جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کیخلاف ہتک عزت کا فوجداری مقدمہ دائر کرنے کا اعلان

56

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ وجیہہ الدین احمد ایک نیا مسخرہ آیا ہے جس کے خلاف ہم نے ہتک عزت کا فوجداری مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے علاوہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے اپیل کرتے ہیں کہ ہتک عزت کے مقدمات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کے حق کیساتھ ذمہ داری کا حق بھی آتا ہے لیکن یہاں روزانہ کی بنیاد پر ملک کے اعلیٰ ترین سول حکمران، فوجی جرنیل، اداروں اور عدلیہ کے خلاف سوچی سمجھی مہم چلائی جاتی ہیں، تمام بڑے ٹیلی ویژن چینلز کو باہر روانہ جرمانے بھی ہوتے ہیں جو یہ ادا بھی کرتے ہیں لیکن پاکستان میں کوئی قانون ہے اور نہ کسی قانون پر عملدرآمد ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میڈیا کی آزادی کو پاکستان کے نظام کو کمزور کرنے کیلئے ایک خاص مہم کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے، وزیراعظم عمران خان کی ذات کو جس طرح سے نشانہ بنایا گیا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے، عمران خان کو اگر اتنا ہی پیسوں کا مسئلہ ہوتا تو اپنی زندگی میں انہوں نے جو کچھ کمایا، ورلڈکپ جیتنے اور بھارت کے خلاف جیتنے پر جو پلاٹس ملے وہ شوکت خانم کو وقف نہ کرتے، برطانیہ میں قانون ہے کہ اگر طلاق ہوتی ہے تو میاں بیوی جائیداد کے 50,50 فیصد کے حصہ دار ہوتے ہیں اور عمران خان کی پہلی اہلیہ جمائمہ کا تعلق برطانیہ کے امیر ترین خاندان کیساتھ ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کو پیسوں کا لالچ ہوتا اور وہ 50 لاکھ روپے ماہانہ خرچ کر رہے ہوتے تو جمائمہ کی جائیداد میں 50 فیصد حصہ بھی لیتے تو آج ارب پتی ہوتے، مگر انہوں نے کبھی ایک روپیہ نہیں لیا حالانکہ یہ ان کا قانونی حصہ بنتا تھا، اس کے علاوہ وزیراعظم نے پاکستان کے خزانے پر کھی بوجھ نہیں ڈالا، ایک نیا مسخرہ آیا ہے وجیہہ الدین احمد جس نے وزیراعظم پر الزامات عائد کئے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جہانگیر ترین نے ایک معزز آدمی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے اس طرح کے کوئی بھی اخراجات نہیں دئیے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میڈیا چینلز اور خود وجیہہ الدین کا کیا کیا جائے، نجم سیٹھی پر تین سال سے مقدمہ چل رہا ہے اور وہ اب بھی کہیں نہیں جا رہا، پمیرا نے ایکشن لیا تو اس پر سٹے لے لیا گیا جو ابھی تک چل رہا ہے، عدالتی نظام انفرادی شخص کی عزت نفس کی حفاظت میں ناکام ہو رہا ہے، خصوصاً وزیراعظم کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے تو اس سے پورے ملک کے عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، اس لئے ہم نے وجیہہ الدین پر ہتک عزت کا فوجداری مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اس کیساتھ ہی سپریم کورٹس اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے بھی اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ وزیراعظم بھی ایک ادارہ ہے، اس کی عزت کو بحال رکھنا ار اس کی عزت کی حفاظت رکھنا قانونی اعتبار سے بہت اہم ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ کسی کی بھی تذلیل کوئی مسئلہ ہی نہیں، اور ہم دیکھتے ہیں کہ عدالتوں میں ہتک عزت کے مقدمات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ چیف جسٹس صاحبان ڈسٹرکٹ اور ہائیکورٹ کی سطح پر بھی سپیشل ڈویژن بینچ قائم کریں جو ان مقدمات کو سنیں تاکہ پاکستان میں ایک آرڈر قائم ہو سکے۔

تبصرے بند ہیں.