آپ کا زور کشمیر میں دیکھ لیا، خیبر پختونخوا کے عوام نکل آئے تو کیا حال ہوگا:وزیراعلیٰ کے پی نے وفاق کو 15 دن کی مہلت دے دی

25

پشاور: وزیر اعلی  خیبرپختونخوا  علی امین گنڈاپورکاکہنا ہےکہ  آپ کا زور کشمیر میں دیکھ لیا، خیبر پختونخوا کے عوام نکل آئے تو کیا حال ہوگا۔صوبائی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کہا  کہ آپ کا زور کشمیر میں دیکھ لیا، کشمیریوں کے سامنے ایک دن میں حکومت کی ہوا نکل گئی، خیبر پختونخوا کے عوام نکل آئے تو کیا حال ہوگا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس سال کے 50 ارب روپے وفاق سے 2 مہینے میں مانگ لیے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی بجلی آن اور آف کرنے کا بٹن خیبر پختونخوا کے پاس ہے، بیٹھیں اور مسائل حل کریں ورنہ غیر ذمہ دار لفظ چھوٹا ہوگا، بات نہ سنی گئی تو خیبر پختونخوا میں واپڈا کے دفاتر ٹیک اوور کر کے دکھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں حیران ہوں سیاسی جماعتیں انتخابات پر خاموش تھیں، اپوزیشن نے بجٹ بحث میں الزامات اپنے آپ پر لگائے ہیں، ہماری 9 سال میں کارکردگی کیا رہی ؟ خیبر پختونخوا میں ہماری اکثریت دیکھ لیں، ہمارا منیڈہٹ چوری ہوا حلقے ضرور کھلیں گیں، ہم اپنے حلقے کھولنے کے لیے تیار ہیں۔

علی امین نے کہا کہ 3 سو ارب روپے وفاق نے ہمیں کم دیے، آئی ایم ایف کی شرائط ہیں جس کے تحت 30 جون تک 96 ارب روپے پورا کرکے دوں گا، یہ بتائیں کیا سندھ اور پنجاب اپنا ذمہ داری پوری کریں گے؟۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے عوام نے قربانیاں دیں، قبائلی عوام نے جان مال کی قربانی دی، وفاق آج بھی قبائلی عوام کو حق نہیں دے رہا، پاکستان کے لیے قربانی ہم دے رہے ہیں اور ہم ہی دیں گے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے کے مختلف شہروں میں 22، 22 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، ہم نے آپ کا زور آزاد کشمیر میں دیکھ لیا، مجھ سے بات کیے بغیر کسی کا باپ بھی میرے صوبے پر ٹیکس نہیں لگا سکتا، بجلی کا مسئلہ 15دن میں حل نہ ہوا تو بجلی کا بٹن آن آف میں کروں گا، مجھ سے بات نہ کی تو پیسکو ہیڈ آفس ٹیک اوور کرکے دکھاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک یونٹ بھی کوئی چوری نہیں کرسکتا جب تک واپڈا والے نہ چاہیں، اندازہ نہیں آپ کو واسطہ کس سے پڑا ہے، میرا لیڈر ڈٹ گیا ہے وہ اسے نہیں توڑ سکے، جو ہوگا ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے سے ہوگا، عوام میری ٹیم ہے کرپشن برداشت نہیں کروں گا۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ نان فائلر پر ٹیکس لگایا، امیر غریب میں فرق نہیں،یہ ظلم ہے، صوبے کے معاملات صوبے کے ساتھ ہی بیٹھ کر حل ہوں گے، اپنے عوام کیلئے چور کا لفظ برداشت نہیں کروں گا۔

تبصرے بند ہیں.