وزیراعظم عمران خان نے شہباز شریف کے ہتک عزت کے دعوے کا جواب جمع کروا دیا

178

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی جانب سے دائر ہتک عزت کے دعوے کا جواب جمع کروا دیا۔

 

عمران خان نے شہباز شریف کا ہتک عزت کا دعویٰ جرمانے کے ساتھ خارج کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔

 

عمران خان کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف یا شہباز شریف کی طرف سے رقم کی آفر براہ راست نہیں آئی بلکہ کسی کے ذریعے آئی تھی اور عمر فاروق نامی شخص نے بتایا کہ آفر ہے اگر عمران خان پانامہ لیکس کی پیروی چھوڑ دیں تو وہ بھاری رقم دینے کو  تیار  ہیں۔

 

جواب میں کہا گیا ہے کہ نواز  شریف اور  شہباز  شریف نے ماضی میں ایک آرمی چیف کو بی ایم ڈبلیو گاڑی دینے کی کوشش بھی کی، شہباز  شریف کی ایک جج کے ساتھ آڈیو ٹیپ بھی منظر عام پر آ چکی ہے۔

 

وزیراعظم کی جانب سے کی گئی استدعا کےمطابق شہباز شریف پر الزامات ہتک عزت کے دعوے میں نہیں آتے، شہباز شریف نے قانون کے مطابق 60 دن میں کوئی خاص نوٹس نہیں بھیجا، شہباز  شریف نے 8 مئی 2017 کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر صرف لیگل نوٹس بھیجا۔ ہتک عزت کے دائر دعوے کے جواب میں کہا گیاہے کہ شہباز شریف دو دہائیوں سے سیاسی مخالف ہے، شہباز شریف بدنام کرنے کے لیے خود کئی بیانات دے چکے ہیں۔

 

جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رشوت کی آفر کے بارے میں جیسے بتایا گیا اسی طرح ہی بیان دیا گیا، شہباز  شریف کی شہرت میرے بیان کے باعث نہیں کسی اور  وجہ سے متاثر ہوئی ہوگی، شہباز  شریف کی جانب سے دعویٰ جھوٹا، بے بنیاد اور حقائق کو مسخ کر کے دائر کیا گیا، شہباز شریف سیاسی معاملات کو عدالتوں میں گھسیٹنا چاہ رہے ہیں، شہباز شریف کی جانب سے دائر کیا گیا دعویٰ اس عدالت کے دائرہ اختیار  میں نہیں آتا۔

 

عمران خان کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ شہباز  شریف کے دعوے کو جرمانے کے ساتھ خارج کیا جائے اور شہبازشریف سے وکیل کی فیس بھی وصول کی جائے۔

 

یاد رہے کہ شہباز شریف نے پانامہ لیکس کے معاملے پر عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔

تبصرے بند ہیں.