حساس معلومات کے تحفظ اور سائبر حملے روکنے کیلئے وفاقی حکومت کے سیکیورٹی اقدامات

36

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے حساس معلومات کے تحفظ کے لیے سائبر محاذ پر سیکیورٹی اقدامات کے تحت صدر مملکت، وزیراعظم آفس سمیت ڈیڑھ درجن وزارتوں، اداروں کے آئی ٹی سیکیورٹی کا آڈٹ کیا گیا ہے۔

 

صدر اور وزیرِاعظم آفس کا آئی ٹی سیکیورٹی آڈٹ مکمل کیا گیا، داخلہ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور آبی وسائل کی وزارتوں کا آئی ٹی سیکیورٹی آڈٹ کیا گیا۔

 

ذرائع این ٹی آئی ایس بی کے مطابق آئی ٹی سیکیورٹی آڈٹ میں سیفٹی کے معیارات پر پورا نہ اترنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ نیشنل ٹیلی کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکیورٹی بورڈ نے کیا، آئی ٹی آڈٹ میں سائبر حملوں اور بریچ کی ایولیویشن اور تحقیقات کی گئیں۔

 

سائبر آڈٹ والے ڈویژنز اور اداروں میں کابینہ ڈویژن، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شامل ہیں۔ وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال بھی کی گئی، اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کی ویب سائٹ، سی پیک سیکریٹریٹ پر سائبر حملےکی ایولیویشن کی گئی۔

 

نیپرا کی ویب سائٹ کی سائبر سیکیورٹی بریچ پر تحقیقات مکمل کی گئیں، بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی ویب سائٹ کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی جبکہ پاور ڈویژن کے آئی ٹی نیٹ ورک اور ڈیٹا سینٹر کی ٹیکنیکل ایولیویشن کی گئی اور  گندم کے بیج کی تقسیم، سستا آٹا ایپلیکیشن سے متعلق ٹیکنیکل جانچ پڑتال بھی کی گئی۔

 

ذرائع کے مطابق سیکیورٹی آڈٹ میں پتہ چلا کہ مختلف وزارتوں اور ڈویژنز نے اہم اقدامات نظر انداز کیے، محفوظ انٹر نیٹ تک رسائی کے اقدامات نظر انداز کرنے کی نشاندہی کی گئی، پاس ورڈ مینجمنٹ اور ڈیوائس کنٹرول میکنزم جیسے اقدامات نظر انداز کیے گئے۔

 

حکومت نے حساس ڈیٹا کی حفاظت کیلئے سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری بھی جاری کر دی۔تھرڈ پارٹی میڈیا پارٹی پر منحصر ادارے مختلف تصدیقی نظام اپنائیں ،سرکاری ادارے اپلیکیشن لیول سیکورٹی کا طریقہ کار اپنائیں ، ایک حالیہ پیشرفت میں، وفاقی حکومت نے”تھرڈ پارٹی فائبر آپٹکس“ کے ذریعے فراہم کی جانے والی انٹرنیٹ سروسز کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے،حکومت نے ان رابطوں کو غیر محفوظ تصور کیا ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.