کرگس کا جہاں اور شاہین کا جہاں اور…

22

وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے باعث ملک میں ایک بار پھر سیاسی طوفان اٹھا ہوا ہے۔ ماضی کی عدم اعتماد یا کوئی بھی حکومت مخالف تحاریک دیکھی جائیں تو 50 کے قریب ممبران قومی اسمبلی کا کردار اہم ہوتا ہے۔ یہ 50 ایم این ایز مختلف مواقع پر مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق، جمعیت علما اسلام اور پاکستان تحریک انصاف کے حق میں وفاداریاں تبدیل کرتے رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کا اپنا ایجنڈا ہوتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ وفاداریاں اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر تبدیل کی جاتی رہی ہیں۔ اب بھی یہی تماشا ہو رہا ہے۔ کم و بیش یہی 50 کے قریب ممبران قومی اسمبلی ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر ضمیر فروشی کرتے رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ سیاسی پارٹیاں بھی حسب ضرورت استعمال ہوتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے ان مہروں کو اپنی صفوں میں جگہ دیتی رہی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی 50 ممبران قومی اسمبلی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق اور جمعیت علما اسلام کی پیٹھ میں بار بار چھرا گھونپتے رہے ہیں لیکن یہ پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر پھر بھی حکومت سازی کے لیے انہیں گلے لگاتی رہی ہیں۔ 2018 کے انتخابات سے قبل ان 50 کے قریب لوٹوں کو الیکٹ ایبلز کا نام دے کر پی ٹی آئی میں شامل کرایا گیا۔ اس وقت بھی میں نے ایک معاصر اخبار میں کالم میں لکھا تھا کہ پی ٹی آئی کچے گھڑے پر دریا پار کرنا چاہتی ہے اور اگر یہ لوٹے مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے نہیں ہو سکے تو سیاست میں نووارد پی ٹی آئی بھی انہی کے ہاتھوں بلیک میل ہو گی۔ اور وہی ہوا گو اس وقت اس فہرست سے کافی دوستوں نے مجھ پر اعتراض کیا لیکن میں نے کہا کہ یہ میرا تجزیہ ہے جو ہمیشہ سچ ثابت ہوا اور آج 2022 میں جس تیزی سے یہ لوگ وفاداریاں تبدیل کر رہے ہیں، میری بات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ایسا تب تک ہوتا رہے گا جب تک سیاسی پارٹیاں اسٹیبلشمٹ کی آلہ کار بنتی رہیں گی۔
ذیل میں ان 50 اراکین کی فہرست ہے جو مختلف ادوار میں اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے رہے ہیں اور آج بھی ان میں سے اکثر ڈوبتے جہاز سے چھلانگ لگانے کو تیار ہیں۔ ماضی میں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے 50 کے لگ بھگ اراکین قومی اسمبلی، جو ہر حکومت کا حصہ رہے، کی فہرست درج ذیل ہے اب سیاسی جماعتوں یا عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ پھر ایک بار عام انتخابات میں ان کو موقع دیں گے۔ اس فہرست کی تیاری میں نیو ٹی وی کے افضل عباسی صاحب کی بھی معاونت شامل رہی ہے۔
شیر اکبر خان (بونیر) (تحریک انصاف سابقہ جماعت اسلامی)
پرنس محمد نواز الائی (بٹگرام) (تحریک انصاف سابقہ مسلم لیگ ق)
عمر ایوب خان (ہری پور) (تحریک انصاف سابقہ ن لیگ، ق لیگ)
انجینئر عثمان ترکئی (صوابی) (تحریک انصاف سابقہ اے جے آئی پی)
پرویز خٹک (نوشہرہ) (تحریک انصاف سابقہ پیپلزپارٹی، پیپلزپارٹی شیرپاؤ)
نور عالم خان (پشاور) (تحریک انصاف سابقہ پیپلزپارٹی)
نورالحق قادری (خیبر) (تحریک انصاف سابقہ آزاد)
جواد حسین طوری (کرم) (تحریک انصاف سابقہ آزاد)
میجر (ر) طاہر صادق (اٹک) (تحریک انصاف سابقہ ق لیگ، ن لیگ)
غلام سرور خان (راولپنڈی) (تحریک انصاف سابقہ پیپلز پارٹی، ق لیگ)
ذوالفقار علی خان (چکوال) (تحریک انصاف سابقہ ن لیگ)
چودھری فواد حسین (جہلم (تحریک انصاف سابقہ اے پی ایم ایل، ق لیگ، پیپلزپارٹی)
چودھری فرخ الطاف (جہلم) (تحریک انصاف سابقہ ق لیگ)
شوکت علی بھٹی (حافظ آباد) (تحریک انصاف سابقہ ق لیگ)
عامر سلطان چیمہ (سرگودھا) تحریک انصاف سابقہ ن لیگ، ق لیگ)
ملک عمر اسلم اعوان (خوشاب) (تحریک انصاف سابقہ ق لیگ، ن لیگ)
ثناء اللہ مستی خیل (بھکر) (تحریک انصاف سابقہ ق لیگ، ن لیگ)
افضل خان ڈھانڈلہ (تحریک انصاف سابقہ ن لیگ )
غلام محمد لالی (چنیوٹ) (تحریک انصاف سابقہ ن لیگ)
