دسمبر۔۔۔المیوں کا مہینہ

6

دسمبر کو المیوں کا مہینہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔اس مہینے میں قائد اعظم کا پاکستان دو ٹکروں میں بٹ گیا تھا۔ دسمبر ہی میں ہم نے محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی زیرک سیاسی رہنما کو کو کھو دیا تھا۔ آرمی پبلک سکول میں دہشت گردی کا واقعہ بھی دسمبر کے مہینے میں پیش آیا۔
16 دسمبر 1971 کو سقوط ڈھاکہ کا سانحہ رونما ہوا تھا۔ اس حادثے کو 51 سال گزر چکے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے آج تک اس سانحے سے سبق نہیں سیکھا۔ آج بھی ہمارے رویے وہی ہیں جو اکاون برس پہلے تھے۔آج بھی ہمارے ہاں حصول اقتدار کی دوڑ جا ری ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔آج بھی بہت سے معاملات میں ہم حقائق سے چشم پوشی کی روش اختیار کئے رکھتے ہیں ۔ نہایت محنت اور بہت سی قربانیوں کے بعد پاکستان کا حصول ممکن ہوا تھا۔ آزادی کی خاطر مسلمان ہند نے اپنا لہو بہایا۔قیمتی جانیں قربان کیں۔خواتین کی عصمتیں پامال ہوئیں ۔ کیسا بڑا سانحہ ہے کہ محض 24 برس کے بعد قائد اعظم کا پاکستان دو لخت ہو گیا۔ ایک حصہ بنگلہ دیش بن گیا۔ ہم نے کبھی اس المناک سانحے کی وجوہات جاننے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اگر کوئی کاوش ہوئی بھی تو اس پر پردہ ڈال دیا گیا۔ پانچ دہائیاں بیت چکی ہیں۔ آج تک ہم یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ یہ فوجی شکست تھی یا سیاسی؟ ہم پر فرض تھا کہ ہم کھوج لگاتے کہ بنگالی کیوں ہمارے خلاف ہو گئے؟ ایسا کیا ہوا کہ وہ ہمارے دشمن بھارت کا ساتھ دینے اور ہمارے خلاف ہتھیار اٹھا نے پر مجبور ہو گئے؟ معاملات اس نہج تک کیونکر پہنچے کہ ہمیں اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوجی آپریشن کرنا پڑا؟۔
المیے سے بڑا المیہ ہے کہ ہم نے اس واقعے سے سبق سیکھنے اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ایسا نہیں ہے کہ اس ضمن میں کوئی تحقیق یا تفتیش نہیں ہوئی۔ اب تک اس موضوع پر بیسیوں مستند کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ سب سے مستند دستاویز تو حمود الرحمن کمیشن رپورٹ ہے۔ بچھے کچھے پاکستان کی کمان ذوالفقار علی بھٹو تو سنبھالی تو انہوں نے ایک کمیشن تشکیل دیا تھا۔مقصد یہ تھا کہ سقوط ڈھاکہ کے اسبا ب معلوم ہو سکیں۔ اس کمیشن کے اراکین نے کم و بیش 300 گواہان کے بیانات قلم بند کئے۔ نہایت محنت اور جانفشانی سے رپورٹ تیار کی۔ اس رپورٹ میں سانحے کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی۔ ذمہ داروں کا تعین کیا گیا اور سفارش کی گئی کہ ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔ صد افسوس کہ اس کمیشن کی سفارشات کو نظر انداز کر دیا گیا۔یحییٰ خان اس وقت صدر اورچیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر فائز تھے۔ وزارت دفاع اور خارجہ کی کمان بھی ان کے ہاتھ میں تھی۔ تحقیق کے بعد کمیشن نے جنرل یحییٰ خان پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلانے کی سفارش کی تھی۔ اس سفارش پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ یحییٰ خان نے نہایت سہولت کی زندگی گزار ی اور وفات کے بعد فوجی اعزاز کیساتھ آرمی قبرستان میں دفن ہوئے۔سقوط ڈھاکہ کے وقت پلٹن گراونڈ میں پاکستانی افواج نے بھارت کے سامنے ہتھیار ڈالے ۔ پاکستان کا پرچم سرنگوں ہو گیا۔ ہمارے نوے ہزار فوجی قیدی بنا لئے گئے تھے۔ اس زمانے میں ایسٹرن کمان کی سربراہی لیفٹننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کے سپرد تھی۔ حمو دالرحمن کمیشن نے جنرل نیازی کے کورٹ مارشل کی سفارش کی تھی۔تاہم جنرل نیازی بھی آرام و سکون کی زندگی گزار کر اس جہان سے رخصت ہوگئے ۔ کمیشن نے بہت سے افسران پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلانے، کورٹ مارشل کرنے اور محکمہ جاتی کاروائی کر کے سزا دینے کی سفارش کی تھی۔ تاہم ان سفارشات پر عمل نہیں ہوسکا۔حمود الرحمن کمیشن نے جنہیں ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ان سے کوئی جوابدہی نہیں کی گئی۔الٹا یہ ہوا کہ ان میں سے کچھ کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کر دیا گیا۔ کوئی وفاقی وزیر بنا۔ کوئی کسی یورپی ملک میں سفیر تعینات ہوا۔ کوئی کسی قومی ادارے کے چیئرمین کے عہدے پر متمکن ہوا ۔ یعنی قائد اعظم کا پاکستان ٹوٹ گیا لیکن کسی ذمہ دار کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا۔
سچ یہ ہے کہ چند ہی برس گزرنے کے بعد ہم نے اس سانحے کو بھلا دیا ۔اب کئی برس سے ہم 16 دسمبر کا دن منانے سے بھی گریزاں رہتے ہیں۔ اپنے گریبان میں جھانکنا تو دور کی بات ہے، دیکھنے میں آیا ہے کہ اس موضوع پر غیرجانبدارانہ گفتگو کی بھی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ برس لاہور کی ایک معروف نجی جامعہ میں سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے ایک مذاکرے کو بوجوہ آخری وقت پر منسوخ کرنا پڑا۔ گر ہم جامعہ کی سطح پر اس موضوع کو یر بحث نہیں لا سکتے تو اسکول کی سطح پر اپنے بچوں اور نوجوانوں کو اس سانحے کے بارے میں کیا بتاتے ہوں گے؟۔
مستقبل میں سقوط ڈھاکہ جیسے سانحے سے بچنے کمیشن کیلئے ٹھوس تجاویز دی تھیں۔ کمیشن رپورٹ میں فوج کے سیاست میں ملوث ہونے کو ملکی مفاد کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اس رپورٹ کے بعد بھی آئین پاکستان کو توڑا گیا۔ وطن عزیز کو جنرل ضیا اور جنرل مشرف کا مارشل لاءبھگتنا پڑا۔ بیس برس تک ملک کو آمریت کا سامنا کرنا پڑا۔ افسوس کی بات ہے کہ آج بھی اس قسم کی باتیں اور بحثیں جاری ہے۔ آج بھی ملک بے یقینی کی کیفیت میں ہے۔
دسمبر کے مہینے میں ہم نے بے نظیر بھٹو کو کھو دیا تھا۔ 27 دسمبر 2007 میں محترمہ راولپنڈی لیاقت باغ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے بعد واپس لوٹ رہی تھیں کہ دہشت گردی کا نشانہ بن گئیں۔ بر سبیل تذکرہ 1951 میں اس جگہ (کمپنی باغ) پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو بھی گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا۔ لیاقت علی خان کا خون بھی ہوا کا رزق ہو گیا تھا۔ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کا بھی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔16 دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دہشت گردی کا ایک نہایت اندوہناک حادثہ ہوا تھا۔ اس واقعے میں ڈیڑھ سو معصوم بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس حادثے کے بعد ہی بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان تشکیل پایا تھا یہ قومی ایکشن پلان ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے مل بیٹھ کر وضع کیا تھا۔ اس پلان کی تشکیل کا مقصد یہ تھا کہ دہشت گردی کا قلع قمع کیا جا سکے۔ کچھ عرصہ تک دہشت گردی کا عفریت قابو میں رہا بھی۔لیکن ہم دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں کر سکے۔اس کی بڑی وجہ یہ کہ اس پلان پر آج تک پوری طرح عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔ اب تو یہ ایکشن پلان قصہ پارینہ ہو چکا ہے۔ اس کا ذکر بھی ہم نہیں سنتے۔
کاش ہم اپنے ماضی کو یاد رکھیں۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں۔ ان سے سبق سیکھنے کی کوشش کریں۔ ان غلطیوں کو نہ دہرانے کا عزم باندھیں۔ اگر اب بھی ہم ایسا کرنے سے انکاری رہتے ہیں تو ڈھلوان کا یہ سفر اسی طرح جاری رہے گا۔

تبصرے بند ہیں.