عمران خان: ریاستِ مدینہ سے کوفہ تک

89

میں چھوٹا تھا تو پاکستان بڑا تھا میں بڑا ہوا تو پاکستان چھوٹا ہو گیا ۔ایک ہزار مہینوں سے افضل رات میں بننے والا پاکستان صرف 294 مہینوں بعد آدھے سے بھی کم رہ گیا ۔اقتدار کی بندر بانٹ میں جس کے ہاتھ جو لگا لے کر چلتا بنا اور پیچھے چھوڑ گیا ‘ درد کے انگنت افسانے اور اک معمہ سی تاریخ ‘ جس کے جھوٹ سچ کا فیصلہ کرنے کیلئے کسی ٹائم کار کی ضرور ت ہے جو ہمیں اُس دور میں لے جا سکے تاکہ ہم حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں ۔پہلے جنرل کے دور میں پیدا ہوئے ‘  دوسرا ملک توڑ کر اعزاز کے ساتھ دفن ہو‘ا تیسرے کے دور میں جوانی جیل اورریل میں کاٹ دی ‘ چوتھا بوڑھا کر گیا اور ابھی پانچویں کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے کہ موجودہ ملکی صورت حال میں یار کا پائو ں زلف دراز میں الجھ چکا ہے ۔ عمران خان کا الیکشن کا مطالبہ گلی محلوں میں کھلنے والے سیاسی دفتر کو سیاسی ورکروں کی قتل گاہ بنا دے گا اور الیکشن نہ کرانے کی صورت میں مستحکم حکومت کا وجود ممکن نہیں کہ ایسے اتحادوں پر تو محلے کا پرچون فروش اعتماد نہیں کرتاپھر عالمی ادارے کیوں کریں ؟
میں عمران خان کو جانتا ہی نہیں پہچانتا ہی بھی ہوں کہ میں نے اُس کے ساتھ دن نہیں زندگی گزاری ہے ۔طویل گفتگویں کی ہیں ‘ اس نے میری طویل تقریریں سنی ہیں کہ اُس وقت اُس کو 1996 ء میں آنے والے نامور ’’صحافی ‘‘اور پاسبان کے مرتدسیاسی ورکر ’’ ڈیڈ ہارس‘‘ کہہ کر جا چکے تھے ۔میں وہ خوش قسمت ہوں جس کی خدمات کا اعتراف اُس نے برملا کیا ۔جب عمران خان الیکشن 2018ء سے پہلے پارٹی ورکرز کے اجلاس میں ورکروں کی تعریفیں کر رہا تھا تو سٹیج پر میرے ساتھ بیٹھے لاہور کے سابق صدر شبیر سیال نے پوچھا :’’بٹ صاحب ‘ عمران خان آج کس چکر میں ہماری تعریفیں کر رہا ہے‘‘؟میں نے جواب دیا :’’ سیال صاحب آج عمران خان نے ہمیں فارغ کردیا ہے‘‘۔اور پھر عمران خان اقتدار میں آیا تو بات کھلتی چلی گئی ۔22 سال جن ورکروں نے مڑ کر نہیں دیکھا تھا عمران خان نے اُنہیں ورکروں کی محنت کے نتیجہ میں بننے والی حکومت (مخالفین جو مرضی کہتے رہیں مگر سچ یہی ہے کہ فوجی جنتا بھی اُسی گھوڑے پر ہاتھ رکھتی ہے جس میں کوئی دم ہوتا ہے اور تحریک انصاف میں یہ دم تحریک انصاف کے ورکروں کے دم سے تھا ) اٹھا کر سرمایہ داروں ‘جاگیر داروں ‘ریٹائرڈ
سول اور ملٹی بیورکریسی ‘ گدی نشینوں اور ریاستی ملائوں کی گود میں رکھ دی ۔ اقربا پروری کی انتہا یہ تھی کہ ایک ایک نیازی کو چارچار عہدے دے کر نواز گیا ۔سیف اللہ نیازی اور عامر کیانی جن پر 2010ء میں ایک کروڑ 90 لاکھ پارٹی فنڈ خردبرد کرکے اپنے اکائونٹ میں جمع کرانے کا الزام تھا اقتدار کے ملتے ہیں سیف اللہ نیازی کو تحریک انصاف کا چیف ایگزیکٹو اور سینیٹر بنا دیا گیا جبکہ عامر کیانی کو پہلے وزیر صحت بنایا لیکن اُس نے جب ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ مل کر ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرایا تواسے پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا ۔
والد مرحوم قائد اعظم کے مسلم لیگی تھی سو مسلم لیگ کے علاوہ ہر سیاسی جماعت کو شجر ممنوع سمجھتے تھے۔مجھے نویں جماعت میں پاکستان قومی محاذ آزادی اور معراج محمد خان کا قرب حاصل ہو گیا اب ایک طرف ایڈی پس کا مرض اور دوسری طرف انقلابی نظریات نے مجھے والد مرحوم سے تھوڑا دور کردیا ۔ مزید ظلم یہ ہوا کہ نواز شریف نے سیاست شروع کر دی۔ اب والد مرحوم پکے کشمیری شائونسٹ تھے سو اُن کا گمان تھا کہ میں اپنا سیاسی قبلہ تبدیل کرلوں گا لیکن 40 برس کویت میں گزارنے والے والدِ محترم نہ جان سکے کہ اُن کا بیٹا انقلاب کے جس رستے پر چل نکلاہے وہاں سے لوگ گھرواپس نہیں آتے ۔