سابق حکمرانوں سے برآمد لاکھوں ڈالر طالبان نے مرکزی بینک میں جمع کرا دیے

31

کابل: طالبان نے سابق حکومتی عہدیداروں سے برآمد ہونے والے ایک کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالرز اور سونے کی اینٹیں مرکزی بینک میں جمع کرادیں۔

افغانستان کے مرکزی بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق طالبان کی جانب سے سابق نائب صدر امراللہ صالح اور دیگر حکومتی عہدیداروں سے برآمد ہونے والے ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد امریکی ڈالرزاور سونا مرکزی بینک میں جمع کرایا گیا ہے۔

افغان مرکزی بینک کا کہنا تھاکہ عبوری حکومت نظام میں شفافیت کیلئے پرعزم ہے اور اس لیے برآمد شدہ رقم مرکزی بینک کے حوالے کی۔

افغانستان کے مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈالرز کی بڑی تعداد ٹیبل پر رکھی ہوئی ہے اور ساتھ ہی نوٹ گننے والی مشینیں بھی موجود ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں طالبان نے سابق نائب صدر امراللہ صالح کے گھر سے 65 لاکھ امریکی ڈالرز اور سونا برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس سے قبل طالبان نے سرحدی چوکیوں سے بھی امریکی اور پاکستانی کرنسی قبضے میں لی تھی۔

دوسری جانب افغانستان میں حکومت سازی کے معاملے پر طالبان کے دو سینیئر رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔طالبان ذرائع نے برطانوی نشریاتی ادارے کی پشتو سروس کو بتایا کہ طالبان کے شریک بانی اور عبوری نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر اور کابینہ کے ایک رکن کے درمیان صدارتی محل میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں ملا برادر کے منظر عام سے غائب ہوجانے کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں کہ تنظیم میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں تاہم ان کی طالبان کی جانب سے تردید کردی گئی تھی۔ تاہم اب ایک طالبان ذرائع نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ نائب وزیر اعظم ملا برادر اور وزیر برائے مہاجرین خلیل الرحمان حقانی، جو حقانی نیٹ ورک کے سرکردہ رہنما بھی ہیں، کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جب کہ صدارتی محل میں موجود دونوں رہنماؤں کے پیروکاروں نے بھی ایک دوسرے سے تکرار کی۔

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے رکن اور جھگڑے میں ملوث رہنماؤں میں سے ایک کے قریبی شخص نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ جھگڑا گذشتہ ہفتے ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بحث طالبان کی نئی حکومت کے ڈھانچے سے متعلق شروع ہوئی کیوں کہ ملا برادر عبوری حکومت کے اسٹرکچر سے خوش نہیں تھے۔

تبصرے بند ہیں.