عمران خان پر قاتلانہ حملہ اور ملزم وزیر اعظم۔۔۔؟

19

وزیر آباد میں عمران خان پر دن دیہاڑے قاتلانہ حملہ ہوا لیکن المیہ یہ ہے کہ پنجاب میں حکومت ہوتے ہوئے بھی آج تک ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہو سکی۔ اس حملے میں مدعی کی طرف سے نامزد ملزم وزیر اعظم شہباز شریف نے جھٹ پٹ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرتے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ سے فل بنچ بنا کر اس حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ غالباً وزیر اعظم بھول گئے کہ اس قاتلانہ حملے کی آج تک ایف آئی آر ہی درج نہیں کرنے دی جا رہی جبکہ تفتیش کرنا پولیس کا کام ہے نہ کہ سپریم کورٹ کا۔ عمران خان نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے کمیشن کے قیام کو سراہا ہے لیکن سوال اٹھایا ہے کہ بغیر ایف آئی آر کے کمیشن کس پر تحقیقات کرے گا۔ ایک طرف تو عمران خان ملک میں ناانصافی کا ذکر کر رہے اور عدالتی کمیشن کے قیام کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔ میری رائے میں عمران خان حکومت کی طرف سے کمیشن کے قیام کی حمایت کر کے ٹریپ ہو گئے ہیں اور اگر کمیشن نے کوئی متنازع فیصلہ دے دیا تو کیا اسے قبول کر لیں گے؟ میری رائے میں سپریم کورٹ کو متنازع سیاسی معاملات میں نہیں الجھنا چاہیے اور ایف آئی آر کے اندراج میں بھی مدعی کا حق تسلیم کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ ماضی میں اس وقت کے وزرائے اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قتل عمد، نواز شریف، وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور اس وقت کے پنجاب کے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کے خلاف ماڈل ٹاؤن میں 14 افراد کے قتل کے مقدمات بھی درج ہو چکے ہیں۔ ایف آئی آر میں کسی کو بھی ملزم نامزد کرنا مدعی کا حق ہوتا لیکن اس ایف آئی آر میں ایک حاضر سروس میجر جنرل کے نام کی وجہ سے ”نادیدہ“ قوتوں نے ایف آئی آر درج نہ ہونے دی۔ ایک آمر جنرل ضیاالحق کو یہ حق ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو معزول کر کے تختہ دار تک پہنچائے لیکن دوسری طرف ایک جنرل کا نام ایف آئی آر میں بھی نہیں آ سکتا۔ جبکہ ”نادیدہ“ قوتوں نے ملزم کی گرفتاری کے فوری بعد ملزم کے اعترافی بیان کی ویڈیوز کی سیریز جاری کر کے تفتیش کی ایسی کی تیسی پھیر دی۔ نادیدہ قوتیں اس لیے کہ پولیس نے ویڈیو ریلیز کرنے کے عمل کی تردید کی ہے جبکہ ایک افسر نے یہاں تک کہہ دیا کہ گرفتار ملزم کی بعد کی چار ویڈیوز ان کے کسی تھانے میں ریکارڈ نہیں ہوئیں۔
ادھر پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی بھرپور کوشش کے باوجود جنرل مشرف کے دور میں بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں بھی ایف آئی آر میں اس وقت کے صدر جنرل مشرف کا نام نہ آ سکا اور پولیس نے ایف آئی آر نامعلوم کی طرف از خود درج کرا دی۔ ان ذرائع کہ کہنا ہے کہ پولیس پر آئی جی پنجاب اور بعض اداروں کی طرف سے اب بھی شدید دباؤ ہے کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے پر ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کے بجائے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ یاد رہے کہ بعد میں تفتیش کے دوران پرویز مشرف کا نام آیا لیکن وہ دبئی فرار ہو گیا اور آج تک عدالتی مفرور ہے، اسے ملک سے فرار ہونے میں مدد بھی ”نادیدہ“ قوتوں نے فراہم کی۔
سوال یہ ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو اور ماڈل ٹاؤن میں 14 افراد کے قتل کے الزام میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور وزیر داخلہ پنجاب رانا ثنااللہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ تو عمران خان پر قاتلانہ حملے میں ان کے نامزد کیے گئے افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے میں کیا مسئلہ ہے۔ یقیناً اس کے پیچھے ”نادیدہ“ قوتیں ہیں جنہوں نے پورے نظام کو مفلوج کر کے ایف آئی آر درج نہ ہونے دی۔ حقیقتاً وزیر اعظم شہباز شریف کی ہفتہ کے روز پریس کانفرنس کا لب لباب یہ تھا کہ مدعی کے مطابق ایف آئی آر بھول جائیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کہتے ہیں کہ فوج کے کسی افسر کو کسی مقدمہ میں نامزد کرنا فوج کی توہین ہے تو کیا جو کچھ ایک سینیٹر اعظم سواتی اور اس کی اہلیہ کے ساتھ کیا گیا وہ پارلیمنٹ اور عوام کی توہین نہیں۔ افسوس کہ کل وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اعظم سواتی سے ہونے والے سلوک بارے سوال کو بھی گول کر دیا۔
