عالمی ادارہ صحت کی طرف سے پاکستان میں بنے کھانسی کے شربتوں میں زہریلی کثافتوں کی نشاندہی

97

لاہور: ڈرگ ریگولیٹر ی اتھارٹی(ڈریپ) نے عالمی  ادارہ صحت کی طرف سے نشاندہی پر  کھانسی کے مضر صحت شربتوں کو مارکیٹ سے اٹھوا دیا۔

عالمی  ادارہ صحت کی طرف سے الرٹ جاری ہونے کے بعد ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان  نے لاہور کی فارماسیوٹیکل کمپنی کے بنائے ہوئے کھانسی کے شربت میں زہریلی کثافتیں ہونے کے باعث کارروائی کیں۔

 

سی ای او ڈریپ کے مطابق ان کف سیرپ  میں موجود کثا فتوں سے بچوں کی اموات واقع ہو چکی ہیں۔ڈبلیو ایچ او کی طرف جاری الرٹ کے بعد دنیا بھر میں ان کثافتوں سے تیار مشروبات پر پابندی لگائی گئی  ہے ۔ پاکستان بھر میں بھی  ان غیر معیاری ادویات کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اتھارٹی کی  فیلڈ فورس اور  صوبائی  ہیلتھ ڈیپارٹمنٹس   کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ملک بھر کی فارمیسیزا ورمیڈیکل سٹوروں  پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

نگران وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان نے اس حوالے سے جاری   بیان میں کہا جعلی اور  غیر  رجسٹرڈ شدہ  ادویات بیچنے والوں کیخلاف سخت کریک ڈاؤن کیا  جا رہا ہے۔عوام کو کوالٹی آف میڈیسن اور سروسز کی فراہمی میرا مشن ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ بھی مالدیپ حکومت اور ڈبلیو ایچ او نے لاہور کی کمپنی کے بنائے کھانسی کے سیرپ پر الرٹ جاری کیا تھا۔ لاہورکی کمپنی کے کھانسی کے سیرپ میں نقصان دہ ڈائی ایتھلین گلائکول اور ایتھلین گلائکول نامی کثافتیں پائی گئی ہیں۔

 

یاد رہے کہ اس سے پہلے عالمی ادارہ صحت نے بھارت میں بنے کھانسی کےشربت صحت کیلئےنقصان دہ قرار دےدیئے تھے۔

 

 

تبصرے بند ہیں.