برطانیہ میں مقیم کچھ پاکستانی نگینے

29

پچھلے کالم میں عرض کیا تھا میں آپ کو برطانیہ میں سالہا سال سے مقیم کچھ ایسے پاکستانیوں کے بارے میں بتاؤں گا جن کی خان صاحب اور اْن کی جماعت کے ساتھ والہانہ محبت ہے، حیرانی کی بات ہے اس کے باوجود اْنہوں نے کبھی کسی کے گھر کے باہر جا کر گالیاں نہیں بکیں، کبھی کسی کی گاڑی کے آگے یا پیچھے نہیں بھاگے، کبھی بدزبانی نہیں کی، وہ ہمیشہ اخلاقیات کے دائرے میں رہے، میں سوچتاہوں خان صاحب ایسے مہذب لوگوں کو اپنے قریب رکھتے اْن سے راہنمائی لیتے رہتے، آج اْن کے حالات شاید مختلف ہوتے، آج خان صاحب کی صرف مقبولیت ہے ”قبولیت“ نہیں ہے، زمینی حقائق کے مطابق پاکستان میں اقتدار کے لئے مقبولیت اتنی اہم نہیں ہوتی جتنی قبولیت ہوتی ہے، 2018 میں وہ”قبولیت“ ہی کی صورت میں اقتدار میں آئے تھے، اندر کی سب کہانیاں پہلے صرف ہمیں معلوم تھیں اب سب کو معلوم ہیں، کوئی مانے نہ مانے چوروں اور ڈاکوؤں کو اقتدار میں لانے کی ذمہ دار اتنی ہماری اسٹیبلشمنٹ نہیں ہے جتنے خان صاحب خود ہیں، اْن کے پاس دو راستے تھے، ایک یہ کہ جو نامعلوم افراد اْنہیں اقتدار میں لے کر آئے تھے ان سے تعاون جاری رکھتے اور اپنے اقتدار کی مدت پوری کر لیتے، دوسرا راستہ یہ تھا اپنے ان ”محسنوں“ کے ساتھ معاملات کو ایسی بندگلی میں لے جاتے جس کے بعد وہ دوبارہ اْنہی چوروں اور ڈاکوؤں کو اقتدار میں لانے پر مجبورہو جاتے جن سے جان چْھڑوا کر وہ خان صاحب کو اقتدار میں لائے تھے، افسوس خان صاحب نے دوسرا راستہ اختیار کیا جس کے بعد چور اور ڈاکو ایک بار پھر ڈیڑھ برس حکومت کر کے مْلک کو مکمل طور پر ایک گہرے کھڈے میں پھینک کر فرارہوگئے، شاید اٹک جیل کی تنہائی میں اْنہیں اب یہ احساس ہوتا ہو کیسی کیسی غلطیاں کیسے کیسے بلنڈرز اْنہوں نے کئے جن کے نقصانات کا شکار وہ صرف خود نہیں ہوئے ہمارا مْلک اور اْن کی جماعت بھی ہوئی، اور اگر اب بھی اْنہیں احساس نہیں پھر جون ایلیا کا یہ شعر اْن پر فٹ بیٹھتا ہے۔
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
میری ناقص معلومات کے مطابق اب کچھ قوتیں اْنہیں بیرون مْلک بھجوانا چاہتی ہیں، معاملہ اس پر اڑاہوا ہے وہ برطانیہ جانے پر تو تھوڑا بہت راضی ہیں،مگر اْن سے کہا جا رہا ہے کچھ بیرونی دوستوں کی گارنٹی کے بعد وہ صرف کسی عرب مْلک میں ہی جا سکتے ہیں، کیونکہ برطانیہ جانے کے بعد کچھ قوتوں کے لئے وہ زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، وہ کسی عرب مْلک میں جانے پر راضی ہوگئے، پاکستان میں قبولیت اْن کی پہلے ہی نہیں رہی مقبولیت بھی نہیں رہے گی۔۔ 2018 کے الیکشن کے بعد میں نے اْن سے عرض کیا تھا ”آپ کو لْولا لنگڑا اقتدار سونپنے کی سازش کی جارہی ہے اس سے بچ جائیں، اقتدار میں آکر آپ کچھ نہیں کر سکیں گے، اس سے ہزار درجے بہتر ہے آپ مزید کچھ عرصے کے لئے ایک اْمید بنے رہیں، لوگ اس احساس میں مْبتلا رہیں پیچھے کوئی تو ہے جو باقیوں سے مختلف ہے“، وہ بولے ”تمہارا دماغ خراب ہے، اتنے برسوں بعد ہمیں اقتدار مل رہا ہے اور تم کہتے ہو میں اس سے معذرت کر لْوں، یہ بائیس برسوں کی جدوجہد میں نے امب چْوپنے کے لئے کی ہے؟“، میں خاموش ہوگیا اور پھر وہی ہوگیا جس کا میں نے خدشہ ظاہر کیا تھا، کبھی کبھی سوچتاہوں بیرون مْلک مسلسل سفر سے تھوڑی فرصت ملے ”عمرانیات“ کے عنوان سے ایک کتاب لکھوں کیسے کیسے مفت کے مفید مشورے خان صاحب کو ھم دیتے رہے وہ رد کرتے رہے، اللہ کرے اْس وقت تک وہ جیل سے باہر آگئے ہوں، اْن کے لئے آسانیاں پیداہو گئی ہوں، ورنہ پورا سچ میں شاید اس لئے نہ لکھ سکوں میرے اخلاقیات مجھے یہ اجازت نہیں دیتے کوئی دوست چاہے سابقہ ہی کیوں نہ ہو وہ جب مْشکل میں ہو اْس کے بارے میں وہ سچ بولا یا لکھا جائے جو اْس کے لئے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتاہو۔۔
