بانی پی ٹی آئی پر پہلے بھی حملہ ہوچکا ہے، چیک کریں کہ ان کو جیل میں کس لیول کے سیکیورٹی خدشات ہیں، لاہور ہائیکورٹ

41

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل میں درپیش سیکیورٹی خدشات کا لیول چیک کرنے کی ہدایت کردی۔

 

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے افضال عظیم پاہٹ کی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اڈیالہ جیل میں سکیورٹی کیلئے  درخواست پر سماعت کی۔

 

سماعت کے آغاز میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحٰق نے اپیل کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھا دیا۔انہوں نے کہا کہ میں پٹیشن پر اعتراض کے باجود بانی پی ٹی آئی کے سیکیورٹی خدشات سے متعلق رپورٹ طلب کروں گا، عمران خان ہوں یا اللہ دتہ، ان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری ہماری ہے۔

 

جس پر چیف جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیے کہ ہم مزید کسی بڑے حادثے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں، پہلے بھی لیاقت علی خان اور پھر بینظیر بھٹو کو شہید کردیا گیا تھا۔

 

چیف جسٹس ملک شہزاد احمد نے مزید ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی پر پہلے بھی حملہ ہوچکا ہے، ایڈووکیٹ جنرل چیک کریں کہ بانی پی ٹی آئی کو کس لیول کے سیکیورٹی خدشات ہیں۔

 

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ پٹیشن راولپنڈی بینچ میں سنی جاسکتی ہے لیکن پرنسپل سیٹ پر نہیں۔

 

بعد ازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر درخواست گزار کے وکیل سے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب کرتے ہوئے کارروائی 3اپریل تک ملتوی کردی۔

 

یاد رہے کہ گزشتہ روز  تحریک انصاف لائیرز فورم کے صدر افضال عظیم کی جانب سے بانی پی آئی ٹی کو جیل میں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔درخواست میں وفاقی حکومت اور ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔

 

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ جیل حکام نے سکیورٹی خدشات کے باعث بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں پر پابندی لگا رکھی ہے، بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو جیل میں خطرہ ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔

تبصرے بند ہیں.