عمران خان کیلئے جیل میں 7 سیل مختص، سکیورٹی پر 14 اہلکار تعینات، کھانا اسپیشل کچن سے جاتا ہے: ایڈووکیٹ جنرل

16

لاہور:بانی پی ٹی آٹی کو اڈیالہ جیل میں مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے  درخواست پر سماعت  کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں بتایا کہ عمران خان کا کھانا اسپیشل کچن سے جاتا ہے، جیل میں 7 سیل مختص ہیں، سکیورٹی پر 14 اہلکار تعینات ہیں۔

 

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے بانی پی ٹی آٹی کو اڈیالہ جیل میں مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے  درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے سماعت 16 اپریل تک ملتوی کردی۔

دوران سماعت عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق ںے بانی پی ٹی آٹی کی اڈیالہ جیل میں سکیورٹی کی تفصیلات فراہم کر دیں۔

 

وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے گریس کا مظاہرہ کیا تھا وہ اپڈیٹ دیں گے۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں کہا کہ میں نے معلومات اکھٹی کی ہیں، اور میں عدالت میں معلومات لایا ہوں۔بانی پی ٹی آئی کو ایک سیل میں رکھا گیا ہے اوران کے اردگرد 6 سیل بھی ان کے لیے مختص ہیں، بانی پی ٹی آئی کے لیے ہم نے 7 سیل مختص کر رکھے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مزید کہا کہ اڈیالہ جیل میں 10 افراد کے لیے ایک سیکورٹی اہلکار ہے،مگر بانی پی ٹی آئی کے لیے ہم نے 14 سیکورٹی اہلکاروں تعینات ہیں۔بانی پی ٹی آئی کا کھانا ایک اسپیشل کچن سے جاتا ہے،اس کچن میں کسی اور کے لیے کچھ نہیں بنتا ۔

 

ایڈووکیٹ جنرل کی فراہم کردہ معلومات پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ انہوں نے جو کچھ بتایا ہے ہم خوش ہو گئے ہیں۔

 

بعد ازاں عدالت نے سماعت 16 اپریل تک ملتوی کردی۔

 

یاد رہے کہ عمران خان کو جیل میں سکیورٹی فراہم کرنے کے لیےدرخواست تحریک انصاف لائیرز فورم کے صدر افضال عظیم پاہٹ کی جانب سے دائر کی گئی۔ہائیکورٹ نے درخواست گزار کے وکیل کو درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر رکھے تھے۔

 

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو جیل میں خطرہ ہے، عمران خان کی زندگی کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔

تبصرے بند ہیں.