’’لونگ گواچہ‘‘

12

دوستو،آپ جب یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے اس روز سابق وزیراعظم نے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے لیکن جید صحافیوں اور باخبرحلقوں کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کی نوبت نہیں آئے گی، عمران خان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ الیکشن کا اعلان کرو، حکومت پر بھی دباؤ ہے کہ الیکشن کا اعلان کیا جائے۔ لانگ مارچ سے پہلے پہلے فیصلہ ہوجائے گا۔۔ یاتو لانگ مارچ ہوگا یا پھر ’’لونگ گواچہ‘‘ گانا چلے گا۔۔سیاست میں چونکہ آخری لمحوں تک کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کیا ہوجائے اس لئے فی الحال آپ سیاست کو بھول جائیں اور ہماری اوٹ پٹانگ باتوں سے لطف اندوز ہوں۔۔
بات جب حالات حاضرہ کی ہورہی ہے تو ہم آپ کو گزشتہ ہفتے کی دو دلچسپ خبریں بتاتے ہیں، ان خبروں سے ہمارا موڈ کچھ دیر کے لئے خوشگوار رہا اور باباجی کی بیٹھک میں بھی ان خبروں پر کافی دیر تک ’’چرچا‘‘ رہا۔۔پہلی خبر یہ ہے کہ بھارت میں اپنی گرل فرینڈ سے ملاقات کے لیے گاؤں کی بجلی کاٹ دینے والا نوجوان بالآخر دھر لیا گیا۔ یہ واقعہ ریاست بہار کے ضلع پورنیا میں پیش آیا جہاں نوجوان گنیش پور گاؤں کی رہائشی اپنی گرل فرینڈ سے ملنے کے لیے پورے گاؤں کی بجلی بند کر دیتا تھا۔کئی روز سے رات کو مقرر وقت پر بجلی دو تین گھنٹے کے لیے بند ہو جاتی تھی۔ گاؤں والے پریشان تھے کیونکہ اردگرد کے دیہات میں اس وقت بجلی آ رہی ہوتی تھی۔ جب انہوں نے تحقیق کی تو انہیں حقیقت کا علم ہو گیا اور انہوں نے اپنے گاؤں کی لڑکی سے ملنے کے لیے آنے والے اس عاشق کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کی منصوبہ بندی کر لی۔گاؤں کے رہائشی مرار رام مرمو کا کہنا تھا کہ اگلی رات جب بجلی بند ہوئی تو گاؤں کے لوگ گاؤں کے سرکاری سکول پہنچ گئے جہاں لڑکا لڑکی ملتے تھے۔ لوگوں نے نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پورے گاؤں میں گھمایا اور بعد ازاں سرپنچ کی موجودگی میں اسی لڑکی کے ساتھ اس کی شادی کردی۔۔۔دوسری خبر بھی دلچسپ ہے اور بھارت سے ہی ہے۔۔بھارتی ریاست گجرات میں ایک شخص نے اپنی بیوی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے بچے کو زیادہ دودھ پلا پلا کر موٹا کردیا ہے، اس الزام پر شوہر نے بیوی کی پٹائی کی اور اسے گھر سے نکال دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ گاندھی نگر میں پیش آیا جہاں 37 سالہ فالگونی اسودیا نے پولیس کو شکایت درج کرائی ہے۔ خاتون کے مطابق اس کے شوہر آنند اسودیا نے اس پر الزام عائد کیا کہ وہ بچے کو زیادہ دودھ پلاتی ہے جس کی وجہ سے اس کا وزن بڑھ گیا ہے۔ اس بات پر شوہر نے اس کی پہلے تو پٹائی کی اور پھر اسے گھر سے نکال دیا۔ خاتون نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ سسرال والوں کی طرف سے اس پر جہیز کیلئے دباؤ بھی ڈالا گیا  اور 25 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔ پولیس واقعے کی تفتیش میں مصروف ہے۔
