برازیل: کورونا سے نمٹنے میں حکومتی ناکامی پر ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے

103

ریوڈیو جنیرو ( نیو نیوز) برازیل میں کورونا وائرس سے نمٹنے میں حکومتی ناکامی کے خلاف ہزاروں لو گ سڑکوں پر آگئے ہیں۔ مظاہرین نے حکومت کی کورونا پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ برازیل میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جو دنیا میں کووڈ سے ہلاکتوں کی دوسری بڑی تعداد ہے۔۔

 

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ سردی کے موسم اور ویکسینیشن کی سست رفتار کے باعث یہاں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔وائرس اب بھی یہاں تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے مگر صدر جائر بولسونارو سماجی دوری جیسے ضوابط کی حمایت کرنے سے انکاری ہیں۔

 

طبی ادارے فیوکروز کا کہنا ہے کہ صورتحال ‘تشویشناک’ ہے۔ اب تک صرف 15 فیصد بالغ افراد کی ہی مکمل ویکسینیشن کی گئی ہے۔ کانگریس اب کووڈ کے خلاف حکومتی اقدامات کے متعلق تحقیقات کر رہی ہے۔

 

صدر بولسونارو پر ایک مربوط قومی حکمتِ عملی کا نفاذ نہ کرنے اور ویکسینز، لاک ڈاؤنز اور ماسک کی پابندیوں کے متعلق اُن کے شکوک کے باعث شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ صدر بولسونارو پابندیوں میں نرمی کے حق میں ہیں۔

 

صدر کا کہنا ہے کہ معیشت پر لاک ڈاؤنز کا اثر وائرس سے زیادہ خطرناک ہوگا اور اُن کا اصرار ہے کہ اُنھوں نے متعدد ممالک سے ویکسین خریدنے کے لیے جو ہو سکتا تھا وہ کیا ہے۔ مگر اپوزیشن نے اُن پر سیاسی اقدامات کے تحت ویکسین آرڈر کرنے میں تاخیر کا الزام عائد کیا ہے کیونکہ وہ مسلسل وبا کی شدت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

 

برازیل میں وبا وائرس کی تیزی سے پھیلنے والی اقسام کے باعث شدت اختیار کرتی جا رہی ہے جس میں ایمازون خطے میں سب سے پہلے سامنے آنے والی قسم بھی شامل ہے جسے اب گیما کا نام دیا گیا ہے۔گذشتہ ایک ہفتے میں روزانہ تقریباً 70 ہزار نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

 

زیادہ تر ریاستوں میں انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں 80 فیصد سے زیادہ بستر زیرِ استعمال ہیں اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگلے ہفتے نصف کرّہ جنوبی میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ وائرس کے پھیلنے میں تیزی آ سکتی ہے۔

 

وزیرِ صحت مارسیلو کیروگا نے ہلاک ہونے والوں کے ‘باپوں، ماؤں، دوستوں اور رشتے داروں’ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ‘پانچ لاکھ جانیں برازیل اور پوری دنیا کو متاثر کرنے والی وبا کی نذر ہو گئیں۔’

 

برازیل میں مارچ سے لے کر اب تک ہلاکتوں کی سات روزہ یومیہ اوسط 1500 رہی ہے۔ نظامِ صحت کے نگراں ادارے اینویسا کے سابق سربراہ گونزالو ویسینا نے کہا کہ ویکسین پروگرام کی سست روی سے جانوں کا زیاں ہوا ہے اور آگے بھی ہوگا۔

 

‘اب تک پانچ لاکھ اموات ہو چکی ہیں اور بدقسمتی سے ان میں اضافہ ہوتا رہے گا کیونکہ ویکسین لگانے کے عمل میں وقت لگے گا۔ شاید یہ سال اس لیے بھی مشکل ہو کیونکہ ہم اب تک ویکسینز کی ڈیلیوری پر منحصر ہیں جنھیں بہت تاخیر سے خریدا گیا ہے۔’

 

ملک بھر میں ہزاروں لوگوں نے بولسونارو حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا اور ویکسینیشن پروگرام میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا۔ کئی شہروں میں اب بھی ویکسین ناکافی ہے۔ ریو ڈی جنیرو میں ایک خاتون ڈینیز ایزویڈو نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ‘اُنھوں نے ویکسین خریدنے میں بہت تاخیر کی ہے۔’

 

ریو ڈی جنیرو میں احتجاج میں شریک 50 سالہ فوٹوگرافر روبرٹ المیڈا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا : ‘کووڈ پر اُن کا مؤقف اور اُن کا انکاری رویہ مضحکہ خیز ہے۔ اُنھوں نے حقیقت اور عام فہم کو بالکل ترک کر دیا ہے۔’

تبصرے بند ہیں.