"جو بچا تھا وہ لٹانے کے لیے آئے ہیں” ،ناصرہ رقص واداکاری سے لالی وڈ کی "رانی” بن کردلوں میں گھر کرگئی

84

لاہور:”جو بچا تھا وہ لٹانے کے لیے آئے ہیں” یہ پاکستانی فلم     امرائو جان ادا ‘‘ کا کلائمیکس سانگ ہے۔ یہ  گیت میڈم نورجہاں نے گایا اوراس پر رقص کرکے پاکستانی اداکار ہ رانی نے اس کو امر کردیا۔

لالی وڈ پر برسوں  راج کرنے والی اداکارہ رانی  کو مداحوں سے بچھڑے 31برس بیت گئے ہیں ۔پاکستانی اداکارہ رانی جس نے رقص  کو خاصہ بنایا اور انڈسٹری میں قدم رکھا لیکن  شروع میں قسمت کی دیوی ان پر مہربان نہ ہوئی  لیکن جب ہوئی تو انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

پاکستانی فلم انڈسٹری اور ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ رانی جس کا اصل نام ناصرہ تھا، 8دسمبر 1941 کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اردو اور پنجابی کی لاتعداد فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ۔
انہیں اس وقت شہرت ملی جب ان کی جوڑی وحید مراد کے ساتھ بنی۔ اس کے بعد اداکار شاہد کے ساتھ بھی ان کی جوڑی بہت پسند کی گئی۔ وہ پاکستانی فلمی صنعت کے سنہری دور کی اداکارہ تھیں۔

اداکارہ رانی کی پہلی فلم ہدایتکار انور کمال پاشا کی فلم محبوب تھی جس میں وہ شمیم آرا کے مقابل ثانوی رول میں نظر آئی تھی۔ یہ 1962 کی بات ہے اور اس کے بعد کئی فلموں‌ میں مختلف کردار ادا کیے، لیکن دیور بھابھی جو 1967 میں سینما کی زینت بنی تھی، وہ مشہور فلم تھی، جس نے اداکارہ کو فلم انڈسٹری کی  رانی بنا دیا۔ اس فلم میں وحید مراد اور لیجنڈ اداکارہ صبیحہ خانم نے ٹائٹل رولز کیے تھے۔ بعد میں رانی نے دل میرا دھڑکن تیری، بہن بھائی، دیا اور طوفان، شمع اور پروانہ، بہارو پھول برساؤ، امراؤ جان ادا، اک گناہ اور سہی، خون اور پانی جیسی کامیاب فلموں میں‌ اداکاری کے جوہر دکھا کر شائقین کے دل موہ لیے۔
پنجابی فلموں کی بات کریں تو رانی کو فلم چن مکھناں سے بریک تھرو ملا تھا جب کہ دوسری بڑی پنجابی فلموں میں سجن پیارا، جند جان، مکھڑا چن ورگا، دنیا مطلب دی، ٹیکسی ڈرائیور اور سونا چاندی قابلِ ذکر ہیں۔ اردو فلموں میں کمال، وحید مراد اور شاہد کے ساتھ رانی کو بہت پسند کیا گیا۔

رانی کی دو فلموں  انجمن ‘‘ اور  امرائو جان ادا ‘‘ اس لحاظ سے بہت یادگار ہیں کہ ان دونوں فلموں کے کلائمیکس سانگز  بہت زیادہ ہٹ ہوئے ۔ دونوں گیت رانی پر عکس بند کئے گئے اور ان گیتوں کے اختتام پر رانی موت کی آغوش میں چلی جاتی ہیں ۔ انہوں نے موت کے مناظر میں بھی بڑی جاندار اداکاری کی ۔ فلم    انجمن ‘‘ کے گیت کے بول تھے   اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے ‘‘ اور    امرائو جان ادا ‘‘ کے آخری گیت کے بول کچھ یوں تھے    جو بچا تھا وہ لٹانے کیلئے آئے ہیں ‘‘ یہ دونوں گیت میڈم نورجہاں نے گائے تھے ۔

"امراؤ جان ادا” 29 دسمبر، 1972ء کو پاکستان میں نمائش کے لیے پیش ہوئی۔ اس فلم کے ہدایتکار حسن طارق، فلم ساز ان کی صاحبزادی رابعہ حسن،مصنف اور نغمہ نگار سیف الدین سیف اور موسیقار نثار بزمی تھے۔ اس فلم میں ہدایتکار حسن طارق نے اپنی فلم میں بڑی حد تک ناول کی اصل کہانی کو برقرار رکھا اور یہی اس کی خوبی تھی۔ حسن طارق کی اس فلم کی کامیابی کے بعد اسی ناول پر بھارت میں ہدایت کار مظفر علی اور ہدایت کار جے پی دتہ نے دو اور فلمیں بنائیں جن میں سے پہلی فلم بہت کامیاب ہوئی جب کہ دوسری فلم بری طرح فلاپ ہو گئی۔

انہوں نے تین شادیاں کی تھیں۔ اداکارہ پر فلمائے ہوئے تمام ہی گیتوں نے مقبولیت حاصل کی۔ انہوں نے ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں‌ بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان میں‌ خواہش اور فریب بہت مشہور ہیں۔

فلم اور ٹی وی کی یہ بے مثال اداکارہ کینسر سے لڑتی ہوئی27مئی 1993 کو یہ جنگ ہار گئی . پاکستانی فلم انڈسٹری کی اس مشہور اداکارہ کو لاہور میں مسلم ٹاؤن کے قبرستان میں سپردِ‌ خاک کیا گیالیکن وہ مداحوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

تبصرے بند ہیں.