30 لاکھ پرچون فروشوں پر کب ٹیکس لگائیں گے؟ آئی ایم ایف نے منصوبہ مانگ لیا

83

اسلام آباد : آئی ایم ایف نے ایف بی آر سے 30 لاکھ دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے پرچون فروشوں کی اسکیم کے نفاذ کے لیے درست ٹائم فریم کا تعین کرنے  کے بارے میں پوچھا ہے۔

 

دی نیوز میں شائع سینئر صحافی مہتاب حیدر کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے آئی ایم ایف کو جواب دیا ہے کہ اس موضوع پر حتمی فیصلہ آنے والے وزیر خزانہ کا ہوگا۔ پرچون فروشوں کی اسکیم پہلے ہی تیار کی جاچکی ہے اور اس کا اعلان اس وقت کیا جائے گا جب حکومت اپنا حتمی فیصلہ کرلے گی اور آگے بڑھنے کی منظوری دے دی جائے گی۔

 

مشن چیف ناتھن پورٹر کی قیادت میں آئی ایم ایف کی ٹیم اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام نے ورچوئل میٹنگ کی جس میں آئی ایم ایف نے 30 جون 2024 کو مطلوبہ 9415ارب روپے کے ہدف کے حصول کے لیے ایف بی آر کےمنصوبے کے بارے میں بھی دریافت کیا۔

 

ذرائع نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ایف بی آر کی 30 لاکھ ریٹیلرز سے ٹیکس وصول کرنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی دریافت کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے آئی ایم ایف ٹیم کو بتایا کہ ایف بی آر نے ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کے مقصد سے ملک بھر میں 147 ضلعی افسران کو تعینات کیا۔

 

ایف بی آر نے آئی ایم ایف کی ٹیم کو یقین دلایا کہ وہ رواں مالی سال کے لیے مارچ 2024 کے ٹیکس وصولی کا 879 ارب روپے کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایف بی آر کو فروری 2024 میں 33 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا تھا اور رواں مالی سال کی بقیہ مدت کے لیے اضافی ٹیکسوں کے نفاذ کو روکنے کے لیے جاری ماہانہ ہدف کو حاصل کرنا بہت اہم ہوگا۔

 

ایف بی آر پہلے ہی ایک آسان خوردہ فروش اسکیم تیار کر چکا ہے۔ ایف بی آر کے ذیلی ادارے پرال (پاکستان ریونیو اتھارٹی لمیٹڈ) نے موبائل ایپ ”تاجر دوست“  تیار کی ہے جو کہ ایک قومی کاروباری رجسٹری ہے جس میں تمام خوردہ فروشوں اور تاجروں کو رجسٹر کرنا ہوگا۔

تبصرے بند ہیں.