وفاقی کابینہ اجلاس ، ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کے مسودے کی منظوری

24

اسلام آباد :وفاقی کابینہ اجلاس  میں  ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کے مسودے کی منظوری مل گئی۔ رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں کمیٹی ترامیم پر اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے گی۔ پیکا ایکٹ میں ترامیم کے مسودے کی بھی منظوری دی گئی، اجلاس میں مختلف جرائم کی سزاؤں میں کئی گنا اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وفاقی کابینہ ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کے مسودے کے قیام کے معاملے پر اتحادیوں کی کمیٹی تشکیل دے دی، کمیٹی اتھارٹی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے کام کرے گی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیکا ایکٹ میں ترامیم کے مسودے کی بھی منظوری دی گئی ۔ مسودات قانون کو پارلیمنٹ میں قانون سازی کیلئے پیش کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ پیکا ایکٹ 2016کے مقابلے میں مختلف جرائم کی سزاؤں میں کئی گنا اضافہ اور مختلف جرائم کے ناقابل ضمانت قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

نئے مجوزہ پیکا قانون میں سائبر ٹیررازم سے متعلق خصوصی سیکشن مختص کردیا گیا نئےمجوزہ قانون میں سائبرٹیررازم کی تعریف بھی تبدیل کردی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق کسی برادری یا فرقے میں خوف یا عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا سائبر ٹیررازم

کہلائے گا، معاشرے میں خوف یا عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا بھی سائبرٹیررازم تصور ہوگا۔ کالعدم تنظیموں، افراد یا گروہوں کے مقاصد کو آگے بڑھانا بھی سائبر دہشت گردی کہلائے گا.

مجوزہ قانون میں سائبر ٹیررازم سے متعلق کیسز نیشنل سائبرکرائم انوسٹیگیشن اتھارٹی کے پاس جائیں گے، سائبرکرائم انوسٹی گیشن اتھارٹی پولیس اور ایف آئی اے کی پاور اور وسائل استعمال کرسکے گی سائبرکرائم انوسٹی گیشن اتھارٹی کسی بھی ملزم اور مجرم کی جائیداد ضبط کرنے کی مجاز ہوگی، سائبرکرائم کے سیکشن 8 کی سزائیں 3 سال سے بڑھا کر 7 سال کردی گئیں۔

ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک کی اجازت کے بغیر ورچوئل یا کرپٹوکرنسی کے استعمال پر 5 سال کی سزا، الیکٹرانک ڈیوائس کی سپلائی پر سزا 6ماہ سے بڑھا کر3 سال کرنے، بغیر اجازت کسی کی شناختی معلومات استعمال کرنے پر سزا 3 سال سے بڑھا کر 7 سال کرنے او ر غیرقانونی وائس ٹریفک ٹرانسمیشن کی سزا 3 سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

تبصرے بند ہیں.