مسلمان قابل تقلید کیوں نہیں؟

28

گزشتہ سوال کے جواب سے سائل مطمئن دکھائی نہیں دیا، کیونکہ ان ذیلی سوالوں کے پیچھے ایک اور سوال چھپا ہوا تھا، جو دراصل سائل کا اصل سوال تھا۔ یہ سوال قابلِ توجہ ہے، کیونکہ اس کی بنیاد ایک ایسے فکری اشکال پر ہے جس میں ہمارے دانشوروں نے ہمیں بڑی محنت کے ساتھ دھکیلا ہے۔ سوال دہرائے دیتا ہوں ”مسلمان اقوام ہر جگہ مار کیوں کھا رہے ہیں، کیوں مسلمان آج تقلید کے قابل نہیں“۔
سب سے پہلے اس سوال کا تجزیہ از حد ضروری ہے۔ مسلمان اقوام نہیں، بلکہ قوم ہے، ملت ہے۔ دیگر اقوامِ عالم جغرافیائی اور لسانی حدود کے تحت قوم کہلاتی ہیں جبکہ مسلمان اگر خود کو واقعی ایک قوم سمجھتے ہیں تو اس کی بنیاد ایک کلمہ وحدت ہے، ایک نظریہ ہے اور مابعد زندگی کے متعلق ان کا عقیدہ ہے۔ ”مار کھانا“ اور ”مارنا“ دونوں ہی قابلِ تقلید نہیں۔ یہ دنیا فزکس کے اصولوں پر قائم ہے، یہاں سکہ رائج الوقت طاقت ہے۔ جو قوم جب طاقت ور ہو گی تو وہ مار نہیں کھائے گی، وہ اپنے اصول اور ضابطے اس دنیا میں رائج کرے گی۔ اگر اس کی اخلاقی تربیت میں نقص ہو گا تو وہ اپنا نظریہ کسی اخلاقی دعوے کے بجائے بزورِ شمشیر رائج کرے گی۔ ایک گولی یا تلوار جب گھائل کرتی ہے تو میکانکی اصول پر کام کرتی ہے، گولی کے سامنے کوئی مومن ہو یا کافر دونوں کو مرنا پڑے گا۔ انبیاء کو جب جنگیں درپیش ہوئیں تو انہوں نے اس زمانے کی رائج مادی قوتوں کو استعمال کیا۔ جنگ میں شمشیر اور تدبیر استعمال کی، صرف کلمے اور دعا پر اکتفا نہ کیا۔
یہ کائنات عدل کے اصولوں پر تخلیق کی گئی ہے، یہاں خالقِ کائنات نے خود کو مخفی رکھنے کی خوب تدبیر کر رکھی ہے، اس پر ایمان لانے کے لیے اس کے
نبیوں پر ایمان لانا پڑا، کوئی شخص براہِ راست کائناتی کلیات کو سمجھ کر ”ایمان“ نہ لا سکا۔ اگر ایسے ممکن ہوتا تو انبیاء کی بعثت کی حیثیت ثانوی رہ جاتی۔ یہاں ماننے والوں کو نہ ماننے والوں پر کوئی ترجیح نہیں دی جاتی۔ اگر دینِ حق کے ماننے والوں کو کلمے کی بنیاد پر کوئی فوقیت یا ترجیح دے دی جاتی تو کون ”کافر“ رہ جانا پسند کرتا۔ جسے معلوم ہو جاتا کہ ماننے میں دو پیسے کا فائدہ ہو گا، تو ایسے میں نقصان میں رہنا کسے قبول ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا کہ دین کو ماننے اور اس پر عمل پیرا ہونے سے اس دنیا میں اسی طرح کا فائدہ اور فوقیت ملتا جس طرح پانی پینے سے پیاس بجھ جاتی ہے اور درہم و دینار سے آسائش میسر آ جاتی ہے، تو غیب کا پردہ چاک ہو جاتا ہے اور ”ایمان بالغیب“ کی حجت ختم ہو جاتی۔
