وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی

32

چوہدری پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی میں اپنی اکثریت کے بل بوتے پر آخر کار وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں منگل اور بدھ کی درمیانی رات گئے صدر مملکت عارف علوی نے عدالتی احکامات کی روشنی میں ان سے ایوان صدر میں حلف لیا جس کے بعد پنجاب میں اس بحران کا وقتی طور پر خاتمہ ہو گیا جو گزشتہ تین ماہ سے جاری تھا۔ مگر افسوس در افسوس سیاسی قوتوں کی آپس میں محاذآرائی کی وجہ سے یہ بحران عدالت کے ذریعے حل ہوا،اگر سیاستدان خود افہام و تفہیم سے اس بحران پر قابو پاتے تو ایک نئی مگر صحت مند سیاسی روایت جنم لیتی اور سیاستدانوں کی طرف سے ریاستی اداروں کی مداخلت کا شکوہ بھی دور ہو جاتا،سپریم کورٹ نے چوہدری پرویز الٰہی کی درخواست کی سماعت کی اور ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیدیا، چوہدری شجاعت حسین کا وہ خط بھی کام نہ آیا ، جس کی روشنی میں دوست مزاری نے ق لیگ کے دس ارکان کو گنتی سے نکال کر حمزہ شہباز کو اکثریت سے نواز کرمنتخب وزیر اعلیٰ قرار دیدیا تھا،عدالت عظمیٰ نے اس فیصلہ کو بھی کالعدم دے کر چوہدری پرویز الٰہی کو کامیاب قرار دے دیا، اب وہ پنجاب کے منتخب وزیراعلیٰ ہیں،متوقع طور پر گورنر بلیغ الرحمٰن نے ان سے حلف لینے سے انکار کر دیا تھا حالانکہ انہیں سپریم کورٹ نے یہ حلف لینے کے لئے کہا تھا ،بعد ازاں صدر مملکت عارف علوی نے حلف لیا، یہ بھی شاید پہلی بار ہوا کہ کسی وزیر اعلیٰ کا حلف صدر مملکت نے لیا ہو اور وہ حلف گورنر ہاؤس میں نہ ہوا ہو ،اگر چہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ حکومتی اتحاد خوشدلی سے یہ فیصلہ قبول کرتا،گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن چوہدری پرویز الٰہی سے حلف لیتے اور ملکی مسائل کے حل کیلئے مل بیٹھنے کیلئے پیش رفت ہو جاتی مگر سیاستدانوں کی ’’وہی ہے چال بے ڈھنگی ، جو پہلے تھی سو اب بھی ہے‘‘۔کہا جا سکتا ہے کہ سیاستدانوں کو ابھی بھی سمجھ نہیں آئی۔
ملکی سیاسی تاریخ پر طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے جب کبھی ریاستی اداروں نے مداخلت کی، سیاستدانوں کی غلطیوں کی وجہ سے کی، سیاستدان نفرت،عداوت،کدورت میں اس حد تک نکل جاتے ہیں کہ واپسی مشکل ہو جاتی ہے،کوئی کسی کی حیثیت،مؤقف تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتا تو پھر غیر فطری اتحاد بنا کر نجات کی کوششیں کی جاتی ہیں اور مقصد حاصل ہوتے ہی یہ اتحاد بھی تتر بتر ہو جاتا ہے،یکسوئی،عوام کو مشکلات سے نجات دلانے،ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے سیاستدان کبھی ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہوئے،جس کا نتیجہ ہے کہ آج 75سال بعد بھی ہم سیاسی استحکام سے محروم ہیں،ملک آج جن معاشی،انتظامی،داخلی خارجی بحرانوں سے دوچار ہے اس میں از حد ضروری سیاستدانوں کی یکسوئی ہے جو ان بد تریں حالات میں بھی دکھائی نہیں دے رہی۔
 چوہدری پرویز الٰہی کی کامیابی پر پنجاب بھر میں جشن،کارکنوں کے بھنگڑے،مٹھائی کی تقسیم اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی شکل میں پنجاب کو حقیقی اور اچھی قیادت میسر آ گئی ہے،جمہوریت کا بنیادی اصول ہے اکثریتی رائے،حکومتی اتحاد نے پنجاب میں اکثریت کا حق تسلیم نہ کیا اور حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کیلئے ہر حربہ آزمایا کسی آئینی شق اور اخلاقی روایت کو خاطر میں نہ لائے،پہلے ڈپٹی سپیکر سے ملی بھگت سے منحرفین کے ووٹوں سے منتخب ہوئے،الیکشن کمشنر بھی اس کھیل میں سہولت کار رہے اور منحرفین کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے نہ صرف انکار کیاعدالت کے حکم پر ڈی نوٹیفائی کیا تو مخصوص نشستوں پر کامیاب پانچ ارکان کی رکنیت بحال رکھی،عدالتی حکم پر ہی یہ مسئلہ حل ہوا،اس کے بعد ق لیگ کے دس ارکان کو ایک خط کی بنیاد پر گنتی سے باہر نکال دیا گیا،مقابل امیدوار کو بھی ووٹ کے حق سے محروم کر دیا،آخر کار یہ معاملہ بھی عدالت نے ہی حل کیااور عوام کا مینڈیٹ عوام کو واپس کیا۔
