فلسطینی انتخابات میں مشرقی بیت المقدس کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، اقوام متحدہ

172

نیویارک: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے فلسطینی اتھارٹی اور قابض طاقت اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطین میں آزادانہ، منصفانہ، جمہوری، پرامن اور قابل اعتماد انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے ایک معقول وقت کے اندر صدارتی، پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات کا دوبارہ انعقاد کریں۔

فلسطین کے پارلیمانی انتخابات مئی اور صدارتی انتخابات جولائی میں ہونے تھے لیکن 29 اپریل کو فلسطینی صدر محمود عباس نے انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرتے ہوئے اس کی وجہ فلسطینی شہریوں کے مشرقی بیت المقدس میں ووٹ کا حق استعمال کرنے کی اہلیت سے متعلق تحفظات بتائی تھی۔

جس پر اقوام متحدہ کے 3 ماہرین نے فلسطین میں انتخابات کی تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں فلسطین میں انسانی حقوق کے خصوصی نمائندہ ممائیکل لینک، آزادی رائے کے اظہار کے حق کی خصوصی نمائندہ ارینا خان اور پرامن اجتماع کی آزادی کے خصوصی نمائندہ کلیمنت نیالتسوسی وول شامل ہیں۔

ماہرین نے زور دیا کہ فلسطینی انتخابات جمہوری عمل کی تجدید، طویل مدت سےدرپیش اندرونی سیاسی تفریق کو روکنے ، اداروں کے احتساب کو مضبوط بنانے اور فلسنی شہریوں کے انفرادی اور بنیادی حقوق کے حصول کی طرف اہم قدم اٹھانے کا ایک سنہری موقع ہے۔

انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ مجوزہ انتخابات میں مشرقی بیت المقدس میں فلسطینی شہریوں کی مکمل جمہوری شمولیت کی اجازت دینے سے متعلق واضح کرے اور یہ کہ اسرئیل کو قابض طاقت کی حیثیت سے مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کے حقوق اور ان کی روزمرہ زندگی میں کم سے کم مداخلت کرے۔ انہوں نے کہا کہ اوسلو معاہدوں کے تحت مشرقی بیت المقدس میں فلسطی شہریوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ بین الاقوامی برادری نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے زریعے بار بار اس بات کو دہرایا کہ مشرقی بیت المقدس کی آبادکاری اور اس کی سیاسی و قانونی حیثیت میں اسرائیل کی طرف سے کی گئ تمام تبدیلیاں غیرقانونی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی حکومت انتخابات کے انعقاد کےکی نئی تاریخیں جلد مقرر کرے اور جب انتخابات ہوں تو قابض طاقت اسرائیل سمیت تمام فریقین ووٹرز، امیدواروں ، اور سیاسی جماعتوں کے جمہوری حقوق کا مکمل احترام کریں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں کہ ہر امیدوار کے لیے 20 ہزارڈالر کی بھاری رجسٹریشن فیس اور سرکاری اور بین الاقوامی اداروں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے عہدیداران کی طرف سے انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے کے لیے اپنے عہدوں سے استعفی دینے جیسی سیاسی شرائط بلا جواز رکاوٹیں ہیں۔

تبصرے بند ہیں.