کیاواقعی نظریہ ضرورت دفن ہوگیا؟

38

قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی ہے اور اب وہ وزیراعظم پاکستان نہیں رہے۔اس تحریکِ کے حق میں 174 ارکان نے ووٹ دیے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتمادکامیاب ہوئی ہے۔عمران خان آخری گیند تک مقابلے کی بات کرنے کے باوجود قومی اسمبلی کے اجلاس میں نہیں آئے۔ اس عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کا عمل ملک کی عدالتِ عظمیٰ کی ہدایات کے بعد ہی مکمل ہو سکا اور اسکی وجہ تحریک انصاف کی حکومت کے تین اپریل کے اقدامات بنے۔ جس میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو آئین کے آرٹیکل پانچ کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیا تھا جسکے بعد صدرِ پاکستان عارف علوی نے وزیراعظم کی تجویز پر قومی اسمبلی تحلیل کر دی تھی۔ جب اس قرارداد پر ووٹنگ شروع ہوئی، تو تقریباً اسی وقت عمران خان، جو ایوان میں موجود نہیں تھے، وزیر اعظم ہاؤس سے بذریعہ ہیلی کاپٹر رخصت ہو کر واپس بنی گالا میں اپنی رہائش گاہ کیلئے روانہ ہو گئے۔ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور ملک کے متوقع طور پر آئندہ وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی ایوان سے خطاب کیا۔ اس سے قبل جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی ذاتی طور پر ایک بار پھر وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا پس منظر وہی سیاسی اور پارلیمانی جمود تھا، جو سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کرائے جانے کے باعث پایا جا رہا تھا۔ قبل ازیں عمران خان نے وفاقی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس ہفتے کی رات طلب کیا اور کابینہ سے اس بات کی منظوری لی کہ وہ سربراہ حکومت کے طور پر اپنے خلاف مبینہ بیرونی سازش کے سلسلے میں لکھا گیا سفارتی مراسلہ قومی اسمبلی کے اسپیکر، سینیٹ چیئرمین اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو دکھا سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں نواپریل کا دن سیاسی طور پر بے یقینی، ابہام اور مختلف افواہوں سے لبریز رہا، سوشل میڈیا پر افواہیں گردش کرتی رہیں کہ عمران خان مبینہ طور پر کچھ ہی دیر میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی جگہ ایک نیا آرمی چیف تعینات کرنے والے ہیں۔ ان خبروں کی تردید بعد ازاں خود وزیر اعظم عمران خان نے کی اور کہا کہ یہ بالکل غلط، بے بنیاد اور من گھڑت افواہیں ہیں۔ پارلیمان کی عمارت کے باہر پولیس کی ایک ایسی وین بھی مسلسل کھڑی رہی، جس میں عام طور پر قیدیوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ ہفتے کو سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے دروازے بھی کھول دیے گئے، جسکی وجہ یہ تھی کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں کارروائی کے دوران تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری نہیں کرائی گئی تھی اور ضرورت پڑنے پر اعلیٰ عدلیہ اس امر کا نوٹس لے سکتی۔ اسی دوران نصف شب سے پہلے سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری نہ کروانے پر قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی جمع کرا دی گئی۔پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں سکیورٹی انتظامات نہ صرف انتہائی سخت کر دیے گئے بلکہ تمام پولیس اہلکاروں اور انتظامی افسران کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئیں اور ملک کے تمام ہوائی اڈوں کو ہائی الرٹ اورہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے رات نصف شب کے قریب ایوان میں موجود ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوتے ہیں اور انہیں کابینہ کی طرف سے منظوری کے بعد جو مراسلہ دکھایا گیا ہے، وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی دکھائیں گے۔ باقی ماندہ کارروائی کیلئے اسمبلی کے پینل آف چیئرمین کے رکن ایاز صادق نے پارلیمانی اجلاس کی صدارت کی اور اپوزیشن رہنما شہباز شریف کی طرف سے پیش کردہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کرائی گئی۔
