ابرار بھٹی! ایک تمدن کی رخصتی

378

زیر قلم تحریر لکھنا چاہ رہا تھا کچھ سمجھ نہ آ رہی تھی کہ کہاں سے شروع کروں ۔بالآخر دوبارہ قلم قرطاس سامنے رکھ لیا اور سوچوں، یادوں میں گم شاید 3 گھنٹے گزر گئے۔ دل و دماغ جیسے مجھ سے کوئی واسطہ نہ رکھتے ہوں، بالکل شل۔ 1994 سردیوں کے دن میں اپنے دفتر جہاں تعینات تھا ایک دن کلین شیو، سرخ گورا رنگ، خوش لباس، خوش شکل وضع دار سا لڑکا آیا کہ میری ادھر پوسٹنگ ہوئی ہے۔ میں نے اس کو دیکھا تو نہ جانے مجھے کیوں ایسا لگا کہ اس سے پہلی ملاقات نہیں ہے۔ میری سرکاری غلامی کی شروعات تھی اور وہ مجھ سے پہلے ڈیپارٹمنٹ میں آئے تھے۔ میں نے چائے منگوائی، بسکٹ پیش کیے، گپ شپ شروع ہوئی، ایک آدمی نہیں جیسے پوری تہذیب بات کر رہی ہو۔ ہر فقرے میں دانش، ہر لفظ میں علمیت، ہر فقرے میں متانت، ہر سوچ مثبت، ہر نظر عمیق، ہر جملہ دقیق مجھے رشک ہوا کہ اللہ نے کاش مجھے ان جیسا بنایا ہوتا۔ یہ پہلی بار تھی کہ مجھے اپنے محکمہ میں ایک دانشور، مہذب اور عظیم تمدن کے عظیم نمائندے کی گفتگو سننے کا موقع ملا۔ دفتری کام ہوتا رہا اور گپ شپ چلتی رہی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بینک گارنٹی سیکشن میں تعینات رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں، ادھر سکون ہے۔ ان کی زیادہ دلچسپی علم و ادب، سیاست، بین المذاہب، بین التہذیب، بین البراعظمی معاملات میں تھی۔ تاریخ کا گہرا مطالعہ، سیاسیات پر مکمل دسترس اور رویے ایسے کہ دشمن بھی کوشش کر کے تنقید نہ کر پاتا۔ میری ان کی تعیناتی صرف 15/20 دن اکٹھے رہی، وہ بینک گارنٹی تعینات ہو گئے لیکن یہ 15/20 دن مجھے ہمیشہ کے لیے ایک بھائی دے گئے۔ ابرار بھٹی ایک نسلی اور اصلی وچن نبھانے والا راجپوت، مجھے شرف حاصل رہا کہ انہوں نے زندگی بھر مجھے بھائی کہا اور متعارف بھی کرایا۔ ماڈل ٹاؤن کلب کے کئی دہائیاں صدر رہے۔ دانشوروں کا دانشور، دوستوں کا مان، اپنے خاندان کا اثاثہ ابرار بھٹی نے زندگی میں دو عشق کیے پہلا عشق جس سے کیا وہ ان کی زوجہ محترمہ نیلم ابرار ہماری بھابھی تھیں، ابرار بھٹی ان کو پیار سے ’چھوٹو‘ کہتے۔ دوسرا عشق معروف دانشور جناب حسن نثار سے کیا۔ پیچھے سے وار کیا ہوتا ہے، غیبت کسے کہتے ہیں، بد خواہی کیا ہوتی ہے۔ ابرار بھٹی ان خرافات سے واقف نہ تھے۔
جناب ابرار بھٹی کی وساطت سے ہی جناب حسن نثار اور سید جمشید علی شاہ سے ملاقات ہوئی اور پھر ملاقاتیں ہوئیں۔ اللہ کسی کو دکھ نہ دے، حسن نثار بھائی ہمارے دکھ سکھ میں شریک رہے اور اب بھی نیاز مندی کا رشتہ ہے۔ جس کی بنیاد جناب ابرار بھٹی صاحب سے دوستی تھی۔ بھٹی صاحب ریٹائر ہو گئے مگر یوں احساس تھا جیسے وہ میرے Boss ہو گئے، میرے ان کے مزید قریب ہو گیا۔ وہ دفتر نہیں آتے تھے میں ہی مہینے میں 6/8 مرتبہ ان سے رابطہ کرتا۔ جب بھی بات ہوئی موسم بہار کی تمام صفتیں ان کی گفتگو میں سمٹ آتیں۔ کچھ عرصہ کالم بھی لکھے اور لا جواب لکھے۔ مجھے پچھلے دو ماہ سے خصوصی طور پر روزانہ فون کر رہے تھے، رات کو گھنٹہ بھر بات ہوتی اور کہتے کہ میں آپ کو سرپرائز دوں گا بظاہر میڈیا کے حوالے سے میری مصروفیات کی بات کر رہے ہوتے، نہ جانے اس گفتگو کو دوران مجھے کیوں بار بار خیال آتا اور میں ہر فقرہ پر بھٹی صاحب سے کہتا کہ بشرطِ زندگی یہ بھی کریں گے، بشرطِ زندگی وہ بھی کریں گے۔ نہیں معلوم کس کی زندگی، مگر زندگی، زندگی، زندگی۔ یہ لفظ مسلسل میرے دماغ پر دستک دیتا۔ روزانہ فون ہوتا مگر 20 مارچ رات 9 بجے سے گیارہ بجے تک جو فون کال ہوئی جس میں جمشید شاہ صاحب کے بیٹے مبارک علی شاہ کی مہندی پر نہ آنے کا گلہ کر رہے تھے۔ میں نے کہا چلیں شادی کے باقی دن ملیں گے۔ اس دن ابرار بھٹی صاحب نے پہلے دن سے لے کر فون کرنے کی ساعتوں تک اٹھائیس سال کی میری اور اپنی زندگی، ملاقاتیں، باتیں سب دہرا دیں۔ احباب میں ان کی گفتگو کا محور جناب حسن نثار ہی ہوا کرتے یا پھر جمشید علی شاہ صاحب۔ بھٹی صاحب نے میرے والدین، دادی، خاندان، بھائیوں، بچوں سے جب جب جیسے جیسے ملاقات ہوئی تمام مناظر یوں سنائے اور دہرائے جیسے 2 کا پہاڑا یاد ہو۔ محبت، بھائی چارے کا ایسا اظہار کیا کہ میں خود حیران رہ گیا۔ بھٹی صاحب کو ہر لمحہ، ہر منظر ازبر ہے۔ بلکہ ایک بات یہ بھی کہی کہ جب بھی اپنے مرحوم والدین کے لیے دعا کرتا ہوں تو آپ کے والدین، معظم بھائی اور پاء جی اعظم صاحب کے لیے بھی دعا کرتا ہوں اور مزید کہا کہ بٹ صاحب یہ لسٹ بڑھے چلی جا رہی ہے۔ 21 مارچ کی رات وہ خود میری دعاؤں کی فہرست میں آ گئے، ان کی مغفرت کی دعا مانگنا عجیب لگ رہا تھا۔ کچھ اور سرپرائز کیا دینا تھا مجھے اور معاشرے کو اپنے وصال کا سرپرائز دے گئے۔ میں 21 تاریخ کو گوجرانوالہ، ایک عزیز پرویز بٹ صاحب ایس پی کی کزن وفات پا گئیں تھیں، گیا ہوا تھا۔ واپسی پر گلزار بھائی (سینئر سپرنٹنڈنٹ جیل)، ذوالفقار علی بٹ (ڈی ایس پی) ساتھ تھے۔ خاموشی سے ایک طرف ہو کر کھسر پھسر کرتے ہوئے ان کے چہرے کے رنگ اتر گئے۔ میں گاڑی میں بیٹھا تو سید جمشید علی شاہ صاحب کا فون آ گیا۔ روتے ہوئے کہنے لگے کہ بٹ صاحب ابرار بھٹی کی عصر کی نماز کیلئے اٹھے تو ہارٹ اٹیک سے ڈیتھ ہو گئی۔ میں نے چلا کر کہا، ہیں؟؟؟ گلزار بھائی فوراً بولے کہ ہمیں پتہ چل گیا تھا، آپ سے چھپا رہے تھے۔ بس! کچھ وقت تو ساقط گزرا، پھر میں یکدم ریزہ ریزہ ہو گیا کہ میرا یار مر گیا، میرا یار چلا گیا، میرا ابرار چلا گیا۔ جنازہ میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے اہم افراد شریک ہوئے، ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز جناب آصف جاہ صاحب فیڈرل ٹیکس محتسب خصوصی طور پر پہنچے ۔عربی تہذیب میں ایک عورت نوحہ خوانی میں مشہور تھی۔ لوگ اس کو اپنے غم کے اظہار کے لیے بلاتے۔ وہ گریہ کرتی، نوحہ کرتی، مرثیہ کہتی، آہ و بکا کرتی کہ دکھیوں کے دل کی کیفیت کا اظہار ہو جاتا۔ ایک دن اس کا اپنا دنیا سے چلا گیا، لوگ بڑی بڑی دور دور سے آئے کہ آج زمین آسمان ایک ہو جائے گا۔ آج عرش اور فرش پہ گریہ کے علاوہ کچھ سنائی نہ دے گا مگر وہ خاموش تھی۔ جب اپنا دل و جگر ایک ہوتا ہے جب پتہ پانی ہوتا ہے تو بولا نہیں جاتا۔ مجھے اپنے والدین، معظم بھائی کی جواں سال جدائی، پاء جی محمد اعظم بٹ شہیدؒ کے سانحہ پر اس عربی خاتون کی کیفیت سے گزرنا پڑا اور آج میرے بھائی، میرے یار جو ایک مکمل طرز زندگی تھا کا دنیا چھوڑنا خاموش کر گیا۔
یار ابرار! یک لخت وچھوڑا اوکھا اے
میری من چن! قسطاں کر لے
مگر موت سے مکالمہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی اجل کو کوئی دلائل دیئے جا سکتے ہیں۔
بھٹی صاحب جو باتیں کرتے تھے جو سلسلے تھے، سب ساتھ لے گئے۔ بقول فیض ’’جینے کے فسانے رہنے دو اب ان میں الجھ کر کیا کر لیں گے/ اک موت کا دھندا باقی ہے جب چاہیں گے نپٹا لیں گے/ یہ تیرا کفن، وہ میرا کفن، یہ میری لحد وہ تیری لحد۔۔۔ تحریر جاری تھی کہ جناب مراتب مشتاق کسٹم آفیسر کا دوبارہ فون آ گیا کہ بھٹی صاحب کا کیسے افسوس کروں، آپ کے بھائیوں جیسے دوست تھے میرا پُرسا قبول فرمائیں! جناب ابرار بھٹی صاحب پر گفتگو جاری رہے گی۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔

تبصرے بند ہیں.