صحافت اور صحافیوں کا خون ناحق!

8

چند دن پہلے سینٹ کے وقفہ سوالات میں وفاقی حکومت نے سینٹ میں صحافیوں کے قتل سے متعلق کچھ اعداد و شمار پیش کئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ”گزشتہ چار سال کے دوران پاکستان میں 42 صحافی قتل ہوئے ۔ان میں سے صرف ایک صحافی کے قاتل کو سزا ہوئی۔ جبکہ 50 فیصد صحافیوں کے قاتلوں کو گرفتار تک نہیں کیا جا سکا۔ کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (CPNE) نے بھی آزادی صحافت کے حوالے سے سال 2022 کے متعلق ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں آزادی صحافت کس قدر دباو کا شکار ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ”2022 میں چار صحافی قتل ہوئے“۔ معروف صحافی ارشد شریف، اطہر متین اور ضیا الرحمن فاروقی کے بہیمانہ قتل اس بات کا مظہر ہیں کہ پاکستان میں آزادی صحافت کی حالت کس قدر دگر گوں ہے۔ رپورٹ میں خاتون صحافی صدف نعیم کا بھی تذکرہ ہے۔ یہ خاتون ،عمران خان کی ریلی میں ان کے کنٹینر کے پیچھے بھاگتی کنٹینر کے نیچے آ کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ پتہ یہ چلا کہ سال 2022 میں تشدد، حملے اور ہراسگی کے 28 واقعات ہوئے۔ اس کے علاوہ آن لائن ہراسمنٹ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت بہت سے صحافیوں کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ سال 2022 میں آزادی صحافت کی درجہ بندی میں ایک سال کے دوران گیارہ پوائنٹ نیچے لڑھک کر پاکستان 157 ویں درجے پر آگیا ہے۔“
یہ آزادی صحافت کی تازہ ترین صورتحال ہے۔ تاہم پاکستان میں صحافت اور صحافیوں پر مشکلات کی ایک تاریخ ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ کسی بھی حکومت نے آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کے بارے میں کوئی اعلیٰ معیار قائم نہیں کیا۔ دیکھا گیا ہے کہ برسراقتدار آنے سے قبل ہرسیاسی جماعت اپنے آپ کو آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کا داعی بنا کر پیش کرتی ہے۔ مگر برسر اقتدار آنے کے بعد صورتحال تبدیل ہو جاتی ہے۔ بادی النظر میں اس کی وجہ یہ ہے کہ عمومی طور پر ہر حکومت چاہتی ہے کہ اس کی کارکردگی کی تعریف ہو۔ اس کے منصوبوں کو سراہا جائے۔ اس کی پالیسیوں کی ستائش کی جائے۔ غیر جانبدار صحافی اور صحافتی اداروں کے لئے ہر وقت حکومت وقت کی تعریف کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ انہیںحکومتوں پر تنقید کرنا پڑتی ہے۔ ان کی پالیسیوں کی کمزوری یا خامیوں کو زیربحث لانا پڑتا ہے۔انہیں عوام الناس کی مشکلات کا تذکرہ کرنا پڑتا ہے۔ یعنی مہنگائی، بیروزگاری، بد امنی، پٹرول ، گیس ، بجلی کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کا ذکر کرنا پڑتا ہے ۔ اپنے خلاف ہونے والی تنقید کو کوئی حکومت کم ہی برداشت کرتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صحافتی اداروں اور صحافیوں کو حکومت کا دباو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ بسا اوقات سرکاری اشتہارات کی بندش کر دی جاتی ہے تاکہ ادارے کو مالی مشکلات سے دوچار کر کے دباو میں لایا جائے۔ حکومتوں کے علاوہ صحافتی اداروں کو طاقتور ریاستی اداروں اور تنظیموں کا دباو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے ۔
