قرض پر بھاری سود کی ادائیگی معیشت پر بھاری بوجھ قرار،آئی ایم ایف کا پاکستان سے اخراجات میں کمی کا مطالبہ

21

 

اسلام آباد:قرض پر بھاری سود کی ادائیگی معیشت پر بھاری بوجھ قراردیاگیا ہے ، اس وجہ سے آئی ایم ایف   نے پاکستان سے اخراجات میں کمی کا مطالبہ  کیا ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے بیل آؤٹ پیکیج پر مذاکرات جاری ہیں۔
دوسری جانب  پاکستان  چین کے 15ارب ڈالر قرض سے پریشان ہے ۔ پاکستان نے قرض واپسی کی مدت میں 5سال کی توسیع  کیلئے آپشنز پر غور شروع کردیاہے۔جبکہ   وزیراعظم  جون کے پہلے ہفتے چین  جائینگے ۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اہم معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے قرضوں پر سود کی ادائیگی وفاقی خالص آمدن سے بھی بڑھ گئی ہے، یہ سود کی ادائیگی وفاقی حکومت کی خالص آمدن سے 205 ارب روپے زیادہ رہی۔ذرائع کے مطابق صرف پہلے 9 ماہ اندرونی و بیرونی قرضوں پر 5 ہزار 518 ارب روپے سود ادا کیا گیا، جولائی تا مارچ وفاقی حکومت کی خالص آمدن 5 ہزار 313 ارب روپے ریکارڈ ہوئی۔اس موقع پر آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان سے اخراجات میں کمی کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ اگلے مالی سال قرضوں پر سود 9 ہزار 787 ارب روپے تک جانے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال قرضوں پر سود کی ادائیگی 8 ہزار 371 ارب روپے تک جا سکتی ہے، رواں مالی سال ہدف کے مقابلے میں سود پر ایک ہزار 68 ارب اضافی اخراجات کا خدشہ ہے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات میں بتایا گیا کہ اگلے مالی سال قرضوں کی شرح 1.72 فیصدکم ہو کر 70 فیصد پر آ جائے گی۔

تبصرے بند ہیں.