عاصم نذیر (فیصل آباد) (تحریک انصاف سابقہ ن لیگ، ق لیگ)
نواب شیر وسیر (فیصل آباد) (تحریک انصاف سابقہ پیپلزپارٹی)
رضا نصراللہ (فیصل آباد) (تحریک انصاف سابقہ ن لیگ)
فیض اللہ کموکا (فیصل آباد) (تحریک انصاف سابقہ پیپلزپارٹی)
راجہ ریاض (فیصل آباد) (تحریک انصاف سابقہ پیپلزپارٹی)
ریاض فتیانہ (ٹوبہ ٹیک سنگھ) (تحریک انصاف سابقہ ن لیگ، ق لیگ)
صاحبزادہ محبوب سلطان (جھنگ) (تحریک انصاف سابقہ ق لیگ، ن لیگ)
غلام بی بی بھروانہ (جھنگ) (تحریک انصاف سابقہ ن لیگ، ق لیگ)
شفقت محمود (لاہور) (تحریک انصاف سابقہ پیپلزپارٹی)
ملک کرامت کھوکھر (لاہور) (تحریک انصاف سابقہ پیپلزپارٹی)
سردار طالب حسین نکئی (قصور) (تحریک انصاف سابقہ ق لیگ، مسلم لیگ ج)
سید فخر امام (خانیوال) (تحریک انصاف سابقہ ق لیگ، ن لیگ، پیپلزپارٹی)
احمد حسین ڈیہڑ (ملتان) (تحریک انصاف) (سابقہ پیپلزپارٹی)
ملک عامر ڈوگر (ملتان) (تحریک انصاف سابقہ پیپلزپارٹی)
مخدوم شاہ محمود قریشی (ملتان) (تحریک انصاف) (سابقہ ن لیگ، پیپلزپارٹی)
رانا قاسم نون (ملتان) (تحریک انصاف سابقہ ن لیگ)
میاں محمد شفیق (لودھراں) (تحریک انصاف سابقہ پیپلز پارٹی)
طاہر اقبال (وہاڑی) (تحریک انصاف سابقہ ق لیگ، ن لیگ)
اورنگزیب خان کھچی (وہاڑی) (تحریک انصاف سابقہ ق لیگ)
فاروق اعظم ملک (بہاول پور) (تحریک انصاف سابقہ نیشنل الائنس، پیپلزپارٹی)
مخدوم خسرو بختیار (رحیم یار خان) (تحریک انصاف سابقہ ق لیگ، ن لیگ)
جاوید اقبال وڑائچ (رحیم یار خان) (تحریک انصاف) (سابقہ پیپلزپارٹی)
مخدوم باسط سلطان بخاری (مظفرگڑھ) (تحریک انصاف) (سابقہ ق لیگ، ن لیگ)
نیاز احمد جھکڑ (لیہ) (تحریک انصاف سابقہ پیپلز پارٹی، ق لیگ)
خواجہ شیراز محمود (ڈی جی خان) (تحریک انصاف) (سابقہ ق لیگ، پیپلزپارٹی)
امجد فاروق خانہ کھوسہ (ڈی جی خان) (تحریک انصاف) (سابقہ ن لیگ)
سردار محمد خان لغاری (ڈی جی خان) (تحریک انصاف سابقہ ق لیگ)
سردار محمد جعفر خان لغاری (راجن پور) (تحریک انصاف سابقہ نیشنل الائنس، ق لیگ، ن لیگ)
نصراللہ خان دریشک (راجن پور) (تحریک انصاف سابقہ ق لیگ)
میاں محمد سومرو (جیکب آباد) (تحریک انصاف سابقہ ق لیگ)
عامر لیاقت حسین (کراچی شرقی) (تحریک انصاف سابقہ ایم کیو ایم)
عبدالشکور شاد (کراچی جنوبی) (تحریک انصاف سابقہ پیپلز پارٹی)
قارئین یہ فہرست انتہائی احتیاط سے تیار کی گئی اور کسی بھی غلطی کی پیشگی معذرت۔
پی ٹی آئی کی مخصوص سیٹوں سے خواتین کی مخصوص سیٹوں پر منتخب ہونے والی وجیہہ اکرم جو اب وجہیہ قمر بن چکی ہیں 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی سے خواتین کی مخصوص نشست پر ایم این اے منتخب ہوئیں۔ 2013 کے انتخابات میں اِنہوں نے نارووال کے حلقہ این اے 116 سے آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لیا تھا اور نو ہزار سے زائد ووٹ لیے تھے۔
اسی طرح حیدر آباد سے تعلق رکھنے والی نزہت پٹھان کی سیاست کا آغاز پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ہوا تھا۔ 2002 کے الیکشن میں مخصوص نشست پر پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے سندھ اسمبلی کی رکن بنی تھیں۔ پھر یہ پی پی پی سے منحرف ہو کر ق لیگ میں شامل ہو گئیں۔ 2008 کے الیکشن میں یہ خواتین کی مخصوص نشست پر ق لیگ کی امیدوار کے طور پر اسمبلی کی ممبر بن گئیں۔ 2011 میں یہ ق لیگ سے الگ ہو کر ’پاکستان مسلم لیگ ہم خیال‘ کا حصہ بن گئیں۔ جبکہ اکتوبر 2016 میں انہوں نے پی ٹی آئی کو جوائن کر لیا۔ 2018 کے انتخابات میں وہ سندھ سے خواتین کی مخصوص سیٹ پر ایم این اے منتخب ہوئیں۔
فہرست میں موجود تمام ممبران کا وفاداریاں تبدیل کرنے کا کم و بیش یہ ریکارڈ رہا ہے۔ اب ان موسمی پرندوں کا ایک بار پھر سفر کا وقت ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہوتی رہیں گی۔ گو کہ گنے چنے لوگ ایسے بھی ہیں جو کہ تمام تر دباؤ کے باوجود بھی جہاں کھڑے ہیں کھڑے ہیں اور ان میں سر فہرست دیگر کے علاوہ فواد چودھری بھی شامل ہیں۔ انہی کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا ہے۔۔
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
کالم کے بارے میں اپنی رائے اس وٹس ایپ 03004741474 پر بھیجیں۔

تبصرے بند ہیں.