نواز شریف کااستقبال

48

شور ہے کہ نواز لیگ کا بیانیہ غتربود ہو گیا۔ میں نے پوچھا نواز لیگ کا بیانیہ کیا تھا۔ جواب ملا ووٹ کو عزت دو۔ میں نے جواب دیا کہ یہ حالات کا جبر تھا جس کے تحت یہ نعرہ لگا ورنہ نواز لیگ کا اصل نعرہ صرف اور صرف ’کام کو عزت دو‘ رہا ہے،اس کا بیانیہ ڈویلپمنٹ رہا ہے جیسے جب بہت سارے برائلر صحافی ابھی انڈوں میں ہی تھے تب نوے کی دہائی میں پاکستان میں موٹر ویز بن رہی تھیں، پاکستان ہندوستان کے چھ کے مقابلے میں سات ایٹمی دھماکے کر رہا تھا، ہاں، کچھ مشکلات ضرور پیش آئی تھیں مگر امریکا کی برہمی اور دنیا بھر کے بائیکاٹ کے باوجود اسے اپنی معاشی بقاء کے خطرات ہرگز لاحق نہیں ہوئے تھے۔ نواز شریف اور شہباز شریف بجا طو رپر جدید پاکستان کے بانی سمجھے جا سکتے ہیں اور سوشل میڈیا پرمشہور اور وائرل پوسٹ ہے کہ اگر نواز لیگ کے دور کے ترقیاتی کام نکال دئیے جائیں تو باقی مغلیہ دور کی عمارتیں بچتی ہیں یا خان صاحب کے کٹوں وچھوں، لیٹرینوں پر واٹس ایپ نمبر لکھوانے اور نشئیوں کے لئے پناہ گاہوں جیسے میگا پراجیکٹس۔
میرے ایک صحافی دوست نے شک ظاہر کیا، پوچھا، کیا نواز شریف اکیس اکتوبر کو وطن واپس آ رہے ہیں تو میرا جواب تھا کہ وہ کیوں نہیں آئیں گے۔ جواب کوئی اچھا سمجھے یا برا، پاکستان میں ایک مرتبہ پھر اقتدار ان کا انتظار کر رہا ہے۔ابھی کچھ دن پہلے کہا جا رہا تھا کہ شہباز شریف بیرون ملک چلے گئے ہیں اور میرے باخبر صحافی دوست نے ایک تیسرے صحافی دوست کے سامنے دعویٰ کیا تھا انتخابات بھی نہیں ہو رہے اور شہباز شریف بھی واپس نہیں آ رہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ابھی تک شہباز شریف ہی اگلے وزیراعظم کے طور پر پہلی چوائس ہیں مگر کیا آپ اس چھوٹے بھائی کو داد نہیں دیں گے جو ہر جگہ کہتا پھر رہا ہے کہ اس کی پہلی چوائس بڑا بھائی ہی ہے، وہ اسے چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنوانا چاہتا ہے۔ ا س سے کہا جاتا ہے کہ تم جو ورکنگ ریلیشن شپ قائم کر سکتے ہو وہ تمہارا بھائی نہیں کر سکتا۔ جواب ملتا ہے کہ میں پھر اپنے بھائی کی گارنٹی دینے کے لئے ہی تیار نہیں بلکہ اس کی قیادت میں کام کرنے کے لئے بھی تیار ہوں۔ اگرا ٓپ وزارت عظمیٰ اور نواز شریف میں کسی ایک کا چناؤ کرنے کے لئے کہیں گے تو میرا چناؤ نواز شریف ہو گا۔ پوچھنے والے جانتے ہیں کہ چھوٹا بھائی جو کہہ رہا ہے وہ اس نے پرویز مشرف اور قمرجاوید باجوہ کے سامنے کرکے بھی دکھایا ہے۔ میں نے اپنے ذرائع سے ابھی تک کنفرم کر سکتا ہوں کہ اقتدار کی ریس میں سب سے آگے ابھی تک نواز لیگ ہی ہے۔ کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ پیپلزپارٹی اس ریس میں برابر کی شریک ہے مگر بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے بار بار لیول پلئینگ فیلڈ کے مطالبات نے سب کچھ کھول کے رکھ دیا ہے۔ اب سوال کیا جا رہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے بیانات کا مطلب کیا ہے تو میرا جواب ہے کہ ان بیانات کے ایک سے زیادہ مقاصد ہیں۔ پہلا مقصد مقتدر حلقوں پر دباؤ بڑھانا ہے کہ ان کے شئیر کو بڑھایا جائے۔و ہ اگلے سیٹ اپ میں صرف سندھ کی حکومت پر راضی نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آصف علی زرداری متعلقہ پلیٹ فارم پر اپنی تمام خدمات پیش کریں اور اس کا معاوضہ مانگیں۔ پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے لاہور میں ان کی یہی ڈیوٹی لگائی ہے۔ دوسرا مقصد نواز لیگ کے ساتھ اپوزیشن شو کرنا ہے اوراس کے ذریعے وہ پنجاب میں اینٹی نواز ووٹ کی توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ اینٹی نواز ووٹ جو یہ سمجھتا ہے پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کا کوئی امکان نہیں لہٰذا وہ اپنا ووٹ کیوں ضائع کرے۔ اسی اینٹی نواز ووٹ پر جماعت اسلامی کی بھی نظریں ہیں اور وہ اس کے لئے بڑی جدوجہد کر رہی ہے مگر آج تک ووٹروں نے اسے درخور اعتنا نہیں سمجھا، یہ اس کی بدقسمتی ہے یا کیا ہے، مجھے علم نہیں ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا عوام نواز شریف کا استقبال کرنے جائیں گے تو میرا جواب ہے کہ عوام کے پاس اس وقت اس کے سوا آپشن ہی کیا ہے۔ میں نے ہمیشہ اسی پارٹی کو اقتدار میں آتے ہوئے دیکھا ہے جس کے بارے یہ تاثر پختہ ہو کہ وہ اقتدار میں آ رہی ہے۔ نوے کی دہائی سے لے کر اب تک کا یہی معاملہ ہے اور اب بھی کچھ تبدیل نہیں ہوا اور اگر کچھ تبدیل ہوا ہے تویہی ہوا ہے کہ پی ٹی آئی نے وہ جرم کر دیا ہے جس کی کوئی معافی نہیں ہے یعنی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مخالفت تو معاف ہو سکتی ہے، بیان بازی بھی معاف ہوسکتی ہے لیکن آپ وہ کام کریں جو بھارتی فوج کا خواب ہوکہ جی ایچ کیو پر حملہ ہو، کور کمانڈر ہاؤس کو آگ لگا دی جائے، شہداء کی یادگاروں کو ملبہ بنا دیا جائے تو پھر آپ میں ماضی کی پیپلزپارٹی اور نواز لیگ میں بہت فرق پید ا ہو گیا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ریاست ایسے جرائم کرنے والوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے سکتی ہے تو پھر پاکستان میں را، کے جی بی اور موساد کو بھی انتخابی نشان الاٹ کیا جا سکتا ہے، جمہوریت کے نام پران کے امیدوار بھی پارلیمنٹ میں لائے جا سکتے ہیں۔ میں اسے آسان الفاظ میں سمجھاتا ہوں کہ میرے بھائیو، 9 مئی ایک بہت بڑی تبدیلی کا نام ہے، ایک ایسی تبدیلی جس نے تبدیل ہوتے پاکستان کو پھر تبدیل کر دیا۔ بہرحال اصل سوال یہ ہے کہ نوا زلیگ کا بیانیہ کیا ہے اور اگر یہ ڈویلپمنٹ ہے تو پھر شہباز شریف اور اسحق ڈار کا حالیہ دور کیا تھا جس میں مہنگائی میں اضافہ ہوا تو اس کا جواب نواز شریف نے ہی دیا ہے، کہا ہے کہ اگر پی ڈی ایم کی حکومت ملک کو ڈیفالٹ سے نہ بچاتی تو اس وقت پٹرول ہزار روپے لیٹر ہوتا۔ میں تو اس سے بھی آگے کہوں گا کہ اگر عمران خان کے راستے پر چلتے ہوئے ڈیفالٹ ہوجاتا تو ملک میں پٹرول اور بجلی دستیاب ہی نہ ہوتے۔
نوازشریف کا استقبال ڈویلپمنٹ کے اسی بیانئیے اور اسی اعتماد کے ساتھ کرنا ہوگا جس کے ساتھ انہوں نے آج سے دس برس پہلے حکومت شروع کی تھی مگر انہیں ایوان وزیراعظم سے نکال دیا گیا تھا۔ جس میں انہوں نے جی ڈی پی یعنی ملکی دولت میں اضافہ کیا تھا، ترقی کی شرح یعنی گروتھ ریٹ کو ریکارڈ سطح پر لے کر گئے تھے،افراط زر یعنی مہنگائی کو پچھلے پچاس برسوں کی کم ترین سطح پر لائے تھے، ٹیکسوں کی وصولی کو اسی دور میں دوگنا کیا گیا تھا، لوڈ شیڈنگ ہی نہیں ختم کی گئی تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آپریشن ضرب عضب کرتے ہوئے دہشت گردوں کی کمر بھی توڑی تھی جن کے بعد میں عمران خان پشتی بان بن گئے تھے۔ سی پیک،موٹرویز اور ائیرپورٹوں جیسے انفراسٹرکچر کی ہر طرف ریل پیل تھی اور پاکستان دنیا کی ترقی کرتی بیس بڑی معیشتوں میں شامل ہونے جا رہا تھا۔ امن، ترقی، خوشحالی، ان کی ایک بہت پرانی انتخابی مہم کا نعرہ تھا، جی ہاں، یہی نواز شریف کا اصل بیانیہ ہے اور انہیں اسی کی طرف توجہ دینی ہو گی۔

تبصرے بند ہیں.