ملزم عمران احمد نیازی حاضر ہو

22

اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات کی روشنی میں ملزم عمران احمد نیازی نے تحریری جواب جمع کرایا ہے اگر وہ تسلی بخش ہے تو عمران خان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس ہو جائے گا اور عدالت اگر اس سے مطمئن نہ ہوئی تو توہین عدالت کی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔ تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان نے توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات کی روشنی میں اپنا ضمنی تفصیلی جواب جمع کرا دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ میں نے جج زیبا چوہدری کے حوالے سے جو الفاظ استعمال کیے ہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا اور یہ بھی کہ مجھے ان الفاظ کے استعمال پر افسوس ہے۔ ان کے مطابق ‘غیر ارادی طور پر بولے گئے الفاظ پر افسوس ہے، بیان کا مقصد خاتون جج کی دل آزاری کرنا نہیں تھا، اگر خاتون جج کی دل آزاری ہوئی تو اس پر افسوس ہے۔’  جج زیبا چوہدری کے حوالے سے انہوں نے اپنے جواب میں لکھا ہے ‘اپنے الفاظ پر جج زیبا چوہدری سے پچھتاوے کا اظہار کرنے سے شرمندگی نہیں ہوگی، عدلیہ کے خلاف توہین آمیز بیان کا سوچ بھی نہیں سکتا۔’
اپنے اس جواب میں انہوں نے عدالت سے غیر مشروط معافی نہیں مانگی بالکل اپنے غصے کی وجوہات کا ذکر کر کے اپنے اس عمل کا دفاع کیا ہے ان کے مطابق ‘مجھے لگا کہ ماتحت عدالت نے جسمانی ریمانڈ دے دیا تو بات وہاں ختم ہوگئی، شہباز گل پر ٹارچر کی خبر تمام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر آئی، جو ویڈیوز آئیں ان میں شہباز گل کو سانس نہیں آرہی تھی اور وہ آکسیجن ماسک کے لیے منتیں کر رہے تھے، شہباز گل کی اس حالت نے ہر دل اور دماغ کو متاثر کیا ہوگا۔عدالت کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ آئندہ ایسے معاملات میں انتہائی احتیاط سے کام لوں گا، کبھی ایسا بیان دیا نہ مستقبل میں دوں گا جو کسی عدالتی زیر التوا مقدمے پر اثر انداز ہو۔’
قارئین محترم یہ ہے جواب کا ایک حصہ جو جمع کرایا گیا ہے۔ گزشتہ پیشی پر انہوں نے جو جواب جمع کرایا تھا اس میں بھی انہوں نے غیر مشروط معافی مانگنے کے بجائے مقدمہ کو لڑنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن عدالت نے انتہائی فیاضی اور رحم دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں سوچ سمجھ کر جواب داخل کرانے کی ہدایت دی تھی۔ آج جو جواب جمع ہوا ہے اس میں انہوں نے اپنے ادا کیے گئے الفاظ پر افسوس کا اظہار کیا ہے تاہم اس کی وجوہات کو بیان کر دیا ہے یوں اپنے اس عمل کا دفاع بھی کیا ہے۔ جج زیبا چوہدری سے بھی اظہار تاسف کا کوئی تاثر اس جواب میں شامل نہیں ہے۔ اب یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ جواب کو کافی سمجھ کر انہیں معاف کر دے یا پھر ان کے خلاف مقدمہ کی کارروائی کو آگے بڑھائے۔ ویسے بھی چیف جسٹس اطہر من اللہ نے گزشتہ پیشی پر اٹارنی جنرل کو چپ کرا دیا تھا اور ریمارکس دے تھے کہ یہ معاملہ عدالت اور ملزم کے درمیان ہے۔ زیر التوا مقدمات کے حوالے سے  فواد چوہدری کے خلاف دائر ہونے والی ایک رٹ پٹیشن کو وہ پہلے ہی خارج کر چکے ہیں۔ جس مقدمہ کا ذکر ہم کر رہے ہیں وہ تو خود عدالت نے ازخود نوٹس لے کر شروع کر
رکھا ہے۔ عمران خان کے وکلا کا خیال ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے پاس اس قسم کے کسی ازخود نوٹس کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ گزشتہ پیشی پر عمران خان کے وکیل حامد خان نے عدالت کی توجہ اس جانب مبذول بھی کرائی تھی مگر عدالت نے مزید مہلت دے کر یہ کہہ دیا تھا کہ سوچ سمجھ کر جواب داخل کرائیں۔ عمران خان کا یہ مقدمہ آئندہ توہین عدالت کے حوالے سے ایک مثال کے طور پر پیش کیا جایا کرے گا اس لیے سب کی نظریں اب اس مقدمہ پر ہے جس میں ملزم نے اپنے آپ کو عدالت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا بلکہ اپنے عمل کا دفاع کرنے کے بعد یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ وہ اس قسم کے بیانات دینے میں احتیاط کریں گے۔ ویسے خود عدالت اس بات کو تسلیم کر چکی ہے کہ ان کی ایک بڑی فالوونگ ہے اور فواد چوہدری تو ایک یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ آپ انہیں نا اہل کر کے تو دکھائیں ان کے ساتھ اکثریت موجود ہے جو سب کچھ بہا کر لے جائے گی۔ لوگوں کے غم و غصہ کو پی ٹی آئی نے کنٹرول کر رکھا ہے۔ توہین عدالت کے حوالے سے سپریم کورٹ نے جو فیصلے کر رکھے ہیں وہ بھی اس درخواست کو سننے وقت یقینی طور پر سامنے رکھے جائیں گے اور پھر اس کی روشنی میں عدالت درست فیصلہ کرے گی۔ ویسے بھی سپریم کورٹ یہ کہہ چکی ہے کہ ماضی میں اگر غلط فیصلہ ہو گیا ہو تو جج اسے درست کر سکتے ہیں۔
ویسے مجھے ان لوگوں کے اعتراضات میں کوئی وزن نہیں لگتا جو یہ کہہ رہے تھے کہ اطہر من اللہ کی عدالت میں عمران خان جس طرح پیش ہوئے اور کورٹ روم میں ان کا طرز عمل درست نہیں ہے لیکن عدالت نے اس کا نوٹس نہیں لیا۔عرض یہ ہے کہ عدالت کو عدالت رہنے دیں اسے تھانہ نہ بنائیں۔معاملہ چونکہ خالصتاً عدالت اور ملزم کے درمیان ہے تو عدالت کو جو درست لگے گا وہ اس کے مطابق صحیح فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔ ہم عدالت پر اعتماد کریں گے تو عدالتیں آزادی اور غیر جانبداری کے ساتھ مقدمات کو سن کر فیصلے کیا کریں گی۔ کیا یہ افسوس ناک بات نہیں ہے کہ ن لیگ کے حق میں فیصلہ آ جائے تو تحریک انصاف سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی برپا کر دیتی ہے اور اگر تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ آ جائے تو ن لیگ کے لوگ سوشل میڈیا پر اودھم مچا دیتے ہیں۔ ان حالات میں عدالتیں کام کر رہی ہیں تو سیاسی جماعتوں اور معاشرے کے سرکردہ افراد پر لازم ہے کہ وہ عدالت کے ساتھ کھڑے ہوں۔ عدالت نے گزشتہ سماعت پر یہ بھی کہا تھا کہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اس لیے توہین عدالت کے مقدمات میں جن لوگوں کو سزائیں ہوئی ہیں ان مقدمات کو دیکھیں اور پھر اس کی روشنی میں جواب جمع کرائیں۔ عمران خان کے جواب میں طلال چوہدری کے مقدمہ کا ذکر ہے جواب میں کہا گیا ہے کہ ‘طلال چوہدی کیس الگ نوعیت کا تھا، طلال چوہدری نے بیان پر کبھی کوئی افسوس ظاہر نہیں کیا تھا، عدالت نے مجھے ضمنی جواب کی مہلت دی اس پر بھی تنقید ہوئی۔’  توہین عدالت کے دوسرے مقدمات جن میں نہال ہاشمی اور دانیال عزیز کا مقدمہ شامل تھا اس کا ذکر عمران خان کے جواب میں نہیں ہے۔ یوسف رضا گیلانی کے مقدمہ کا بھی ذکر موجود نہیں ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے انہوں نے سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں ایک خط لکھنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ آئین صدر مملکت کے خلاف کسی بھی کارروائی کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے آئین کا حوالہ دیا لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس جواب کو توہین عدالت قرار دیا اور عدالت کے برخاست ہونے تک انہیں سزا سنا دی گئی اور یوں وہ پانچ برس کے لیے نا اہل ہوئے۔ عدالت جاتے وقت وہ ملک کے وزیراعظم تھے واپسی پر مجرم بن چکے تھے۔ ثاقب نثار نے جو فیصلے کیے ہیں تاریخ ان کے حوالے سے یہ فیصلہ کرے گی کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق درست تھے یا نہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی مشکل بخوبی سمجھی جا سکتی ہے اگر وہ ان فیصلوں کے خلاف کوئی فیصلہ کرے گی جنہیں خود مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی غلط فیصلے قرار دے چکی ہیں تو کیا معاشرتی سطح پر اسے قبول کیا جائے یا سیاسی تعصب کی عینک چڑھا کر لٹھ لے کر تنقید شروع کی جائے گی۔ عدالت کے لیے ایک اور مشکل یہ بھی ہے کہ وہ ریلیف دینا بھی چاہے تو اس کی راہ میں یہ رکاوٹ موجود ہے کہ ملزم نے غیر مشروط معافی نہیں مانگی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بنچ اس اہم مقدمہ کو سن رہا ہے اور امید رکھنی چاہیے کہ کسی سیاسی تعصب اور اپنے اوپر ہونے والی تنقید سے بے نیاز ہو کر وہ اس مقدمہ کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق کرے گا۔

تبصرے بند ہیں.