مریم نواز اور نواز شریف کی زیر صدارت زراعت سے متعلق اجلاس، کاشتکاروں کو 150 ارب قرض دینے کا اعلان

21

لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور قائد  مسلم لیگ ن محمد نواز شریف کی زیر صدارت محکمہ زراعت سے متعلق اجلاس ہوا جس میں  سیکرٹری زراعت نے ایگریکلچر سے متعلق منصوبوں پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں پنجاب میں زراعت کو درپیش چیلنجز کاجائزہ لیا گیا۔

 

اجلاس سے خطاب کرتے نواز شریف نے کہا کہ چار دہائیاں گزرنے کے باوجود کوالٹی سیڈ نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ پنچاب میں 37 ملین ایریا فٹ پانی کوضائع ہونے سے بچانا ہے۔ آبپاشی کے جدید طریقہ کار اپنا نا ضروری ہے۔

 

اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ  پنجاب میں 7300کھا لے پکے کر نے سے 1.7 ملین ایکڑ فٹ  پانی بچایا جا سکے گا۔  زیر زمین پانی کی سطح میں بہتری کے لیے ریورس پمپنگ سے بارش کا پا نی زمین میں واپس ڈالنے کی تجویز پر غور کیا گیا۔   پنجاب میں ایگریکلچرل میکا نائزیشن کی شرح 35 سے 60 فیصد کرنے کےلئے ضروری اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔  ربیع اور خریف کی فصل کے لئے کاشتکاروں کو 150 -ارب لون دیا جائیگا۔

 

قائد محمد نواز شریف  نےقرض کے لئے اہلیت کا آسان طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ  کاشتکار کو لون کےلئے اپلائی کرنے پر جلد از جلد قرض کا اجرا یقینی بنایا جائے۔  محکمہ زراعت قرض کے اجرا کی سکیم کی مانیٹرنگ اور فیڈ بیک  کا فول پروف سسٹم وضع کرے۔

 

ایگریکلچر آفیسر اور فیلڈ اسسٹنٹ کی خالی آسامیوں پر بھرتی کے پائلٹ پراجیکٹ کی اصولی منظوری دی گئی ۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز  نے ایگریکلچر آفیسر کی بھرتی میں میرٹ یقینی بنانے کی ہدایت  کی۔

 

اجلاس میں پنجاب میں ماڈل ایگریکلچر سنٹرز پراجیکٹ پر بریفنگ دی گئی  جس پر مریم نواز نے کہا کہ  ہر ضلع میں ماڈل ایگریکلچر سنٹر قائم کیا جائےگا۔ریسرچ ،بہتر کارکردگی اور گڈ گورننس کےلئے محکمہ زراعت کے ذیلی اداروں کو باہم مربوط کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

 

ایوب ریسرچ سینٹر کے لئے 500 ملین کا  ری سرچ انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کی منظوری  دی گئی ۔ فرٹیلائزر اور پیسٹی سائیڈ ایکٹ میں ترامیم لانے کا  بھی فیصلہ  کیا گیا۔

 

اجلاس میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، وزیر اطلاعات عظمیٰ زاہد بخاری، وزیر زراعت عاشق حسین کرمانی، سابق سینیٹر پرویز رشید، ایم پی اے ثانیہ عاشق، سیکرٹریز زراعت، خزانہ، بنک آف پنجاب اور دیگر اداروں کے حکام  نے شرکت کی۔

تبصرے بند ہیں.