1990ء کا انتخاب بلے کے نشان پر(یہ تحریک انصاف کی پیدائش سے چھ سال پہلے کی بات ہے) شہباز شریف (موجودہ وزیر اعظم)کے خلاف اندرون لاہور سے لڑا تو والد مرحوم نے مکمل بول چال بند کردی ۔سمے کا پنچھی اڑتا رہا اور پھر معراج محمد خان مرحوم نے قومی محاذ آزادی پی ٹی آئی میں ضم کردی ۔جس دن میں نے پی ٹی آئی جوائن کی اُس رات میرے والد مرحوم نے مجھے گہری نیند سے بیدارکیا اورپوچھا :’’تم عمران خان کی جماعت میں چلے گئے ہو‘‘۔ شرمندگی سے جواب دیا:’’جی وہ معراج محمد خان نے اپنی جماعت پی ٹی آئی میں ضم کردی ہے‘‘۔والد صاحب کسی گہری سوچ میں چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد گویا ہوئے:’’مرضی تم نے اپنی کرنی ہے مگر میری ایک بات یاد رکھو جسے مانگنے کی عادت ہو اُس کی تقسیم کبھی درست نہیں ہوتی۔‘‘اور پھر ایک طویل ذلت آمیز جدوجہد کے بعد عمران خان وزیر اعظم بنا تو میرے والد جو اُس وقت دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اور میں اُن کے جنازے میں اُس وقت شریک ہوا جب انہیں قبر میں اتارا جارہا تھا ۔کیوں کہ اُس دن میں عمران خان کے ساتھ جنوبی وزیرستان تھا اورمجھے لاہور پہنچتے ہوئے بہت دیر ہوچکی تھی۔ہم نے تحریک انصاف بنانے کیلئے اپنوں کے جنازے اور شادیاں چھوڑی ہیں لیکن جب عام آدمی کو ڈلیور کرنے کی باری آئی تو عمران خان عام آدمی سے دور چلا گیا اُسے آج بھی عام آدمی کی صرف اپنے جلسوں کیلئے ضرورت ہے۔
عمران خان کے امریکہ مخالف بیانیے کی پیدائش میرے سامنے ہوئی ہے ورنہ کنٹینر پر چڑھنے سے پہلے تو وہ امریکہ کے مخالف بولنے والے مقررین کی تقاریر کٹوا دیا کرتاتھا اور اس کیلئے مجھے کسی چشم دید کی ضرورت نہیں ۔مجھے ریاست مدینہ سمجھ آتی تھی لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ عمران خان مدینے کا رستہ دکھا کر پاکستانیوں کو کوفے لے آئے گا ۔وہ جتنی جلدی ساتھیوں کی حمایت سے دستبردار ہوتا ہے اتنی جلدی تو کوفی بھی اپنی حمایت سے دستبردار نہیں ہوئے تھے ۔ کل اُس کے پاس دوسری جماعتوں پر تنقید کرنے کیلئے مواد تھا لیکن آج وہ چاہتا ہے کہ اُس کے حمایتی چوروں کو کچھ نہ کہا جائے ۔کل اُس کا نعرہ تھا :’’این آر او نہیں دوں گا ‘‘۔آج اُسے این آر او مل نہیں رہا ۔ کل تک وہ اقتدار میں نہیں تھا آج لوگ اُس سے کارکردگی بارے سوال کرتے ہیں لیکن اُس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ۔ انقلاب کی یہ تعریف سو فیصد غلط ہے کہ میں اس نظام کوہٹانا چاہتا ہوں ۔انقلاب پہلے نظام کو ہٹانے اور نیا نظام عوام کے سامنے پیش کرنے اور عوام کو اُس پر متفق کرنے کا نام ہے ۔ یہ بے سمت ہجوم پاکستان کو سری لنکا بنا سکتا ہے ‘ افغانستان بنا سکتا ہے لیکن ریاست مدینہ بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ ریاست مدینہ ابوجہل کوقتل کر کے بنی تھی سارے عرب کے ابوجہل ملا کر معرض وجود میں نہیں آئی تھی ۔آج نون لیگ کے پاس ابھی تک کوئی بیانیہ نہیں اور اُن سے بیانیہ اُتنی دیر تک بنے گا بھی نہیں جب تک وہ عمران خان کے ساتھ عمران خان کے لہجے میں بات نہیں کریں گے۔ امپورٹڈ حکومت نامنظور کہنے والے سے کوئی یہی پوچھ لے کہ غیر منتخب امپورٹڈ مشیر کیسے منظور ہو گئے تھے ؟جب تحریک انصاف کے ورکر جدوجہد کر رہے تھے اُس وقت مشرف کابینہ کے منسٹر بعدازاں کیسے منظور ہوگئے تھے ؟ ہیوی ویٹ لانے کیلئے کب ورکروں کو اعتماد میں لیا گیا ؟ مسٹر عمران خان لوگ استخارے میں بیٹیوں کے رشتے نکالتے ہیں آپ نے تو 13 کروڑعوام کیلئے ایک نیم پاگل وزیر اعلیٰ نکال کردے دیا ۔

تبصرے بند ہیں.