اب میں اپنے اصل موضوع کی طرف آتاہوں، میں آپ کو ایک واقعہ سْناتاہوں، 2021 میں خان صاحب کا اقتدار جب عروج پر تھا اور وہ اور اْن کے ساتھی تکبر کے آخری مقام پر کھڑے تھے، مانچسٹر میں میرے عزیز چھوٹے بھائی حسن چودھری نے میرے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا، ایک زمانے میں وہ پی ٹی آئی کے شدید شیدائی تھے، وہ ایک انقلابی سوچ رکھنے والے انتہائی پڑھے لکھے انسان ہیں، میں اْن سے بہت کچھ سیکھتاہوں، ابتدا میں وہ خان صاحب کے نظریے اور ایجنڈے سے بڑے متاثر تھے، مگر میری طرح کچھ ہی عرصے بعد وہ بھی اس یقین میں مبتلاہوگئے تھے سب ڈرامے ہیں، مانچسٹر میں اْنہوں نے اپنے میڈیا کے دوستوں سے مل کر میرے اعزاز میں جو عشائیہ دیا برطانیہ کے مختلف شہروں میں مقیم پی ٹی آئی کے سرکردہ راہنما اْس میں موجود تھے، پی ٹی آئی برطانیہ کے صدر عبدالستار رانا بھی تھے، میں نے اس موقع پر اپنی تقریر میں خان صاحب کی حکومت کی کچھ پالیسیوں پر سخت تنقید کی، عبدالستار رانا صاحب نے اس پر شدید احتجاج شروع کر دیا، میرا خیال تھا یہ خوبصورت تقریب اب کسی ہنگامے کی نذرہو جائے گی، مجھے حیرانی ہوئی اْنہوں نے اپنے احتجاج میں ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس سے میری دل آزاری ہوتی، اْنہوں نے انتہائی مہذب انداز اپنایا، میں اْن سے بڑا متاثرہوا، تقریب کے بعد ہم جب ملے کوئی دل شکنی ہمارے درمیان نہیں تھی، اْن کے علاوہ بھی اس عشائیے میں کچھ مہمانوں نے میری باتوں سے اتفاق نہیں کیا، ظاہر ہے یہ اْن کا حق تھا، مگر سب اخلاقیات کے دائرے میں رہے، ان میں سے کسی کو آج تک میں نے نہیں دیکھا کسی جگہ پر بدتمیزیوں بداخلاقیوں یا بدزبانیوں کا کوئی مظاہرہ اْنہوں نے کیاہو، میں اس موقع پر برطانیہ (مانچسٹر) میں موجود ایک اور بہت پیاری شخصیت انیل مسرت کا زکر بھی کرنا چاہتاہوں، وہ عمران خان کے ذاتی دوست ہیں، پاکستان کے بیشمار فلاحی اداروں کی دل کھول کر مدد کرتے ہیں، اللہ نے اْنہیں دْنیا کی ہر نعمت ہر سہولت ہر آسائش سے نواز رکھا ہے، سب سے بڑی نعمت یا دولت اْن کے پاس عاجزی کی ہے، ایک انتہائی نفیس انتہائی پڑہے لکھے انتہائی خوبصورت بیرسٹر عامر اْن کے معاون ہیں، یہ بڑے کمال کے لوگ ہیں، انیل مسرت صاحب نے بھی ایک عشائیے کا اہتمام کیا، برطانیہ میں اْس وقت کے پاکستان کے ہائی کمشنر کے علاوہ برطانیہ کے کچھ شہروں کے مئیرز اور کچھ ارکان پارلیمنٹ بھی موجود تھے، پنڈال مہمانوں سے بھراہوا تھا، ان میں زیادہ تر پی ٹی آئی اور خان صاحب کے لورز تھے، میں یہاں بھی اپنا لْچ تلنے سے باز نہ آیا، اپنے خطاب میں ایک بار پھر دبے دبے الفاظ میں خان صاحب کی حکومتی پالیسیوں پر میں نے تنقید کی، میرا خیال تھا مجھے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا، مگر محفل میں موجود کسی شخص نے کسی ایسی بداخلاقی یا بدزبانی کا مظاہرہ نہیں کیا جو عمومی طور پر پی ٹی آئی یا خان صاحب کے لورز کرتے ہیں، مکرر عرض کرنا چاہتاہوں، لندن میں مقیم صرف چند گندے انڈے ہیں جو اپنی بدزبانیوں بداخلاقیوں اور بداعمالیوں سے اپنی ہی جماعت (پی ٹی آئی) کے امیج کو مزید تباہ کرنے پر تْلے ہوئے ہیں، ورنہ میں تو جب بھی برطانیہ گیا مجھے صرف محبت کرنے والے لوگ ہی ملے، کچھ دوستوں کے بارے میں اگلے کالم میں عرض کروں گا۔۔

 

تبصرے بند ہیں.