جیلوں میں مفت خوری بند ہونی چاہیے!!!

9

ملک میں جرائم کے گراف میں تشویشناک حد تک اضافہ یقینا حکومت اور عوام دونوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔لیکن سوچنے کی بات ہے کہ اس کے تدارک کے لیے جدید اورماڈرن بنیادوں پرکچھ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں یا پھر وہی صدیوں پرانے طریقے یعنی پو لیس کی چھترول، جیل کی سختیاں، ملزمان کے اہل خانہ کی تذلیل یا پھر آخری آپشن کے طور پر پولیس مقابلے ہی استعمال ہوتے رہیں گے ۔
جرائم کی تو سیکڑوں قسمیں اور شکلیں ہوں گی لیکن مجرموں کی تین ہی بنیادی کیٹیگریز ہیں۔ اول وہ جو کسی ضرورت، مجبوری یا حالات کا شکار ہو کر واردات کرتے ہیں اور دوئم وہ جن کا مقصد صرف ایڈونچر کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح تیسری قسم کے مجرم نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں(قتل غارت، دہشت گردی اور تشدد وغیرہ یقینی طور پر نفسیاتی مسائل ہی ہیں)۔
ویسے تو عوام کے کسی بھی مسئلہ سے حکمران طبقہ ( حکومت میں شامل اور اپوزیشن کا حصہ جماعتیں اور افراد)کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتالیکن امن واماں ایک ایسا ایشو ہے کہ اس کے اثرات سے ہماری اشرافیہ بھی محفوظ نہیں رہ پاتی اور وہ بھی کبھی نہ کبھی اس کی لپیٹ میں آ تو جاتے ہیں۔ لیکن صد افسوس کہ اس کے باوجود جرائم کو موثر انداز میں کنٹرول کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات انتہائی سطحی لیول سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔
اگر ہم جیسے عام لوگوں کو یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ آج کے دور میں جرم اور مجرموں کے ساتھ جنگ کے لیے روائتی نہیں بلکہ ماڈرن اور سائنٹفک طریقے اختیار کرنا ہوں گے تو ( اتنی سادہ سی بات اگر کسی جعلی ڈگری یافتہ رکن اسمبلی کی سمجھ میں نہیں آتی تو ٹھیک ہے لیکن) تعلیم یافتہ نوجوانوں کی کریم جو سی ایس ایس جیسے مشکل امتحانات پاس کرنے کے بعد پولیس فورس میں شامل ہوتے ہیں کو یہ
بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ انہیں روائتی سسٹم کا حصہ بننے کے بجائے نظام کو ماڈرن اور بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے تھانوں اور جیلوں میں دیواروں پر لکھوایا گیا ہے کہ، ’نفرت مجرم سے نہیں جرم سے‘ وغیرہ وغیرہ اور ایک تجویز یہ بھی تھی کہ جیلوں کو سدھار سینٹرز کا نام دے دیا جائے۔ لیکن مسئلہ اگر نام تبدیل کرنے یہ دیواروں پر نعرے درج کرنے سے حل ہوتا تو کیا ہی بات تھی زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ ہمارے ہاں آج بھی تفتیش اور پراسیکیوشن کا صدیوں پرانا نظام رائج ہے ۔
مشاہدے میں آیا ہے کہ (خاص طور پر پنجاب کی) جیلوں میں قیدیوں کی صحت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ کھانے میں چکن، گوشت، انڈے، دالیں اور سبزیاں وغیرہ شامل ہیں ، رمضان میں سحر اور افطار کا خصوصی انتظام ہوتا ہے، پینے کے لیے فلٹرڈ واٹر دستیاب ہے، ہفتہ دو ہفتے بعد ٹیلیفون کی سہولت بھی میسر ہے۔ سابق حکومت نے تو ایک قدم اور آگے جاتے ہوئے جیلوں کو ائیر کنڈیشنڈ کرنے کا منصوبہ بھی بنا ڈالا تھا۔ اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا غربت کی سطح سے نیچے کی زندگی بسر کرنے والے کسی انسان کو یہ تمام سہولتیں اپنے گھر میں دستیاب ہیں؟ اگر نہیں تو وہ کیونکر جیل سے نکل کر ایک مرتبہ پھر سے اپنے خاندان کی ذمہ داریوں اور معاشرے کی ستم ظریفیوں کا سامنا کرنا چاہے گا۔
ایک طرف تو قیدیوں اور حوالاتیوں کی مہمان نوازی کی یہ حد ہے تو دوسری طرف قانون کی عملداری کا یہ عالم ہے کہ زیادہ تر جیلوں میں ہر قسم کا نشہ باآسانی دستیاب ہے، جنسی جرائم حد سے زیادہ ہیں اور طبقاتی تقسیم ضرورت سے بھی بہت زیادہ ہے۔ تھانوں اور عدالتوں کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ بڑے سے بڑے جرم کا ارتکاب کرنے والا اگر بااثر اور صاحب حیثیت ہے اور اس کے معاملات کی پیروی کرنے والے موجود ہیں تو اس کے لیے فکر کی کوئی بات نہیں۔اول تو اس کے خلاف مقدمہ تفتیش کی سطح پر ہی خارج ہو جاتا ہے اور اگر کسی وجہ سے چالان عدالت میں پیش ہو جائے تو عدالتی نظام کے جھول اور وکلاکی جادوگریاں اسے بری کرا دیتی ہیں۔
بلاشبہ قیدی اور حوالاتی بھی پاکستان کے شہری ہیں اور ملکی و بین الاقومی قوانین کے مطابق سہولیات ان کا حق ہے لیکن کیا یہ ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ ملک کی ایک بڑی آبادی کو بٹھا کر کھلانے کے بجائے ان بھٹکے ہوئے کرداروں کو راہ راست پر لانے اور انہیں مفید اور کارآمد شہری بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے؟ بجائے اس کے کہ جیلیں جرائم کی یونیورسٹیاں بنیں انہیں حقیقی معنوں میں رفاعی ادارے بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔ بلکہ میرا تو حکومت کو یہ مشورہ ہو گا کہ پیشہ ور مجرموں کے لیے جیل سہولیات انتہائی کم کر دی جائیں تاکہ لوگ اسے اپنا خالہ جی کا گھر سمجھ کر یہاں زیادہ سے زیادہ قیام کے بجائے اپنے کرتوت اس قدر درست کریں کہ یہاں آنے کی نوبت ہی نہ آئے ۔ ہاں البتہ جیل میں قیام کے دوران اگر کوئی قیدی اپنے رویے سے یہ ثابت کرے کہ وہ جرم اور گناہ سے حقیقی معنوں میں توبہ کر چکا ہے اور وہ کسی بھی قسم کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے یا کوئی ہنر سیکھنا چاہتا ہے تو اسے ہر ممکن سہولت بھی مہیا کی جائے اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔
اس کے علاوہ جیل کے اند ر مفت کھانا اور دیگر سہولیات بھی صرف غریب اور مستحق قیدیوں کا حق ہونا چاہیے۔ جو لوگ صاحب حیثیت ہیں ان سے نہ صرف دستیاب تمام تر سہولیات کے پیسے وصول کیے جائیں بلکہ ان کے قیام کا کرایہ بھی وصول کیا جائے۔
ان قدامات سے ایک طرف تو سرکاری خزانہ پر بوجھ کم ہو گا تو دوسری طرف جرائم پیشہ افراد کو بھی یہ پیغام ملے گا کہ جیل جانے کے بعد مکمل مفت خوری نہیں چلے گی۔

تبصرے بند ہیں.