عمران خان توبہ کریں: بلاول بھٹو، جیل سے رہائی کی مشروط حمایت

40

اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسٹیبشلمنٹ کا کردار سیاست میں پہلے سے زیادہ نہیں بڑھا، ایسا نہیں ہے کہ اب برا ہورہا ہے ماضی میں اس بھی برا ہوچکا ہے، خان صاحب اگر بے گناہ ہیں تو انہیں جیل میں نہیں ہونا چاہئے اگر گناہ  گارہیں تو جیل میں ہونا چاہیے۔

 

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم ذوالفقار علی بھٹو پھانسی کیس  انتخابات کے بعد نہیں بلکہ انتخابات سے قبل سنے جانے کے حامی ہیں، چاہتے ہیں فیصلہ انتخابات سے قبل آجائے، ہمیں فائز عیسیٰ سے امید تھی کہ کیس مسلسل سنا جائے خیر اب امید ہے کہ انتخابات کے فوری بعد اس کیس کا فیصلہ آجائے گا امید ہے ہمیں اس کیس میں انصاف ملے گا اور تاریخ درست ہوسکے گی۔

 

بلاول بھٹو زرداری  نے  کہا کہ الیکشن 8 فروری کو ہر صورت ہوں گے چاہے اقوام متحدہ قرارداد پاس کردے، اگر تین چار سینیٹر اٹھ کر کچھ کہہ دیں تو ان کی بات زیادہ وزنی ہے یا چیف جسٹس کا آئینی و قانونی فیصلہ زیادہ وزنی ہے؟

 

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کراچی میں پی پی نے بہت ترقی کی ہے، یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کراچی اور بلدیاتی الیکشن دونوں ایک ساتھ جیتے ہیں، ہم ملتان میں جیتے کئی جگہ ن لیگ کو شکست دی، ہم پرامید ہیں کہ کراچی کے عوام اس بار پی پی کو ضرور موقع دیں گے یہ پہلی بار ہوگا کہ کراچی کا بلدیاتی، سندھ کا صوبائی اور پاکستان کا وفاقی نظام پیپلز پارٹی کے پاس ہوگا۔

 

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں اثرو رسوخ کے ذریعے پی ٹی آئی کو زبردستی بلا دلوایا گیا تھا کیوں کہ پاکستان کے عوام کرکٹ سے محبت کرتے ہیں۔جب ہم پر جعلی کیسز بنائے جارہے تھے تو خان صاحب کہتے تھے ادارے آزاد ہیں وہاں صفائی پیش کریں تو آج خان صاحب کو بھی چاہیے کہ اداروں سے رجوع کریں، جو خان صاحب نے کیا وہی بھگت رہے ہیں، جیلوں میں ڈالے جانے کی اور مقدمات بنانے کی روایت صحیح نہیں ہے مگر یہ روایت خود خان صاحب نے قائم کی سب سے پہلے انہیں توبہ کرنی چاہیے اور آئندہ ایسی روایات کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

 

بلاول کا کہنا تھا کہ ہمارے نظام میں اتنی شفافیت نہیں کہ پھانسی کی حمایت کی جائے، خان صاحب کا موقف تھا کہ سارے چوروں کو چوک پر پھانسی دی جائے دوسو بندے مروادیے جائیں تو نظام ٹھیک ہوجائے گا اب میری رائے پوچھنے کے بجائے خان صاحب سے پوچھا کہ آج ان کا موقف کیا ہے؟ سیاست دانوں اور سیاست کارکنوں کو ایسی سزا ملنی چاہیے؟ انہیں اپنا موقف تبدیل کرنا چاہیے۔

 

اسٹیبشلمنٹ کا کردار سیاست میں بہت بڑھ چکا ہے اس سوال میں انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ اب برا ہورہا ہے ماضی میں اس بھی برا ہوچکا ہے، ہم دشمنی کے بجائے اختلاف رکھتے ہیں لیکن خان صاحب اسے جمہوریت نہیں اسے مک مکا کہتے ہیں، شور کیا جارہا ہے کہ کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے اگر گزشتہ انتخابات دیکھے جائیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔

 

 

تبصرے بند ہیں.