اس تمہیدی کلمات کا مدعا یہ واضح کرنا ہے کہ دنیا پر سیاسی، یا فوجی بالادستی کا تعلق کسی دین کے ماننے یا اس پر عمل پیرا ہونے سے ہرگز نہیں۔ اس دنیا میں ترقی اور عروج کے کلیے الگ ہیں، جو قوم ان کلیات پر عمل پیرا ہو گی وہ دوسروں پر برتری حاصل کر لے گی اور مغلوب اقوام اسے قابلِ تقلید سمجھیں گے۔ یہ فکری اشکال کہ اسلام ہمیں اقوامِ عالم پر بالادستی کا لائسنس فراہم کرتا ہے۔ اتنا ہی گمراہ کن ہے جتنا لادینی عناصر کی یہ بحث کہ اسلام مسلمانوں کی ترقی کی راستے میں حائل ہے، اور یہ کہ اگر مسلمان دیگر قوموں کی طرح سیاسی اور سائنسی ترقی کی منازل طے کرنا چاہتے ہیں تو انہیں دینی فکر سے جان چھڑا لینی چاہیے، اس کے پس منظر میں ان کے ہاں یورپ کی مذہبی تاریخ کی مثال موجود ہوتی ہے کہ اہلِ یورپ نے مذہب کی قید سے ”نجات“ حاصل کرنے کے بعد ترقی کے زینے پر قدم رکھا تھا۔ اگر اسلام ترقی کی راہ میں سدِ راہ ہے تو پہلے ہزار برس تک یہی اسلام تھا جو یورپ کی سلطنتوں کو روند رہا تھا، قرطبہ میں یونیورسٹیاں بنا رہا تھا، جہاں اہلِ یورپ بڑے فخر سے داخلہ لے رہے تھے، اور عیسائی راہب اپنے نوجوانوں کی ”گمراہی“ ان لفظوں میں بیان کرتے تھے، کہ مسیحی نوجوان مسلمانوں کو دیکھ کر گمراہ ہوتے جا رہے ہیں، ان کی زبان میں عربی الفاظ آ گئے ہیں اور ان کے پہناوے بھی عربی ہوتے جا رہے ہیں …… ظاہر ہے اس وقت مسلمان سیاسی اور عسکری طور پر دنیا کو لیڈ کر رہے تھے، اور دنیا انہیں فالو کر رہی تھی۔ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ بہت اچھے ”مسلمان“ تھے یا ان کے ہاں اسلام کی تشریح درست تھی، بلکہ وجہ سیاسی استحکام تھا، معاشرتی عدل و انصاف تھا، معیشت کے مراکز پر ان کا کنٹرول تھا، ان کی جنگی طاقت تھی اور سب سے بڑھ کر علم دوستی تھی۔ اسی طرح اس زمانے میں اہلِ یورپ کے زوال کی وجہ ان کی عیسائیت نہ تھی، بلکہ پوپ اور کنگ کے گٹھ جوڑ سے رعایا پر ظلم اور ناانصافی تھی، تعلیم سے دوری تھی اور تعلیم سے دوری تھی۔
دنیا کا کوئی مذہب بشمول اسلام دنیاوی ترقی و بالادستی کی گارنٹی نہیں دیتا۔ دنیاوی عروج و زوال دینی عروج و زوال سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ ایک شخص جسے معاشی اور سیاسی قوت حاصل ہو لازم نہیں کہ وہ ایک مسلمان بھی ہو، اسی طرح ایک متقی پرہیزگار شخص کے لیے لازم نہیں کہ وہ مالی اعتبار سے طاقتور بھی ہو۔ ممکن ہے وہ کاروبار کے فن سے ناآشنا ہو، وہ جدید علوم جو اسے معاشی خوشحالی دے سکتے ہیں، ان سے غافل ہو۔ یہی کلیہ فرد کے لیے ہے اور یہی اقوام کے لیے۔ کسی قوم کا معاشی اور سیاسی طور پر عروج میں ہونا اس کا ثبوت نہیں کہ وہ درست دین پر ہیں، اسی طرح ممکن ہے ایک قوم دینی اعتبار سے صراطِ مستقیم پر ہو لیکن مادی اعتبار سے غیر ترقی یافتہ ہو۔ اس لیے برادرانِ عزیز! اپنی پس ماندگی کی وجوہات دین میں یا اس کی تشریح میں تلاش کرنے کے بجائے ان مادی وجوہات میں تلاش کریں جنہیں ہم کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اگر میں اپنی دکان پر توجہ نہیں دیتا، گاہکوں کو درست سروسز فراہم نہیں کرتا تو اپنے کاروبار میں زوال کی وجہ یہ تلاش نہ کروں کہ میری نمازیں کم ہیں یا یہ کہ میں اپنے دین کی تعلیمات پر درست عمل پیرا نہیں ہوں۔

تبصرے بند ہیں.