سوال یہ ہیں کہ کیا پی ٹی آئی حکومت کو سیاسی تاریخ میں آئین شکن قرار دیا جائے گا؟ کیا جمہوریت کی جیت ہوئی ہے؟ کیا اس فیصلے نے پاکستان کے متنازع نظریہ ضرورت کو دفن کیا ہے؟ آئین شکنی ایک بہت سنگین بات ہے کیونکہ اگر آئین کو سپریم نہیں مانا جاتا تو ملک میں معاشرہ کبھی پْر امن نہیں ہو سکتا۔ اسکاایک پہلو سیاسی اور دوسرا قانونی ہے، اگر اس معاملے کو سیاسی پہلو سے دیکھا جائے تو یقیناً سیاسی طور پر تحریک انصاف کی حکومت کو اس کے سیاسی حریف ملک کی تاریخ میں ایک آئین شکن حکومت کے طور پر یادرکھیں گے، کہ انکے سپیکر یا ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے آئین کی شقوں کی صریحاً خلاف ورزی کی اور آئین کے تحت تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری نہیں ہونے دی۔ جبکہ حامی کہتے رہیں گے کہ سپیکر قومی اسمبلی کے تین اپریل کے جو اقدامات ہیں وہ شواہد کی بنیاد پر ہیں جبکہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ کیا ہے اس میں انہوں نے شواہد نہیں دیکھے گئے۔البتہ تین اپریل پر سپریم کورٹ کا فیصلہ کافی واضح ہے کہ آئین و قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے نتیجے میں ملک کے اداروں کے اختیارات کی تقسیم کے فارمولے پر بہت سے سوالات اٹھ گئے ہیں اورپارلیمان کی بالادستی ختم ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم نامہ میں سپیکر کی رولنگ کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے لیکن آئین کے کس آرٹیکل کے تحت غیر قانونی قرار دی گئی ہے وہ شق حکم نامہ میں نہیں بتائی گئی، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 69 کے اندر مداخلت کا جواز بھی نہیں بتایا۔ کیااس سے پارلیمنٹ سپریم ہے کاتاثر ختم کرکے سپریم کورٹ نے خود کو پارلیمان سے بالا تر کر لیا ہے؟ جو کسی طور پر بھی کسی جمہوریت میں ممکن نہیں ہے۔ عوامی تاثراور قانونی طور پر تحریک انصاف کی جماعت کو آئین شکن جماعت یا حکومت قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ جو بھی اقدام ہوا، وہ قومی اسمبلی کے اندر ہوا اور یہ آئین کی تشریح کا معاملہ تھا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے ایک طرح سے آئین کی تشریح کی اور سپریم کورٹ نے اس تشریح کو رد کر دیا۔ لہٰذا قانونی طور پر انھیں آئین شکن کے طور پر نہیں لیا جائے گا لیکن سیاسی طور پر ان پر یہ ایک سنگین الزام موجود رہے گا۔ ہم تحریک انصاف کی حکومت کے اس اقدام کو کسی فوجی آمر کے آئین کی پامالی یا معطلی کے اقدام سے جوڑ نہیں سکتے کیونکہ آمر آئین کو یکسر معطل کر دیتا ہے لیکن سول حکومتیں اسکی تشریح میں غلطی کرتی ہیں۔ تاہم جس طرح کا اقدام تین اپریل کو پیش آیا ہے اسکی نظیر نہیں ملتی۔ ویسے بھی پاکستان کی تاریخ میں آئین نافذ کرنے والے سول ادارے کبھی طاقتور نہیں رہے ہیں۔ عمران خان کا نام ایسے وزیر اعظم کے نام پر ضرور یاد رکھا جائے گا کہ جنکے خلاف ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی۔ اگرچہ تحریک انصاف نے اس پر عالمی سازش کا جو سیاسی بیانیہ بنایا ہے وہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

تبصرے بند ہیں.