خیر اللہ کا شکر ہے کہ عمران خان کی اس باقاعدہ ”سکرپٹڈ“ حملے میں جان بچ گئی اور ملک قائد اعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے بعد ایک اور سانحہ سے دوچار ہونے سے وقتی طور پر بچ گیا۔ لیکن جس طرح کے نفرت انگیز بیانات وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ، مریم نواز، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور ان کی پارٹی کے بعض لیڈران کے اس حملے کے بعد دے رہے ہیں اس سے عمران خان پر خطرہ ٹلا نہیں بلکہ مذکورہ بالا افراد کے بیانات سے ان کی زندگی کے متعلق خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ خاص طور پر حافظ آباد مسلم لیگ ن کا ضلعی وائس چیئرمین قمر زمان جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ عمران خان کہتا ہے کہ مجھ پر حملہ شہباز شریف نے کرایا اور میں کہتا ہوں یہ واجب القتل ہے جب مسلم لیگ ن کی قیادت حکم دے گی میں اس کو خود گولی مار دوں گا۔ سٹیج اور شرکا کی طرف سے اس کے بیان کو سراہا گیا۔ اس وقت سٹیج پہ سابق وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ بھی بیٹھے تھے اور انہوں نے بھی قمر زمان کو نہیں روکا۔ یہ ایک سنجیدہ دھمکی ہے اور سٹیج پر موجود ان دو حضرات کے خلاف بھی مقدمہ درج کر کے تفتیش کرنی چاہیے۔ وزیر اعظم شہباز شریف، مریم اورنگ زیب، رانا ثناللہ نے بغیر تفتیش کے عمران خان پر حملے کو مذہبی رنگ دے کر عمران کی جان کو خطرات مزید بڑھا دیے ہیں۔
عموماً وزیر داخلہ ایک سنجیدہ اور بردبار شخص ہوتا ہے کیونکہ اس کا کام ملک میں امن و امان قائم رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن سیاست میں داخلے کے وقت سے لے کر آج تک رانا ثنااللہ کا رجحان معاملات کو مزید بگاڑنے پر ہی رہا ہے۔ جب وہ پیپلز پارٹی کے رکن پنجاب اسمبلی تھے تو انہوں نے نواز شریف کی اہلیہ کے متعلق جو بیان دیا تھا وہ اتنا لغو تھا کہ حقیقت میں اس کو کوئی باعزت شخص دہرا بھی نہیں سکتا۔ بے نظیر بھٹو شہید نے خود مجھ سے دی نیوز کے لیے ایک انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے کنفرم کیا کہ رانا ثنااللہ کے ان الفاظ کی وجہ سے انہیں پیپلز پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ البتہ اس عظیم لیڈر نے مجھے یہ کہا کہ اس کا ذکر میرے اس انٹرویو میں نہ کیجیے گا کیونکہ نواز شریف اور ان کی فیملی کو ایک بار پھر دکھ پہنچے گا اور میں نے ان کے الفاظ کا پاس کیا۔ پھر رانا ثنااللہ مسلم لیگ نواز میں چلے گئے اور نواز شریف کی فوج سے نفرت کی وجہ سے پاک فوج کے اہل خانہ سے متعلق ایسا گھٹیا بیان دیا جس کو میں قلم بند کرنے سے قاصر ہوں کیونکہ میرا ضمیر اجازت ہی نہیں دیتا۔
پھر رانا صاحب نے ویڈیو بیان میں اخلاق سے انتہائی گری ہوئی بات کی کہ بلاول زرداری نامرد ہے اس لیے وہ شادی نہیں کرے گا۔ پھر عمران خان کے خلاف مذہبی جذبات بڑھکا کر ان کے خلاف مذہبی انتہا پسندوں کو اشتعال دلانا بھی رانا ثنا کے جرائم میں شامل ہے۔ لیکن رانا ثنا کا بیانیہ موجودہ حکومت اور مسلم لیگ ن کی پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے اس لیے اسے سراہا جا رہا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ رانا ثنا پاک افواج کے خلاف اخلاق سے گری ہوئی حرکت کر چکے ہیں اور اگر انہیں نہ روکا گیا تو ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ متحدہ حکومت کی کشتی میں سوراخ کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔
دوسری طرف عمران خان نے لانگ مارچ منگل سے اسی مقام سے پھر شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دس روز بعد پنڈی سے ملک بھر سے آئے عوام کے ساتھ لانگ مارچ کو خود اسلام آباد لیڈ کرنے کا کہا ہے۔ تلخی ٹلنے کے بجائے دن بدن بڑھ رہی ہے سیاستدان تو متنازع تھے ہی اب فوج بھی متنازع ٹھہری اور ایسے حالات میں سپریم کورٹ ہی واحد ادارہ رہ گیا ہے جو اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ میری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر حالیہ بحران کا کوئی درمیانی حل نکالیں ورنہ ہمیں پچھتانے کا شاید موقع بھی نہ ملے۔
کالم کے بارے میں اپنی رائے 0300-4741474 پر وٹس ایپ کریں۔

تبصرے بند ہیں.