ہر دور اور ہر زمانے میں کم و بیش یہی صورتحال ہوتی ہے۔ تاہم گزشتہ دور حکومت کو آزادی اظہار رائے کے حوالے سے بدترین گردانا جاتا ہے۔ ہم نے بہت سے سینئر صحا فیوں کو یہ کہتے بھی سنا کہ اس قدر کڑی سنسر شپ تو مارشل لاءکے دور میں بھی نہیں تھی۔اس زمانے میں ”گستاخ“ صحافیوںٹیلی ویژن پروگرام اور اخباری کالم بند کروائے گئے۔بہت سوں کو نوکریوں سے فارغ کیاگیا۔ اس دور میں یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ کرایہ نامہ کے ایک جھوٹے کیس میں معروف صحافی اور دانشور عر فان صدیقی کو آدھی رات کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں ہتھکڑیاں ڈالی گئیں۔ جیل کی کال کوٹھری میں رکھا گیا۔اس دور حکومت میں پاکستانی صحافت اور صحافیوں کے حوالے سے معروف ادارے ” فریڈم نیٹ ورک“کی رپورٹ برائے2019-20 میں بتایا گیا کہ صحافیوں کے خلاف تشدد کے کم از کم 91 واقعات پیش آئے۔ ایک سال میں سات صحافی قتل کر دئیے گئے۔ دو اغوا کئے گئے۔ نو کو گرفتار کر کے زیر حراست رکھا گیا۔دس صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ رپورٹ میں یہ افسوسناک انکشاف ہوا کہ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد، صحافیوں کے لئے سب سے غیر محفوظ مقام ہے جہاں 34 فیصد مذکورہ بالاپر تشدد واقعات پیش آئے۔ سندھ 27 فیصد کیساتھ دوسرے، پنجاب 22 فیصد کیساتھ تیسرے، خیبر پختونخواہ 14 فیصد کیساتھ چوتھے جبکہ بلوچستان 3 فیصد کیساتھ پانچویں نمبر پر رہا۔ 69 فیصد واقعات ٹی۔وی صحافیوں کے ساتھ پیش آئے کیوں کہ انہیں پہچاننا آسان تھا۔ ایک اور بین الاقوامی ادارے”رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز“کی رپورٹ کے مطابق 2018 کے بعد سے پاکستانی صحافت شدید دباو میں چلی آرہی ہے اور یہ دباو مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ اعداد و شمار انتہائی افسوس ناک ہیں۔ پاکستان کا تاثر دنیا میں اچھا نہیں ہے۔ سچ پوچھئے تو ہم منفی تاثر کے حامل ہیں۔ ہمارے ہاں تواتر سے مارشل لگتے رہے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ ہماری جمہوریت اور جمہوری اقدار کمزور ہیں۔ ہماری انتخابی تاریخ بھی اچھی نہیں ہے۔ یہاں انتخابات چرائے جاتے ہیں۔ من مرضی کی حکومتیں بنائی جاتی ہیں۔ ہمارا عدالتی نظام بھی قابل فخر نہیں ہے۔ عدالتی تاریخ میں بہت سے ایسے فیصلے ہیں جن کے ذکر پر آج بھی ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ تعلیم، صحت، امن عامہ، حقوق نسواں، انسانی حقوق وغیرہ کے ضمن میں ہم گئے گزرے ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا پاسپورٹ دنیا کا بدترین پاسپورٹ سمجھا جاتا ہے۔ جو صومالیہ جیسے ملک کے ہم پلہ رینک ہوتا ہے۔
ایسے میں آزادی صحافت سے متعلق اس قسم کی رپورٹیں ہمارے تاثر کو مزید خراب کرتی ہیں۔ ان داخلی حالات کے ساتھ جب ہم دنیا کے سامنے کشمیر میں بھارتی مظالم کا تذکرہ کرتے ہیں۔ یا یہ کہتے ہیں کہ بھارت نے کشمیریوں کے انسانی حقوق ضبط کر رکھے ہیں تو دنیا ہماری آواز پر کم ہی کان دھرتی ہے۔ وہ ہمیں سنجیدہ نہیں لیتی۔ عالمی پلیٹ فارموں پر پاکستان میں آزادی اظہار رائے پر نافذ قدغنوں کا ذکر ہوتا ہے۔ بسا اوقات ہمیں یہ نصیحت سننا پڑتی ہے کہ ہم پہلے اپنے گھر کے حالات پر توجہ دیں۔ اپنا قبلہ درست کریں۔پھر اپنے ہمسایہ ملک کے رویے کا ذکر کریں نجانے کب ہمارے ہاں آزادی اظہار رائے کی صورتحال بہتر ہو گی۔کب صحافیوں کے اندر یہ اعتماد پیدا ہو جائے گا کہ ان کی زندگی کو کسی اندھی گولی سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ نجانے کب صحافیوں کے اہل خانہ کو یہ خوف نہیں رہے گا کہ نہ جانے صحافت کے پیشے سے وابستہ ان کا پیارا گھر آجائے گا یا غائب ہو جائے گا؟ یقین جانئے جس دن ہمارے ہاں آزادی اظہار رائے کی صورتحال ٹھیک ہو جائے گی، اس دن دنیا کے سامنے ہمارا تاثر مثبت ہوجائے گا۔

تبصرے بند ہیں.