لاہور کی پہلی خاتون سی ٹی او کے لئے چیلنجز؟

44

بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات اس وقت ایک اہم مسئلہ ہونا چاہیے لیکن ہمارے ہاں کسی بھی مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جاتا اور نہ ہی اس کی وجوہات کی سائنسی بنیادی پر تحقیق اور جانکاری کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہم ہر طرف مسائل کا انبار دیکھتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ ہمارے مین سٹریم میڈیا میں بھی حقیقی قومی مسائل جن کا تعلق عوام سے ہے پر کوئی ٹاک شو، پروگرام یا تجزیاتی رپورٹ شائع نہیں کی جاتی۔ کبھی بیٹ رپورٹر اپنی بیٹ کے حوالے سے نام کماتے تھے اب وہ لابنگ میں ماہر دکھتے ہیں، ہر بیٹ رپورٹر پریس ریلیز اور بیانات پر ہی انحصار کرتے ہوئے اپنے ”فرائض منصبی“ ادا کرتا دکھائی دیتا ہے۔ لاہور میں گزشتہ سال 80 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات کے دوران 345 افراد جاں بحق ہو گئے، ان میں سب سے زیادہ موٹرسائیکل سوار شامل تھے۔ جبکہ ریسکیو 1122 کے اعداد و شمار کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 251 سے زائد ٹریفک حادثات رپورٹ کیے جاتے ہیں حادثات کی زد میں آ کر مجموعی طور پر سیکڑوں افراد زخمی ہوتے ہیں۔ جن میں درجنوں شدید زخمی بھی ہوتے ہیں کئی افراد جاں بحق بھی۔ ریسکیو حکام کے مطابق ٹریفک حادثات جلد بازی، تیزرفتاری، غفلت برتنے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے باعث پیش آئے جبکہ ٹریفک وارڈن کی غیر ذمہ داری کو بھی ایک وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ایک سچ ہے لیکن پورا سچ نہیں کیونکہ جب تک تمام محکمے مل بیٹھ کر سنجیدگی سے اس اہم مسئلے کا حل سائنسی بنیادوں پر تلاش نہیں کرتے اور تحقیق نہیں کرتے اس وقت تک ہم ان جان لیوا حادثات کا شکار ہوتے رہیں گے۔

لاہور میں ٹریفک کے مسائل اس قدر گمبھیر اور پیچیدہ ہیں کہ جن کا حل نظر نہیں آتا یہاں کئی ٹریفک ہیڈ آئے اور چلے گئے مگر سب ہی تقریباً ناکام دکھائی دئیے کہا جاتا ہے کہ مرض کا علاج کرنے کے لئے اس کی درست تشخیص ضروری ہے شائد اسی وجہ سے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے لاہور کی تاریخ میں پہلی بار ایک ایسی خاتون پولیس آفیسر کو تعینات کیا ہے جن کے بارے معروف ہے کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں انہیں آئرن لیڈی بھی کہا جاتا ہے۔ چند روز پیشتر ان کے آفس میں ان سے مختصر سے گفتگو ہوئی جس میں محسوس کیا گیا کہ وہ انتہائی پرعزم ہیں کہ لاہور کے ٹریفک مسائل کو حل کیا جائے لیکن سوال پھر وہی ہے کہ مرض کی درست تشخیص کے بنا کیسے؟ لاہور کی پہلی خاتون سٹی ٹریفک پولیس آفیسر(سی ٹی او) عمارہ اطہر صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک کنٹرول کی اہم ذمہ داری سنبھالنے والی پہلی خاتون پولیس آفیسر ہیں۔ عمارہ اطہر کا تعلق 36 ویں کامن سے ہے، انہوں نے 2009 میں بطور اے ایس پی محکمہ پولیس جوائن کیا،آپ بطور ایس ڈی پی او سرگودھا، ایس ڈی پی او بھلوال اور ایس ڈی پی او نارتھ کینٹ لاہور فرائض انجام دے چکی ہیں،آپ ایس پی انویسٹی گیشن کینٹ اور ایس پی آپریشنز کینٹ کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکی ہیں، عمارہ اطہر ایس پی صدر انویسٹی گیشن، ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن اور ایس پی آپریشنز اقبال ٹاؤن لاہور بھی رہ چکی ہیں،وہ ایس پی سکیورٹی لاہور اور ایس ایس پی آپریشنز ملتان بھی فرائض انجام دیتی رہیں، عمارہ اطہر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولنگر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرگودھا بھی تعینات رہیں، سی ٹی او لاہور سے پہلے وہ بطور اے آئی جی ایڈمن اینڈ سکیورٹی تعینات تھیں ان کا شمار پروفیشنل اور محنتی افسران میں ہوتا ہے۔ عمارہ اطہر لاہور میں تعینات چوتھی خاتون پولیس آفیسر بھی ہیں، جو پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ڈاکٹر عثمان انور کی صوبے میں پرانی روایت کو تبدیل کرنے کے لیے فیلڈ اسائنمنٹس کے لیے خواتین افسران کو ترجیح دینے کی پالیسی کو ظاہر کرتی ہیں۔ آئی جی پنجاب خود انتہائی انرجیٹک اور نت نئی اصلاحات متعارف کرنے میں بھی دیگر آئی جی صاحبان سے ممتاز نظر آتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ پولیس کے ادارہ جاتی ڈھانچہ میں بنیادی تبدیلیاں کئے بنا یہ محکمہ عوامی خدمت نہیں کر سکتا اس حوالے سے بھی جہاں انہوں نے تھانوں کی بوسیدہ عمارتوں کو جاذب نظر اور تھانوں کے ماحول میں عوام دوست رویئے کو فروغ دینے کے لئے کام کیا ہے وہیں انہوں نے اہم سیٹیوں پر خواتین کو تعینات کیا، خواتین پولیس آفیسر نے بھی اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس کے امیج کو بہتر کیا اور کئی خواتین پولیس آفیسر بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ کارکردگی ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئیں جو پاکستان کے لیے بھی باعث اعزاز ہے۔