 آئین کے مطابق پنجاب کے عوام کو ان کا حق مل گیا اور اب ووٹ کو عزت بھی ملنی چاہئے ،اب معاملات کو سیاسی انداز میں حل کیا جائے تو سیاسی استحکام آئے گا اور یہ کام چودھری پرویز الٰہی بہتر انداز سے کر سکتے ہیں، ان کو فتح نصیب ہوئی ہے تو انہیں جھک جانا چاہئے ،اللہ کو جھکنے والے لوگ پسند ہیں ،صورتحال کا بہترین حل یہ ہے کہ تمام ہم خیال سیاسی قوتوں کو پہلے مرحلے میں ایک پلیٹ فارم پر لا کر ملک اور قوم کو درپیش بحرانوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے، چوہدری پرویز الٰہی ایک وضع دار اور ملن جو سیاستدان ہیں وہ اپنے دروازے کبھی بند نہیں کرتے مگر حالات بتا رہے ہیں کہ ن لیگ ایک مرتبہ پھر ایڈونچر کرنے جا رہی ہے اور انہوں نے عدلیہ کے خلاف محاذ کھول لیا ہے ، مریم نواز نے ایک بار پھر اپنی جدوجہد اور مزاحمتی سیاست کو تیز کر دیا ہے ،خاص طور پر پنجاب میں بحران کے دنوں میں انہوں نے ریاستی اداروں کیخلاف جو جارحانہ لب و لہجہ اپنایا اس پر انہیں پارٹی میں داد مل رہی ہے ، میرے خیال میں پی ڈی ایم کو مرکز میں حکومت لینے کے بعد عوامی سطح پر اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچانے کے لئے کوئی ایسا ایشو چاہئے تھا جسے اپنا کر وہ عوام کی نظروں میں اپنے اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کا تاثر دے سکیں ،اس لئے انہوں نے عدلیہ کے خلاف محاذ کھول دیا ہے ،ادھر ڈوبے ادھر نکلے کے مصداق وہ اب ہر وہ کوشش کریں گے جو انہیں آئندہ الیکشن کے لئے کوئی بہتر بیانیہ دے سکے۔
  سپریم کورٹ نے حالیہ بحران میں آئینی کردار ادا کیا اورآئین کی روشنی میں فیصلے دے کر ملک کو بحران سے نکالا،اس موقع پر عدالتی فیصلے کا بائیکاٹ اورمعزز جج صاحبان کیخلاف مہم چلانا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے،جیسا کہ ابتدائیہ میں عرض کیا کہ سیاستدان اگر اپنے معاملات خود حل کریں تو کوئی تیسری قوت مداخلت کیوں کرے؟حالیہ بحران میں تو خود سیاستدانوں نے مداخلت کی دعوت دی مگر اس کے باوجود مرضی کے فیصلوں کی ڈیمانڈ کی جارہی ہے،مریم نواز نے اس صورتحال کو ’’جوڈیشل کو‘‘ قرار دے دیا،عدالتی فیصلہ پر تنقید بھی کسی صورت مناسب نہیں اس رویہ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے،پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی سے امید کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر مشترکہ حکمت عملی مرتب کر لیں گے،آئندہ الیکشن کیلئے بھی انہوں نے اپنی جماعت کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کو لے کر چلنا ہے ، کہا جا رہا ہے کہ عام انتخابات اسی سال ہوں گے اور اگر قبل از وقت نہ بھی ہوئے تو صرف ایک سال بعد منعقد ہونا ہیں،اور یہ وقت انتخابات کی تیاری کا ہے،اب تحریک انصاف کو ان انتخابات کی تیاری کی طرف بھی توجہ دینا ہو گی،اس کیلئے ہم خیال لوگوں کوایک پلیٹ فارم پر لانے کیلئے بھی چوہدری پرویز الٰہی مناسب انتخاب ہیں ،تاہم تحریک انصاف اور ق لیگ کو اپنی صفوں میں بھی اتحاد یکسوئی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

تبصرے بند ہیں.