تحریک انصاف کا "بلا” : پشاور ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل پر فیصلہ محفوظ

183

پشاور: عام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے پاکستان تحریک انصاف کا انتخابی نشان بلا پارٹی کے پاس رہے گا یا چھین لیا جائے گا، الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر نظر ثانی اپیل پر پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

 

پشاور ہائیکورٹ  کےجسٹس اعجاز انور اپیل کی سماعت کی۔ پشاور ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا۔

 

دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل پیش کیے کہ  پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن صحیح طریقے سے نہیں کرائے، الیکشن کمیشن کے اختیارات پر سوال اٹھائے گئے،  کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔

 

الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے انتخابی نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کیا، الیکشن کمیشن کو سنے بغیر حکمِ امتناعی جاری کیا گیا، الیکشن کمیشن اس میں فریق تھا اس کو نہیں سنا گیا، وفاقی حکومت کیس میں فریق ہی نہیں ہے، الیکشن کمیشن ایک با اختیار ادارہ ہے، اسے اپنے فیصلے کرنے کا اختیار ہے، انہوں نے جو ریلیف دیا وہ پورا فیصلہ ہے اس کے بعد کچھ نہیں بچا، الیکشن کمیشن کو سنے بغیر ایسا فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو سنا، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل صوبائی اور وفاقی حکومت کے نمائندے ہیں، پی ٹی آئی نے لاہور ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کی، ایک عدالت منتخب کی تو پھر دوسری میں نہیں جا سکتے، اس پر سپریم کورٹ کے فیصلے بھی ہیں۔

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نےاستفسار کیا کہ اس کیس میں درخواست گزار پارٹی سے کوئی موجود ہے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ ہمیں کوئی نظر نہیں آ رہا، یہ خبر تو پورا دن نیوز چینلز پر چلی ہے، مجھے نہیں لگتا کہ ان کو یہ پتہ نہیں ہو گا کہ کیس سماعت کے لیے مقرر ہے، ہماری استدعا ہے کہ 26 دسمبر کا آرڈر واپس لیا جائے، ڈویژن بینچ قائم کیا جائے تاکہ کیس کی سماعت صحیح طریقے سے ہو سکے، دونوں پارٹیوں کو سننے کے بعد فیصلہ کیا جائے۔

 

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہم اس کیس میں فریق نہیں بننا چاہتے، ہماری نگراں صوبائی حکومت ہے، ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں برابر ہیں، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہمیں اس کیس سے نکالا جائے، اگر ہمیں نوٹس جاری کیا جاتا ہے تو پھر عدالت کی معاونت کریں گے۔

 

جسٹس اعجاز خان  نے سوال کیا کہ وفاقی حکومت کا بھی یہی مؤقف ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی ہمارا بھی یہی مؤقف ہے۔

 

الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ صرف صوبے تک فیصلہ کر سکتی ہے، انٹرا پارٹی انتخابات پورے ملک کے لیے ہوئے ہیں۔

 

بعد ازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور پی ٹی آئی انتخابی نشان سے متعلق کیس پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

 

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دے دیئے تھے اور انتخابی نشان بلا بھی الاٹ نہیں کیا تھا  جس کے بعد پشاور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے اور انتخابی نشان واپس لینے سے متعلق الیکش کمیشن کا فیصلہ معطل کیا تھا۔

 

عدالت نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا تھا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا سرٹیفکیٹ ویب سائٹ پر جاری کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کا انتخابی نشان ”بلا“ بھی بحال کیا جائے۔

 

پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے نظر ثانی اپیل دائر کر دی تھی، الیکشن کمیشن نے اپیل میں ڈویژن بنچ بنانے کی استدعا کی تھی۔ پشاور ہائیکورٹ نے اپیل آج سماعت کیلئے مقرر کر رکھی ہے۔

تبصرے بند ہیں.