وفاقی حکومت کا اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتیوں پر آئینی ترمیم کا فیصلہ

123

اسلام آباد: چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کے رولز میں ترامیم کا اجلاس ملتوی ہوگیا۔ وفاقی حکومت کا اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتیوں پر آئینی ترمیم کا فیصلہ کر لیا۔

 

وفاقی وزیرِ قانون نے اجلاس کی ابتدا میں کہا کہ حکومت نے  ججوں کی تعیناتی کے طریقِ کار کے متعلق آئینی دفعات میں ترمیم   پر کام شروع  کردیاہے۔جس پر جسٹس یحیی آفریدی  نے کہامیں ان مجوزہ رولز پر کوئی رائے نہیں دوں گا، جوڈیشل کمیشن کے تمام ججز کا جسٹس یحییٰ آفریدی سے اتفاق کیا۔

 

ذرائع  کے مطابق وفاقی وزیرِ قانون نے اجلاس کی ابتدا میں کہا کہ حکومت ججوں کی تعیناتی کے طریقِ کار کے متعلق آئینی دفعات میں ترمیم کی جائے جس پر کام شروع ہوچکا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے وزیر قانون سے استفسار کیا ک کیا ان ترامیم کے نتیجے میں ممکنہ طور پر جوڈیشل کمیشن کی ساخت تبدیل ہوسکتی ہے؟،جس پر وزیر قانون نے جواب دیا کہ اس بات کا واضح امکان ہے۔

 

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پھر کمیشن کے رولز میں مجوزہ تبدیلیوں پر بحث کی ضرورت نہیں ہے۔جس پر  چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد نے رائے دی کہ آئینی ترمیم جب ہوگی تب دیکھی جائے گی، فی الحال ان رولز پر اتنا کام ہوا ہے تو یہ محنت ضائع نہ ہو۔

 

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ان حالات میں تو میری رائے یہ ہے کہ میں ان مجوزہ رولز پر کوئی رائے نہیں دوں گا، جس پر جوڈیشل کمیشن کے تمام ججز نے جسٹس یحییٰ آفریدی سے اتفاق کیا۔

 

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ رولز پر بحث بے شک مؤخر کردیں لیکن ہماری ہائی کورٹ میں مزید ججز کی ضرورت ہے، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی رائے دی کہ پشاور ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی موجودہ رولز پر کی جائے۔ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی اس رائے پر ہائی کورٹس کے دیگر چیف جسٹس نے اتفاق کیا۔

 

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کمیشن میں موجود ججز بے شک اپنی رائے ابھی نہ دیں لیکن اگر بار کونسلوں کے نمائندے ان رولز پر اپنا موقف دینا چاہتے ہیں تو ان کو سن لیتے ہیں۔

 

بار کونسلوں کے نمائندوں نے بھی رولز میں ترامیم پر بحث مؤخر کرنے کی رائے دی اور جس کے بعد  اجلاس موخر کر دیا گیا۔

تبصرے بند ہیں.