عمارہ اطہر نے بھی اپنے مختصر عرصے میں عوامی آگاہی اور سہولت پنچانے کے حوالے سے کافی کام کیے ہیں جن میں شادمان میں آبشار مرکز ایک بہترین مثال ہے۔ جہاں خواتین کو ڈرائیونگ کی تربیت خواتین انسٹرکٹر کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں جہاں سے درجنوں خواتین پاس آؤٹ ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 70 سے 80 فیصد حادثات ڈرائیور کا ٹریفک قوانین کو نظر انداز کرنے کی وجہ اور ٹریفک قوانین کی پاسداری نہ کرنے کا نتیجہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ، لاہور ٹریفک پولیس ہر فورم پر ٹریفک آگاہی یقینی بنائے ہوئے ہے، روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دی جا رہی ہے، سی ٹی او لاہور کا کہنا ہے کہ محفوظ سفر کیلئے قوانین کا احترام اور جاننا بے حد ضروری ہے۔ اس ضمن میں ٹریفک وارڈنز کو خصوصی فرسٹ ایڈ کورسز اور ٹریننگ بھی کرائی جا رہی ہے۔

اب ہم آتے ہیں ان وجوہات کی طرف جو ٹریفک کی روانی میں خلل اور حادثات کا باعث بنتے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں وقت کے ساتھ گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے آج ہر تیسرے فرد کے پاس اپنی ذاتی گاڑی یا موٹرسائیکل موجود ہے۔ گاڑیوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں ٹریفک حادثات پر غور کیا جائے تو ان کی مندرجہ ذیل وجوہات سامنے آتی ہیں، سب سے پہلے ڈرائیورز حضرات کی جانب سے ٹریفک سگنل کا توڑنا، فون سننا، سیٹ بیلٹ کے استعمال میں بے پروائی و غفلت، ٹریفک قوانین کے بارے میں ناقص معلومات اور تعمیل نہ کرنا، گاڑیوں میں ہونے والی تکنیکی خرابیاں جیسے بریک کا فیل ہونا، گاڑی کی ناقص حالت کی وجہ سے ٹائر کا پنکچر ہونا۔سہولیات کے نہ ہونے کی وجہ سے پیدل چلنے والے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر سڑک پار کرتے ہیں۔کسی بھی ملک کا نظام شہریوں کے تعاون کے بغیر چلنا ناممکن ہے اس لیے عوام کی جانب سے حکومت پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ وہ محفوظ سڑکیں بنائے اور سڑکوں پر تحفظ کے معیار کو بلند کرے۔ شہریوں پر بھی لازم ہے کہ وہ روڈ سیفٹی کے قوانین سیکھنے اور سکھانے کی کوشش کریں کیوں کہ ملکی نظام کو بہتر بنانا صرف حکومت کی ذمے داری نہیں بلکہ شہریوں کے لیے بھی ٹریفک قوانین کی پیروی کرنا لازمی ہے۔

تبصرے بند ہیں.