باباجی نے اپنی نوجوانی کا ایک دلچسپ قصہ گزشتہ رات ہمیں اپنی بیٹھک میں سنایا۔۔ کہنے لگے۔۔ میری نئی نئی شادی ہوئی تھی، عمر کوئی بیس سال کی ہوگی میری۔۔اس زمانے میں ہمارے علاقے میں بجلی نہیں آئی تھی اس لئے عشا کے بعد محلے کے بزرگ اور نوجوان گھر کے باہر چارپائیاں ڈال کر گپ شپ کرتے تھے۔۔جس میں دن بھر کا احوال ایک دوسرے سے شیئر کرتے، ایک دوسرے کی خیریت بھی پتہ چلتی، کس کے گھر میں دکھ،سکھ ہے وہ بھی سب کے علم میں آجاتا۔۔ ایک دن رات کو جب ہم اسی طرح بیٹھے تھے، میں اپنی عمر کے لڑکوںمیں بیٹھا تھا تو میری گلی میں رہنے والے ماجد نے مجھ سے سوال کیا۔۔بھائی یہ بتاؤ۔ میرے ماں باپ کا ایک بچہ ہے۔ وہ نہ میرا بھائی ہے نہ بہن۔ بتاؤ وہ کون ہے؟میں کافی دیر سوچتا رہا۔ آخر نفی میں جواب دیا۔ سوری یار ماجد میں نہیں جانتا۔۔ماجد ہنس کر کہنے لگا۔۔۔ ارے اتنا آسان سوال نہیں بوجھ سکے۔ وہ میرا بھائی بھی نہیں اور بہن بھی نہیں تو لازمی ہے کہ وہ میں ہی ہوں۔۔مجھے بہت شرمندگی ہوئی کہ واقعی یہ تو بہت آسان سوال تھا۔ ویسے مجھے یہ سوال دلچسپ بھی لگا۔گھر آیا تو یہی سوال میں نے اپنی بیگم سے کر دیا۔ ۔کہ میرے ماں باپ کا ایک بچہ ہے۔ وہ نہ تو میرا بھائی ہے نہ ہی بہن۔ بتاؤ وہ کون ہے؟۔۔بیگم کافی دیر سوچتی رہی۔ آخر اس نے بھی ہار مان لی۔تو میں نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔ ویسے تو تم مجھے باتوں میں پورا نہیں ہونے دیتی۔ اور اب ایک آسان سے سوال کا جواب نہیں دے سکیں۔ارے وہ کوئی اور نہیں اپنی گلی میں رہنے والا ’’ماجد‘‘ ہے۔۔بیگم مسکرا کر رہ گئی،شاید وہ اپنی خفت مٹانا چاہ رہی تھی،اس کے بعدمیں نے آہستہ سے بیگم کے کان میں سرگوشیانہ انداز میں کہا۔۔تھوڑی شرمندگی تو ہوئی ہو گی؟
حاجی صاحب ویکسین لگوانے کے بعد گھر آئے اور کہا۔۔نرس نے اتنا درست انجکشن لگایا ہے کہ کہیں تکلیف نہیں ہے۔۔بیگم یہ سن کر دھاڑی اور بولی۔۔ دوسری خواتین کی سوئیاں تک نہیں چبھتیںاورمیرے الفاظ چبھتے ہیں۔۔ایک شام لندن کے نواحی علاقے میں ایک ارب پتی ’’گورا‘‘اپنے کتے کے ہمراہ واک کر رہا تھا کہ اچانک ایک پاکستانی جھاڑیوں سے برآمد ہوا اور پورے تین فائر کرکے کتے کو مار ڈالا ۔۔ گورے نے یہ منظر دیکھا تو دم بخود رہ گیا،حیرت اور صدمے سے دوچار انگریز نے اپنی پوری ہمت جمع کرکے آخر کار فائر کرنے والے پاکستانی سے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا۔۔تم نے ایسا کیوں کیا؟؟۔۔وہ پاکستانی بولا۔۔ تمھاری وائف نے مجھے پانچ ہزار پاؤنڈ دئیے تھے اور کہا تھا۔۔ Kill this son of bitch.۔۔انگریز کی آنکھوں میں آ نسو آ گئے، پاکستانی کو گلے لگا کر بولا۔۔میں زندگی بھر تمھارے انگلش کے ٹیچر کا احسان نہیں بھولوں گا۔۔ایک تقریب میں اچانک ایک سہیلی نے دوسری سے کہا۔۔ بیوقوف تو یہاں کھڑی ہے ادھر دیکھ تیرا میاں ایک خوبصورت نوعمر لڑکی سے لہک لہک کر باتیں کر رہا ہے۔ ۔دوسری سہیلی مسکرا کرکہنے لگی۔۔ میں نے اسی وقت دیکھ لیا تھا۔ مگر میں اس کی حالت انجوائے کر رہی ہوں۔ دیکھنا چاہتی ہوں کہ یہ کتنی دیر پیٹ کو اندر کھینچ سکتا ہے۔۔شوہر حضرات کا عموما چوٹیں اور زخم آنے سے چند لمحے قبل آخری جملہ۔۔جو پانچ ہزار دئیے تھے وہ کہاں خرچ کئے؟؟
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ہر شخص اپنی سنائی ہوئی کہانی میں بے قصور، معصوم اور مخلص ہوتا ہے۔۔لانگ مارچ ہو یا لونگ گواچہ۔۔کہانی سننے کے بعد ٹھنڈے دل سے کہانی پر غورضرور کیجئے گا۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

تبصرے بند ہیں.