شادی کرنے کی صیح عمر 26 سال ہے، ماہرین

219

کینبرا: پاکستانی معاشرے میں شادی کرتے ہوئے اکثر یہ بات ذہن میں رکھی جاتی ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان عمر کا فرق کتنا ہونا چاہیے اور کس عمر میں شادی کر لینی چایئے، اب ماہرین نے شادی کی صیح عمر کا تعین کر لیا ہے۔

 

پاکستان میں یہ رواج عام ہے کہ شادی کے لیے عورت کی عمر مرد سے چند سال کم ہی ہونی چاہیے اور اگر کوئی مرد اپنے سے کچھ سال بڑی عمر کی عورت سے شادی کر لے تو اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اگر کوئی لڑکی کسی ادھیڑ عمر مرد سے شادی کر لے تو اسے بھی اکثر لوگ عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں۔

 

ایسے جوڑوں پر طرح طرح کے جملے کسے جاتے ہیں اور کبھی ان کی پیٹھ پیچھے اور کبھی ان کے سامنے ہی ان کو برا بھلا کہہ کر تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

 

اب ماہرین نے ایک نئی تھیوری پیش کی ہے کہ لڑکے اور لڑکی کے اپنے جیون ساتھی کے انتخاب کی بہتر اور صیح عمر 26 سال ہے۔

 

ٹام گریفیس اور برائن کرسچن نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ لوگ اپنے جیون ساتھی کے انتخاب میں زیادہ وقت لگا لیتے ہیں تاہم 26 سال کی عمر میں شادی کرنی چاہئے کیونکہ ان کے لئے زندگی کا ساتھی بننے کا بہترین وقت ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر کوئی شخص اپنے جیون ساتھی کے انتخاب کے دوران 37 فیصد راستہ طے کر لیتا ہے تو یہ اس کے لئے مناسب وقت ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ کر لے۔

 

اس کے علاوہ ٹام گریفیس اور برائن کرسچن نے اپنی تھیوری میں یہ بتایا ہے کہ اگر کوئی شخص 18 سے 40 سال کی عمر کے درمیان اپنا جیون ساتھی ڈھونڈ رہا تو پھر 26 سال کی عمر ان کے لئے مثالی ہے کیونکہ آپ 22 سال کی عمر میں 37 فیصد کر چکے ہوتے ہیں۔

 

 

 

تبصرے بند ہیں.