تو آٹھ ہو جبکہ گرمی کے حوالے سے مشہور شہر ملتان میں تین۔ اب دسمبر اور جنوری میں مری کی صبح سورج اپنی حدت بھری کرنیں نچھاور کرتا ہے اور میدانی علاقے دھند میں حد نگاہ صفر کے ساتھ نو گو ایریاز بنے ہوئے ہیں۔ برف باری کی وجہ سے بند ہونے والے راستے تو کھلے ہیں جبکہ دھند نے میدانی علاقوں میں دیواریں ایستادہ کر رکھی ہیں۔
سال 2023 کے جون میں بھی بابو سر ٹاپ پر ہونے والی برف باری نے موسمیات کے ماہرین کو حیران کر دیا تھا اور اب دسمبر، جنوری میں سنو فال نہ ہونے سے بھی پریشانی لاحق ہے۔
میدانی زمینوں پر فصلوں کی کاشت اور برداشت بھی دو سے تین ماہ پہلے ہونے لگی ہے جس کا سبب بیجوں کی سائنسی تیاری بتایا جاتا ہے مگر موسموں پر تو مصنوعی ذہانت کا کوئی اثر نہیں ہوتا، تو یہ کیوں اپنے گوشوارے بھول بیٹھے ہیں؟
دسمبر اور جنوری میں برف کی لڑیوں میں بدل جانے والی آبشاریں بھی سست روی سے سہی رواں تو ہیں۔ خشک سالی بلند وادیوں پر یوں دستک دے رہی ہے جیسے آنے والے دنوں میں دریا بھی پتھروں سے ٹکراتی طغیانی سے خالی خالی ہوں گے۔
دسمبر اور جنوری کی اس غیر متوقع موسمی تبدیلی نے سیاحتی حوالے سے بھی منفی رجحان پیدا کیا ہے۔ جہاں سیاحوں کو اپنا شیڈول تبدیل کرنا پڑا ہے وہاں ہل سٹیشنز سے متعلق کاروباری افراد کو بھی مایوسی ہوئی ہے۔ تعلیمی اداروں اور دیگر محکموں میں ہونے والی سردی کی سالانہ چھٹیوں کے دوران بھی ہل سٹیشنز آباد نہیں ہو سکے۔ موسمی تبدیلی کی وجہ سے دسمبر میں ہونے والی چھٹیوں کو جنوری میں منتقل کرنے کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔
دسمبر اپنی شناخت شائد اس لیے بھی کھو رہا ہے کہ جون میں برف باری نے موسموں کا ٹریک ہی بدل ڈالا ہے۔ ممکن ہے مستقبل قریب میں موسمی شدت کا شیڈول گلوبل وارمنگ کا محتاج ہو جائے۔ پہاڑ اور میدان درختوں سے خالی ہو جائیں تو فطرت بھی کسی زمانی و زمینی گوشواروں کی پابند نہیں رہتی۔

تبصرے بند ہیں.